Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / جج لویا کا پوسٹ مارٹم مشکوک

جج لویا کا پوسٹ مارٹم مشکوک

جج لویا کی موت میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے ‘ دی کاروین کی خبر کے مطابق جج لویا کے پوسٹ کے متعلق شک وشبہا ت پر مشتمل کافی ثبوت ان کے پاس موجود ہیں۔اس خبر سیاسی پوسٹ مارٹم کے پیچھے سیاسی اسر ورسوخ کی باتیں بھی منظر عام پر ائیں ہیں۔ناگپور کے گورنمنٹ میڈیکل کالج کے محکمہ فارنسک میں اس وقت خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر ماکرند وایا واہار اور مہارشٹرا کے فینانس منسٹر سدھیر مونگتی وار کے سالہ کے درمیان میں تعلقات اس خبر کا محور ہیں۔خبر کے مطابق ڈاکٹر وایاواہار مسلسل اپنے ماتحت کو ان تعلقات کا حوالہ دیتے رہتے ہیں۔

جب وہ پوسٹ گریجویٹ کے طالب علم تھے تو اس کا ایک پروفیسر کے ساتھ زبردست جھگڑا ہوا تھا۔ بحث کے بعد پروفیسر کا تبادلہ کردیاگیا۔حالانکہ ڈاکٹر نے اپنے تعلقات کی بناء پر کچھ کیاایسا کوئی راست ثبوت موجود نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ لوگوں کو ہمیشہ اپنے تعلقات کی بات یادلاتے رہتے ہیں ۔اور یہ اب دور نہیں ہے کہ اس ضمن میں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیاجاسکے۔کاروین کو دئے گئے ایک نامعلوم ملازم کے انٹریو کے مطابق جج لویا کی نعش لائے گئے روز مذکورہ ڈاکٹرغیر معمولی طور پر وارد ہوگئے۔ جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انہیں پہلے سے نعش کے متعلق خبر تھی۔

مذکورہ ملازم کا کہنا ہے کہ اس روز ڈاکٹر کچھ پریشان اور زیادہ سگریٹ پئے ہوئے تھے۔انہوں نے ڈاکٹر این کے تورم کو ہدایت دی کی رپورٹ میں کیاتحریر کرنا ہے۔ مذکورہ ڈاکٹر کے بہنوائی کوئی اور نہیں سدھیر مونگتوار ہے جو 1995میں مہارشٹرا بی جے پی کے صدر تھے اور توقع کی جارہی تھی کہ انہیں ریاست کا چیف منسٹر بنایاجایاگا مگر آخری لمحے میں دیویندر فنڈناویس کا نام پیش کردیاگیا۔ کاروین کے مضمون کا یہ حصہ پوسٹ مارٹم میں سیاسی مداخلت کی وضاحت کرتا ہے۔ڈاکٹر تورام کا نام رپورٹ میں موجود ہے تاہم ڈاکٹر وایاوہار کے نام موجود نہیں ہے۔

انہوں نے جج لویا کے سر کے عقب میں لگے مار کو نظر انداز کیا جوکہ جج لویا کی غیر قدرتی موت کا ایک ثبوت ہے۔ حالانکہ جج لویا کی موت قلب پر حملے کے سبب ہونے کے بعد سے کوئی اتفاق نہیں کریگا‘ مگر ڈاکٹر تورام نے اپنی رپورٹ میں اس قسم کی بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔یہ بات ناقابل یقین نہیں ہے کہ ڈاکٹر وایاوہار جو اب مہارشٹرا میڈیکل کونسل کے رکن ہیں نے پوسٹ رپورٹ پر اثر انداز ی کے کوئی حکم جاری نہیں ہے۔

ساتھیوں اور ماتحت ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تعلقات کا جم کا استعمال کرتا ہے۔ انہو ں نے سابق میں بھی کئی پوسٹ مارٹم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ ان کے آبائی علاقوں کی نعشوں کے ساتھ تو یہ بہت عام بات ہے۔ موت کے وقت ریکارڈ سے متعلق معمولی تبدیلی مذکورہ ملازم کے مطابق پوری تحقیقات پر اثر انداز ہوتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT