Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ججس کے تقرراتی عمل میں بہتری سے جلد انصاف رسانی ممکن

ججس کے تقرراتی عمل میں بہتری سے جلد انصاف رسانی ممکن

چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 9 اپریل (سیاست نیوز) چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا کہ ججس کے تقررات کے عمل میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، تقررات میں تاخیر کے سبب عوام انصاف کے حصول کے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہورہے ہیں جوکہ ناقابل قبول بات ہے۔ اسٹیٹ لیگ سرویس اتھاریٹیز کے 14 ویں کل ہند اجلاس کا نیشنل لیگل سرویس اتھاریٹی و تلنگانہ اسٹیٹ لیگل سرویس اتھاریٹی نے اے پی اسٹیٹ لیگل سرویس اتھاریٹی کے ہمراہ اہتمام کیا تھا۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ہائی کورٹس کی جانب سے تقررات کیلئے 130 ناموں کی سفارش کی گئی ہے جوکہ وزارت قانون کے زیرغور ہے۔ انہوں نے اس ایقان کا اظہار کیا کہ تقررات پر غوروخوض کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف رسانی کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ چیف جسٹس ٹھاکر نے اس بات کو دہرایا کہ عدالتی نظام پر دباؤ بنا ہوا ہے جبکہ ہائیکورٹس میں ساڑھے چار سو جائیداد مخلوعہ ہیں۔ جاریہ سال مزید 50 جائیدادیں مخلوعہ ہوں گی۔ انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ ججس کے تقررات میں تاخیر کی ایک وجہ دستوری ترمیمات میں تاخیر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت قانون اس بات کو قبول کرتی ہے کہ میمورنڈم کے طریقہ کار میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ اس کیلئے وقت درکار ہے۔ جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ ایک سال کی مدت کے دوران لوک عدالتوں میں 62 لاکھ اور دیگر عدالتوں میں 1.61 کروڑ مقدمات زیرالتواء ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں اگر اقدامات نہ کئے جائیں تب یہ تعداد 2.20 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس موقع پر وزیرقانون و انصاف ڈی وی سدانند گوڑا نے کہا بینکوں سے متعلق 3.64 معاملات تک خارج کردیا گیا ہے۔ جسٹس انیل آر داوے ایگزیکیٹیو چیرمین این اے ایل ایس اے نے کہا کہ مختلف جرائم کے شکار افراد کی مدد کیلئے قانونی امداد فراہم کرنے اسکیمات کو روشناس کیا گیا ہے۔ قبل ازیں چیف منسٹر کے سی آر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سماعت سے محروم افراد کیلئے قانونی معلومات پر مبنی پمفلٹس کا اجراء عمل میں آیا اور چیکس تقسیم کئے گئے۔ ٹی ایس ایل ایس اے کی ویب سائیٹس کا بھی اجراء عمل میں آیا۔

TOPPOPULARRECENT