Tuesday , December 18 2018

جبری تبدیلی مذہب کو روکنے سخت قانون کو صدر بی جے پی کی تائید

نئی دہلی 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) آگرہ میں ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے تبدیلی مذہب پر بڑھتے ہوئے تنازعہ کے دوران صدر بی جے پی امیت شاہ نے آج جبری تبدیلی مذہب کو روکنے سخت قانون کی تائید کی لیکن اظہار افسوس کیا کہ خود ساختہ سیکولر پارٹیاں پارلیمنٹ میں اس اقدام کی تائید نہیں کریں گی کیونکہ وہ ووٹ بینک سیاست میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ

نئی دہلی 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) آگرہ میں ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے تبدیلی مذہب پر بڑھتے ہوئے تنازعہ کے دوران صدر بی جے پی امیت شاہ نے آج جبری تبدیلی مذہب کو روکنے سخت قانون کی تائید کی لیکن اظہار افسوس کیا کہ خود ساختہ سیکولر پارٹیاں پارلیمنٹ میں اس اقدام کی تائید نہیں کریں گی کیونکہ وہ ووٹ بینک سیاست میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جبری تبدیلی مذہب نہیںہونا چاہئے اور اس کے خلاف پارلیمنٹ میںایک اچھا قانون منظور کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دیگر پارٹیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے قانون کی تائیدکریں تا ہم سوائے بی جے پی کے کوئی دوسری پارٹی ایسے قانون کی ووٹ بینک سیاست کی بناء پر اس کی تائید کرے گی،اس کی وہ ضمانت نہیں دے سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرکزی وزیر پارلیمانی امور وینکیا نائیڈو کی پارلیمنٹ سے اپیل سے متفق ہیں کہ تمام پارٹیوں کو متحدہ طور پر جبری تبدیلی مذہب کے خلاف قانون کی تائید کرنی چاہئے لیکن اگر عوام خود ہی مذہب تبدیل کرنا چاہتے ہوں تو اس کی مخالفت کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ امیت شاہ کا تبصرہ ہندو جاگرن سمیتی جو آر ایس ایس کی ایک تنظیم ہے اور جس کے زیر اہتمام آگرہ میں گھر واپسی پروگرام کے تحت مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنایا گیا تھاجس کی وجہ سے ایک تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ عملی اعتبار سے پارٹی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کے ناتھورام گوڈ سے اور سادھوی نرنجن جیوتی کی نفرت انگیز تقریر پر تبصرے کے بارے میں امیت شاہ نے کہا کہ بی جے پی قائدین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور ایسے مسائل پر تبصرے کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ ایسے تبصرے اُجاگر ہوجاتے ہیں کیونکہ بی جے پی اب برسر اقتدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بی جے پی ارکان پارلیمنٹ اور قائدین ایسے بیانات دینے سے باز آجائیں گے اور صبر و تحمل اختیار کریں گے ۔ لوجہاد کے بارے میں صدر بی جے پی نے کہا کہ نہ تو ان کی پارٹی اور نہ کوئی اس کا قائد اس اصطلاح کو وضع کرنے کا ذمہ دار ہے۔ یہ ذرائع ابلاغ کی تخلیق ہے۔ صرف عورتوں کے استحصال کا مسئلہ پریشان کن ہے اس لئے وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ کسی بھی بی جے پی قائد نے یہ لفظ استعمال نہیںکیا ہے ۔ رام مندر کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے نقاط نظر بالکل واضح ہیں یہ صرف دو ذرائع سے ہوسکتا ہے یا تو اتفاق رائے سے مندر تعمیر کیا جائے یا عدالتی فیصلے سے ایسا کیا جائے ۔ امیت شاہ نے ادعا کیا کہ 2019 تک ہندوستان کو کانگریس سے پاک کرنے ان کی پارٹی پختہ عہد کئے ہوئے ہے۔

TOPPOPULARRECENT