Sunday , July 22 2018
Home / اداریہ / جج کی موت پر سیاست

جج کی موت پر سیاست

تم نے دیکھا نہیں سہمی ہوئی آواز کا زخم
ایک ناسور کلیجہ میں پھٹا ہو جیسے
جج کی موت پر سیاست
مرکز میں جب سے ایک خاص سوچ کی حامل حکمرانی چل رہی ہے ۔ سیاسی و معاشی بحران بھی ایک ساتھ چل رہا ہے ۔ سپریم کورٹ کے ججس کے بیانات اور سہراب الدین کیس کی سماعت کرنے والے جج برج موہن ہری کشن لویا کی موت پر پیدا ہونے والا تنازعہ نے حکومت کی ساکھ پر شدید ضربات پہونچانے کا کام کررہا تھا ۔ لیکن اب متوفی سی بی آئی کے خصوصی جج لویا کے فرزند انوج لویا نے جوابی ردعمل میں اپیل کی کہ ان کے والد کی موت کو سیاسی نہ بنایا جائے اور وہ کسی پر کوئی الزام عائد کرنا نہیں چاہتے ۔ ان کے خاندان کو ہراساں کرنے کا عمل بند کردیا جائے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انوج لویا کو اس طرح کا بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ کیا ان پر درپردہ طریقہ سے حکومتی نمائندوں کا کوئی دباؤ ڈالا جارہا ہے ؟ کیوں کہ سہراب الدین کیس کی سماعت کرنے والے جج کی موت پر اپوزیشن نے شبہات ظاہر کئے تھے ۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے چار ججس نے بھی ان کی موت کے پیچھے کسی سازش کا اشارہ دیا ہے ۔ اس طرح حکومت کی سطح پر لویا کی موت ایک خوف کے سایہ کی طرح منڈلا رہی ہے ۔ سپریم کورٹ کے سینئیر ترین چار ججس کے بیانات کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرکز کی حکومت پر پس دیوار انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور انتخابات کے سال مختص بحرانی کیفیت میں یہ حکومت خود کو کسی بھی شبہ سے پاک ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ ججس نے براہ راست چیف جسٹس آف انڈیا پر نکتہ چینی کی تھی اور لویا کی موت کا بھی ذکر کیا تھا ۔ ان کے بیانات کے بعد ملک کی پارلیمنٹ ، عدلیہ اور نظم و نسق کے سامنے بڑا سوال و چیلنج کھڑا ہوا ہے کہ آیا اس ملک میں سیاسی طاقت ہی ان دستوری اداروں پر غالب آئے گی ۔ ججس ، عدلیہ ، دستوری ادارے آیا حکومت کی تابعدار بن کر رہ جائیں گے ۔ ملک کی عدلیہ کو آزاد سمجھا جارہا تھا مگر اب چار ججس نے عوام کے سامنے تمام صفائی پیش کردی ہے تو عدلیہ کے آزادانہ موقف پر بھی سوال اٹھیں گے ۔ جسٹس لویا کے فرزند یا ان کے ارکان خاندان کی اپیل کے بعد ان شبہات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ واقعی ان واقعات کے پیچھے کسی حکمراں طاقت کے ہاتھ پر شبہ ہونا یقینی ہے ؟ سہراب الدین کیس کو دبانے کے لیے کوشاں حکمراں طاقتوں نے عدلیہ کو بھی حقیقت میں دباؤ کا شکار بنانے کی کوشش کی ہوگی ۔ اس پس منظر میں سپریم کورٹ کے چار ججس کی تنقیدیں قابل غور ہیں اور متوفی جج لویا کے خاندان کی اپیل کے بعد عوام کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ آخر لویا کے خاندان کو ان کی موت پر کسی پر شبہ نہ ہونے کی وضاحت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ ہوسکتا ہے کہ حکمراں طاقت کا کوئی رکن غیر اصولی اور بدنام زمانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہو ۔ سپریم کورٹ کے چار ججس کا ردعمل عدالت عالیہ کو بھی احتسابی عمل سے گذرنے کی ضرورت کی جانب اشارہ دیتا ہے ۔ عدلیہ کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھنے سے ہی یقینا عوام کے اندر اس عدلیہ کے تعلق سے پہلے کی طرح احترام و یقین برقرار رہے گا ۔ سب کچھ منفی ہوتا جائے تو حکومت کے لیے سال 2019 کے انتخابات اقتدار کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتے ہیں ۔ اس لیے اپنی شبہہ کو داغدار ہونے سے بچانے کے لیے کچھ نہ کچھ دفاعی عمل کرنا ضروری ہے ۔ حکومت اور اس کے کارندے جج کی نعش پر سیاست کرسکتے ہیں تو اپوزیشن اور این جی او جو اس مشتبہ موت پر جج لویا کے ارکان خاندان کو انصاف دلانے کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں ۔ اب ان کی آواز کو خود جج لویا کے خاندان کی جانب سے کمزور بتانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مگر حالیہ دنوں کے واقعات حکومت کے خلاف انقلابی نتائج لاسکتے ہیں ۔ سال 2019 کے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم تقریباً شروع ہوچکی ہے ۔ اپنی کامیابی کے امکانات پر کوئی آنچ نہ آنے دینے کے لیے حکمراں پارٹی کے کارکن سرگرم ہوئے ہیں ۔ صدر پارٹی کو سہراب الدین کیس سے بچالیا گیا مگر اس کیس کو ریکارڈ پر لانا ضروری ہوگیا ہے ۔ چار ججس نے اس کیس کا پہلا تیر چھوڑ کر ہی حکومت کی نیندیں حرام کردی تھیں اور اس بے خوبی کے عالم میں حکومت جج لویا کے ارکان خاندان کے سہارے معاملہ کو دبانا چاہتی ہے ۔ یہ کیس نازک ہے اس لیے سپریم کورٹ نے اب حکومت مہاراشٹرا سے سی بی آئی کے خصوصی جج بی ایچ لویا کی موت کی آزادانہ تحقیقات کے لیے کی گئی درخواست پر رائے طلب کی ہے اور جج کی موت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی مانگی گئی ہے ۔ اس طرح عدلیہ کے تقدس کو بلند رکھنے کے لیے سچائی سے کام لینا ضروری ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT