Wednesday , November 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / جب نعمتوں کی ناقدری ہوتی ہے … …!

جب نعمتوں کی ناقدری ہوتی ہے … …!

ابن ساجد

پانی ایک عظیم ترین نعمت ِخداوندی ہے اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالی نے پانی کے اندر رموز ِ حیات پوشیدہ رکھے ہیں ، انسانی زندگی میں پانی کی بے پناہ قدر و اہمیت ہے ، اسی کے پیش نظر اللہ رب العزت کا فرمانِ عالیشان ہے ’’ اور ہم نے پانی کے ذریعے ہی ہر چیز کو زندگی بخشی ہے‘‘ (الانبیاء:۳۰)۔ پانی بنی نوعِ انساں کے لئے رحمت ِ خداوندی کا عظیم ترین سرچشمہ ٔ حیات ہے ۔ بغیر پانی کے انسان کا زندہ رہنا مشکل ہے اور پانی کی کمی و قلت انسانوں کی زندگی دو بھر کردیتی ہے ۔ کہیں یہ ہماری بد اعمالیوںکا نتیجہ تو نہیں ؟ زمین کے خشک ہونے اور بارش کے نہ ہونے کے اسباب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کے مطابق جو قوم اپنے پیدا کرنے والے خالقِ حقیقی کو بھول جاتی ہے ،اس کی اطاعت و فرماں برداری میں تساہل برتتی ہے ، ناپ تول میں کمی کرتی ہے ، اپنے مالوں میں سے غرباء و فقراء کا حق ادا نہیں کرتی یعنی زکوۃ و صدقات کو روک لیتی ہے ، سود خوری کی لت میں مبتلا ہوکر حرام خوری میں مست ہوجاتی ہے اور جس معاشرہ میں زناکاری عروج پر ہوتی ہے تو وہاں کے باشندے اپنے آپ کو عذاب ِ الہی کا مستحق بنا لیتے ہیں ، ان جگہوں سے فصلوں کی پیداوار روک لی جاتی ہے اور ان کو قحط سالی میں مبتلا کردیا جاتا ہے اگر جانور نہ ہوتے تو ایسے جگہوں سے بارش بالکل ہی روک دی جاتی ۔ جب نعمت کی قدردانی نہیں ہوتی تو اللہ رب العزت اس کی قدردانی کو سمجھانے کی غرض سے اس طرح کی صورتیں اختیار کرکے بندہ کو خواب غفلت سے بیدار کرتے ہیں ۔ منجملہ ا سباب کے ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ برسر اقتدار حکومت کے فاسد مقاصد اور خام فیصلے بھی اس دھرتی کی مٹی پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کی رہنے بسنے والی قوم طرح طرح کے مصائب و آلام کا شکار ہوکر رہ جاتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT