Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / جبری مذہبی تبدیلی پر حکومت کی توجہ مرکوز ، اپوزیشن کا الزام

جبری مذہبی تبدیلی پر حکومت کی توجہ مرکوز ، اپوزیشن کا الزام

نئی دہلی۔ 22 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے آج متحدہ طور پر آواز اٹھاتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کالادھن واپس لانے سے متعلق اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے بجائے مذہبی تبدیلی جیسے مسائل پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں متحدہ اپوزی

نئی دہلی۔ 22 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے آج متحدہ طور پر آواز اٹھاتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کالادھن واپس لانے سے متعلق اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے بجائے مذہبی تبدیلی جیسے مسائل پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں متحدہ اپوزیشن نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مذہب کی زبردستی تبدیلی کی اجازت دے رہی ہے اور بیرونی ممالک میں پوشیدہ کالا دھن واپس اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے متعلق اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے مسئلہ پر خاموش بہ لب ہے۔ اپوزیشن نے دونوں ایوانوں میں حکومت کو اس مسئلہ پر جواب دینے کا موقع نہیں دیا اور زبردست ہنگامہ آرائی اور شوروغل کیا جس کے نتیجہ میں لنچ کے وقفہ سے قبل راجیہ سبھا کا اجلاس تین مرتبہ ملتوی کیا گیا۔ ایوان بالا کو وقفہ صفر کے دوران ایک مرتبہ اور وقفہ سوالات کے دوران دو مرتبہ ملتوی کرنا پڑا جب ایس پی، جے ڈی (یو) اور ترنمول کانگریس کے ارکان پلے کارڈس لہراتے ہوئے نعرہ بازی کے درمیان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ حکومت سے اپنے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کیا۔ لوک سبھا میں سماج وادی پارٹی، آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے ارکان نے واک آؤٹ کیا۔ ایس پی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے بی جے پی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ عوام سے کئے گئے اپنے اُن وعدوں کی تکمیل نہیں کررہے ہیں، جن کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرتے ہوئے یہ حکومت اقتدار پر فائز ہوئی ہے۔ پوسٹرس لہرانے والے ارکان کے شدید احتجاج کے درمیان سمترا مہاجن نے ملائم سنگھ یادو کو خطاب کا موقع دیا۔ مسٹر یادو نے کہا کہ کسانوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے کھاتوں میں رقومات حاصل کریں گے۔ چین اور پاکستان نے جن ہندوستانی اراضیات پر قبضہ کیا ہے، ان کی بازیابی کی جائے گی، لیکن ان وعدوں کی تکمیل نہیں کی گئی۔ ملائم سنگھ یادو نے زور دے کر کہا کہ ’کم از کم ایک کام تو کردکھایئے‘ راجیہ سبھا میں جے ڈی یو رہنما شرد یادو نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب حکومت کی تمام تر توجہ ’گھر واپسی‘ (جبری مذہبی تبدیلی) مہم پر مرکوز ہے۔انتخابات سے قبل عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے بجائے ملک کے مختلف حصوں میں مذہب کی جبری تبدیلی کی مہمات چلائی جارہی ہے ۔ شرد یادو نے کہا کہ ’ آپ نے کسانوں کو ان کی زرعی پیداوار پر ترغیبات دینے کا وعدہ کیا ، اب ایک نئی بات سامنے آئی ہے ۔آپ خود ہی کہہ رہے ہیں کہ آپ نے گھر واپسی مہم شروع نہیں کی ہے۔ آپ کی پارٹی کے وزراء اور ارکان پارلیمنٹ یہ کہہ رہے ہیں ۔ آپ نے عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہیں کی ۔ آپ نے انہیں (وعدوں کو) فراموش کردیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایوان کام نہیں کرپا رہا ہے۔ ایس پی کے رام گوپال یادو نے کہا کہ حکومت نے کئی وعدے کئے تھے لیکن ایک بھی وعدے کی تکمیل نہیں کی۔ ملک میں پانچ کروڑ بیروزگار نوجوان ہیں ۔ آپ نے ان کے لئے ملازمت فراہم نہیں کی۔ آج کئی جماعتیں دھرنا دے رہی ہیں اور ہم نے اس مسئلہ پر بحث کے لئے ایوان کی تمام مصروفیات معطل رکھنے ، دفعہ 266 کے تحت نوٹس دی ہے۔ سی پی آئی ایم کے سیتا رام یچوری اور ترنمول کانگریس ڈیرک او برائن نے اس مرحلے پر رام گوپال یادو کی تائید کی۔ یچوری نے کہا کہ ’وزیراعظم نے کسی بھی وعدہ کی تکمیل نہیں کی۔ انہوں (نریندر مودی) نے فرقہ وارانہ فسادات اور فرقہ وارانہ خطوط پر شیرازہ بندی کے خاتمے کیلئے 10 سالہ رضاکارانہ امتناع کی بات کی تھی لیکن آج جو واقعات پیش آرہے ہیں، وہ ملک اور قوم کے لئے بہتر نہیں ہیں‘۔کانگریس کے آنند شرما نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ ایوان میں موجود رہیں اور جبری تبدیلی مذہب پر ارکان کی تشویش کی سماعت کریں اور اس کا جواب دیں۔

TOPPOPULARRECENT