Tuesday , September 25 2018
Home / ہندوستان / ججوں کی رشوت ستانی کا مقدمہ ، سپریم کورٹ کا حکم محفوظ

ججوں کی رشوت ستانی کا مقدمہ ، سپریم کورٹ کا حکم محفوظ

نئی دہلی ۔ 13 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے ایک درخواست کی قبولیت پر آج اپنے فیصلے کو محفوظ کردیا ۔ اس درخواست میں ججوں بین رشوت ستانی کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے ۔ جسٹس آر کے اگروال کی قیادت میں تین رکنی بنچ توقع ہے کہ کل اپنا حکم جاری کریں گے ۔ دوران سماعت بنچ نے درخواست گذار کامینی جیسوال کی طرف سے رجوع ہونے والے وکیل پرشانت بھوشن سے سوال کیا کہ دو واضح شناختی الفاظ پر مبنی درخواست دائر کرنا آیا جواز کا مسئلہ نہیں ہوسکتا اور یہ کہ اس کوایک مخصوص بنچ پر ہی سماعت کیلئے اصرار کرنا آیا اس کو شاپنگ فورم بنانے کے مترادف نہیں ہوگا ؟ اس دوران اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ اپنی درخواست سے دستبردار ہوجائیں کیونکہ اس نے ایک ادارہ کی ساکھ داؤ پر لگ جائے گی ۔ بعد ازاں بنچ نے کہا کہ ’’درخواست کی برقراری کے سوال پر حکم محفوظ کردیا گیا ہے ۔ ‘‘۔ جسٹس جے چلمیشور اور جسٹس ایس عبدالقدیر پر مشتمل ایک بنچ نے 9 نومبر کو حکم دیا تھا کہ اس درخواست کی عدالت عظمی کے سینئر ترین ججوں پر مشتمل پانچ رکنی دستوری بنچ کی طرف سے سماعت کی جائے۔ تاہم ایک ایسی غیر معمولی سمات میں جس کی ماضی میں کوئی نظیر ن ہیں ملتی ، چیف جسٹس دیپک مصرا کی قیادت میں پانچ ججوں کی دستوری بنچ نے رولنگ دی تھی کہ کوئی بھی جج اپنے طور پر کسی مقدمہ کی سماعت شروع نہیں کرسکتا، تاوقتیکہ چیف جسٹس کی طرف سے اس کو اجازت نہیں دی جاتی کیونکہ چیف جسٹس آف انڈیا ہی روسٹر ماسٹر ہوتا ہے ۔ بنچ کی تشکیل کے مسئلہ پر یہ برتری طاقت آزمائی اور مقابلہ آراء اس وقت شروع ہوئی جب جسٹس چلمیشور کی قیادت میں بنچ نے مبینہ طور پر چیف جسٹس آف انڈیا کی اتھاریٹی کو پامال کیا تھا ۔ جسٹس چلمیشور نے جو چیف جسٹس دیپک مصرا کے بعد عدالت عظمی کے سینئر ترین جج ہیں اس بات کو تکلیف دہ قرار دیا تھا کہ سی بی آئی کی ایف آئی آر میں الزامات عائد کئے گئے ہیں اور انہوں نے عدالت نکے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ کی تشکیل کا حکم دیا تھا کیونکہ کامینی جیسوال نے کہا تھا کہ جسٹس مصرا کے خلاف الزامات ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT