Sunday , January 21 2018
Home / سیاسیات / جتن رام مانجھی کو مودی کا شکر گزار ہونا چاہیئے

جتن رام مانجھی کو مودی کا شکر گزار ہونا چاہیئے

ریاست بہار کو بحران میں ڈالنے نتیش کمار پر بی جے پی کی تنقید

ریاست بہار کو بحران میں ڈالنے نتیش کمار پر بی جے پی کی تنقید
پٹنہ۔/23مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن بی جے پی نے آج سبکدوش ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر ریاست بہار کو بحران سے دوچار کردینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ یہ بحران محض نریندر مودی کے تئیں ان کی منافرت کی وجہ سے ہوا ہے جبکہ بہار میں زعفرانی انقلاب آئندہ سال کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی سے مکمل ہوگا۔ بہار اسمبلی کے ایک خصوصی سیشن میں جہاں نئے وزیر اعلیٰ جتن رام مانجھی اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے، مباحثہ کا آغاز کرتے ہوئے قائد اپوزیشن نند کشور یادو نے کہا کہ بہار میں قیادت کی تبدیلی دراصل لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے ضمنی اثرات ہیں۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے حالانکہ اب تک وزارت عظمیٰ کے عہدہ کا حلف نہیں لیا ہے لیکن مانجھی کیلئے ’’ اچھے دن‘‘ آچکے ہیں اور انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ آج وزارت اعلیٰ کی جو کرسی انہیں ملی ہے وہ بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے لئے منتخب نریندر مودی کی مرہون منت ہے۔

اگر نتیش کمار کو عام انتخابات کے نتائج کے بعد اتنا بڑا جھٹکا نہیں لگتا تو وہ مسٹر مانجھی کے لئے وزارت اعلیٰ کے عہدہ پر فائز ہونے کا راستہ کبھی ہموار نہیں کرتے۔ مسٹر یادو نے مزید کہا کہ نتیش کمار نے اخلاقی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک دلت قائد کو وزارت اعلیٰ کے عہدہ پر فائز ہونے کا جو ادعاء کیا ہے وہ دراصل خود ان کے ’’ دھرم سنکٹ ‘‘ کی نشاندہی کرتا ہے۔ دراصل نتیش کمار یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ گلدستوں کے ساتھ نریندر مودی کو مبارکباد پیش کریں اور اپنی انا کو ٹھیس پہنچائیں۔ لہذا انہوں نے وزارت اعلیٰ کے عہدہ سے مستعفی ہوکر راہ فرار اختیار کی۔ مسٹر یادو نے اپنی تقریر کا سلسلہ ایک گھنٹہ تک جاری رکھا اور اس دوران تمام بی جے پی ارکان اسمبلی جو زعفرانی ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے، نریندر مودی کی تائید میں نعرے بازی کرتے رہے۔

جتن رام مانجھی اعتماد کا ووٹ حاصل
کرنے میں کامیاب
پٹنہ۔/23مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) بہار میں جتن رام مانجھی کی تین روزہ حکومت نے ریاستی اسمبلی میں بالآخر اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا ہے جس کے دوران اپوزیشن بی جے پی کی جانب سے واک آوٹ کیا گیا۔ اسمبلی کے ایک خصوصی سیشن میں ارکان نے ندائی ووٹ کے ذریعہ تحریک اعتماد کو منظور کیا۔ ریاستی اسمبلی کی موجودہ تعداد237ہے۔
جبکہ مانجھی حکومت 145لیجسلیچرس کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ مانجھی حکومت کو جے ڈی ( یو ) کے 117ایم ایل ایز، آر جے ڈی کے 21، کانگریس کے 4، سی پی آئی کے ایک اور دو آزاد ایم ایل ایز کی تائید حاصل ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT