Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / جدوجہد آزادی میں اردو صحافت اور اس کے رول کے بغیر ملک کی تاریخ نامکمل

جدوجہد آزادی میں اردو صحافت اور اس کے رول کے بغیر ملک کی تاریخ نامکمل

اردو یونیورسٹی میں اردو صحافیوں کے تربیتی پروگرام سے وینکیا نائیڈو کا خطاب
حیدرآباد3دسمبر (یو این آئی) مرکزی وزیر اطلاعات ونشریات ایم وینکیا نائیڈو نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ملک کے مسلمان پکے ہندوستانی ہیں ان کی حب الوطنی شک وشبہ سے بالاتر ہے ۔وینکیا نائیڈو نے شہر حیدرآباد میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے اردو صحافیوں کے پانچ روزہ تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی کے وقت یہاں کے مسلمانوں کو ایک موقع دیا گیاتھا کہ وہ اپنے ملک کا انتخاب کریں لیکن مسلمانوں کی اکثریت نے حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔مرکزی وزیر نے ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاداور ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ مولانا آزاد نے ملک کی تقسیم کے وقت جو موقف اختیار کیا تھا اس پر انہیں بُرے حالات سے دوچار ہونا پڑاتھا ۔انہوں نے کہاکہ یہ ہم تمام کی ذمہ داری ہے کہ ہم جو پچھڑے افراد اقلیتوں میں ہیں ان کو اصل دھارے میں لاتے ہوئے انہیں بااختیار بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ مسلمان مادری زبان سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔مادری زبان چاہے کوئی بھی علاقائی زبان ہی کیوں نہ ہو اس کو پروان چڑھانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔مرکزی وزیر نے مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ مادری زبان میں تعلیم حاصل نہ کرنا ہندوستانیت کے خلاف ہے ۔ہمیں تمام زبانیں سیکھنا چاہئے لیکن مادری زبان سے دوری اختیا ر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ مادری زبان سے دوری ایک سماجی مسئلہ بن سکتی ہے ۔انہوں نے اردو صحافیوں کی تربیت کے مسئلہ پر کہا کہ تربیت ہرشعبہ میں ضروری ہے ۔صحافت کے اصولوں او اقدار کو ہمیں برقرار رکھناچاہئے ۔انہوں نے کہاکہ خبرو ں کے ساتھ ہمیں ہماری رائے کا اضافہ نہیں کرنا چاہئے اور صحافت پر بھروسہ بنائے رکھنے کی ضرورت ہے ۔اگر یہ بھروسہ اٹھ گیا تو یہ بہت بڑا دھکہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اردو زبان میں مٹھاس پائی جاتی ہے ۔اردو صحافت اور اردو اخبارات نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد او رملک کی تعمیر میں اہم رول اد اکیا۔ملک کی آزادی اور جدوجہد آزادی میں اردو صحافت اور اس کے رول کے بغیر ملک کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہاکہ ہم مولانا آزاد کے اخبار الہلال کو فراموش نہیں کرسکتے جس نے ہندو ۔مسلم اتحاد کے کاز میں اہم رول ادا کیا تھااور ہندوستانی قومیت کے جامع نظریات کو اس اخبار نے فروغ دیا تھا۔مولانا آزادکا اس اخبار کی اشاعت کا مقصدہندوستانی مسلمانوں میں آزادی کے لئے قومی جدوجہد کو پروان چڑھانا تھا اور یہ اخبارہندو۔مسلم ہم آہنگی کا نقیب بھی رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نقیب، ہمدرد، پرتاپ، ملاپ، قومی آواز، زمیندار جیسے اخبارات کو بھول نہیں سکتے ۔یہ ایسے نام ہیں جن کے ذریعہ ہندوستانی نوجوانوں میں قومیت کے نظریات کو پروان چڑھایا گیا تھا۔مرکزی وزیر نے کہا کہ اردو صرف مسلمانوں کی ہی زبان نہیں ہے بلکہ سارے ہندوستانیوں کی زبان ہے ۔ اردو زبان کے پہلے روزنامہ ”جام جہاں نما ”کی شروعات 1822میں کلکتہ سے ہوئی تھی۔ہیراہر دتہ اس کے بانی تھے ۔دوسرے اردو اخبار کی شروعات بھی ایک ہندو نے کی تھی جن کا نام منشی ہرسک رائے تھا اس اخبار کی اشاعت 1850میں ہوئی تھی۔انہوں نے کہاکہ اردو تمام ہندوستانیوں کی ثقافتی تہذیب ہے ۔ انٹرنیٹ اورسوشیل میڈیا کے آنے کے بعد سے اخبارات کی دستیابی آسان ہوگئی ہے ۔اس طرح اس نئے دور میں ٹکنالوجی کی آمد کے ساتھ ہی اردو اخبارات نے خود کو دور جدید سے ہم آہنگ بنایا اور مختلف پلیٹ فارمس کے ذریعہ قارئین تک رسائی کی راہیں تلاش کیں۔انہوں نے کہا کہ اردو صحافت کافی اہمیت کی حامل رہی ہے اور یہ ذرائع ابلاغ اور ملک کی مواصلات کا اٹوٹ حصہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ دہلی میں پی آئی بی ہیڈکوارٹرس میں اردو زبان میں پریس ریلیز کا ترجمہ کرنے کے لئے علحدہ اردو سل قائم ہے تاکہ اردو کے قارئین کو بھی فائدہ ہوسکے ۔ان کی وزارت لوگوں کی زبان میں ان تک رسائی کے اقدامات کر رہی ہے ۔آل انڈیا ریڈیوعلاقائی زبانوں میں عوام تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے ۔ملک کی آزادی سے پہلے کے دور سے ہی اردو کی نشریات ریڈیو سے ہوتی آرہی ہیں۔ عالمی جنگ کے دوران بھی یوروپ ،افریقہ میں تعینات ہندوستانی ٹروپس سے بات چیت کے لئے اردو نشریات کا استعمال کیا جاتا تھا۔ عالمی جنگ کے بعد اردو نشریات کو ہندوستا ن میں کافی اہمیت دی گئی اور یہ کافی مقبول ہوگیا۔ریڈیو کی نشریات کی توسیع کے ساتھ ہی گھریلو سطح پر اردو کی نشریات کو بھی اہمیت حاصل ہوگئی ہے ۔اردو زبا ن میں آج کئی بلیٹس آل انڈیا ریڈیو کی جانب سے پیش کئے جاتے ہیں۔ڈی ڈی اردو بھی اردو زبان کے فروغ میں اہم رول اداکر رہا ہے ۔ڈی ڈی اردو کی نیوز بلیٹنس اردو میں ہوتی ہیں جس سے اردو کوفروغ حاصل ہوتا ہے ۔ڈی ڈی کشمیر بھی جموں وکشمیر اور ملک کے دوسرے حصوں کے درمیان خلا کو پاٹنے میں اہم کردار اداکرتا ہے ۔اس موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد اسلم پرویز،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبا ن کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضی کریم ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ وصحافت کے صدر پروفیسر احتشا م احمد اور دوسرے موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT