Sunday , October 21 2018
Home / Top Stories / جج لویا کی موت فطری وجوہات سے ہوئی ‘ سپریم کورٹ

جج لویا کی موت فطری وجوہات سے ہوئی ‘ سپریم کورٹ

نئی دہلی 19 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج سی بی آئی جج بی ایچ لویا کی موت کی آزادانہ تحقیقات کروانے کی درخواستوں کو مسترد کردیا اور یہ رولنگ دی کہ جج موصوف کی موت فطری وجوہات کی بنا پر ہوئی تھی اور درخواست گذاروں نے انصاف کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے اور اسے اسکینڈل کا روپ دینے کی کوشش کی تھی ۔ عدالت نے جسٹس لویا کی موت سے متعلق حالات سے متعلق تمام درخواستوں کی اس فیصلے کے ساتھ ہی یکسوئی ہوچکی ہے ۔
عدالت نے جج لویا کی موت میں مفاد عامہ کی درخواستوں کو غیر سنجیدہ اور مفادات پر مبنی قرار دیا ہے ۔ جج لویا سہراب الدین شیخ فرضی انکاؤنٹر مقدمہ کی سماعت کر رہے تھے کہ ان کی موت واقع ہوگئی تھی ۔ عدالت نے کہا کہ یہ درخواستیں سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے تھیں اور مفاد عامہ کی درخواستوں کے پس پردہ مخاصمت تھی اور اس کا مقصد بمبئی ہائیکورٹ کے ججس اور عدالتی عہدیداروں کے احترام کو متاثر کرنے کی کوشش تھا ۔ جج لویا کا یکم ڈسمبر 2014 کو قلب پر حملہ کی وجہ سے انتقال ہوگیا تھا جب وہ اپنے ایک دوست کی شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے گئے تھے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر عدالتوں میں اس طرح کی کی درخواستیں دائر کی جاتی رہیں تو انصاف رسانی کا عمل متاثر ہوجائیگا ۔ چیف جسٹس دیپک مصرا اور جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وی چندرا چوڑ پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ جج لویا کی موت سے متعلق واقعات پر چار ججس کے بیان پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور دستاویزات بھی جو ریکارڈ پر پیش کئے گئے تھے ان کی جانچ سے واضح ہوچکا ہے کہ جج لویا کی موت فطری وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے ۔ ججس اور عدالتی عہدیداروں پر شبہات ظاہر کرنے پر عدالت نے درخواست گذاروں اور ان کے وکلا کی سرزنش بھی کی ہے اور کہا کہ ان کے خلاف جو تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے وہ در اصل عدلیہ پر حملہ کے مترادف ہے ۔ عدالت نے کہا کہ ان درخواستوں کے ذریعہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی پر ایک حقیقی معنوں میں حملہ کیا گیا ہے اور موجودہ مقدمہ در اصل شخصی ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کی کوشش تھا ۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گذاروں نے عدلیہ کا امیج متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اور عدالتی ادارہ کے اعتبار پر سوال کیا گیا تھا ۔ سہ رکنی بنچ نے سینئر وکیل و کارکن وکیل دشئیت داوے ‘ اندرا جئے سنگھ اور پرشانت بھوشن کی سرزنش کی جنہوں نے ججس کے خلاف شکوک کا اظہار کیا تھا ۔ عدالت نے کہا کہ کاروباری مخاصمت کی یکسوئی مارکٹ میں اور سیاسی مخاصمت کی یکسوئی جمہوری انداز میں کی جانی چاہئے ۔ یہ عدالت کا فرض ہے کہ قانون کی حفاظت کرے ۔ بنچ کی جانب سے جسٹس چندرا چوڑ نے فیصلہ سنایا اور یہ ریمارک کیا ۔ عدالت نے وکیل پرشانت بھوشن کے اس خیال کی بھی سرزنش کی کہ موجودہ بنچ کے دو ججس جسٹس کھانویلکر اور جسٹس چندرا چوڑ کو اس کیس کی سماعت سے خود کو الگ کرلینا چاہئے کیونکہ ان دونوں کا تعلق بھی مہاراشٹرا سے ہے اور بمبئی ہائیکورٹ کے ججس سے متعلق ہی یہ مقدمہ ہے ۔ عدالت نے ریمارک کیا کہ وکلا نے مباحث کے دوران ججس کے تعلق سے ادارہ جاتی تہذیب کو فراموش کردیا تھا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT