Tuesday , December 12 2017
Home / مضامین / جدہ میں بہار کے وزیر فینانس عبدالباری صدیقی کا خیرمقدم عارف قریشی کو وزیر موصوف کا انٹرویو

جدہ میں بہار کے وزیر فینانس عبدالباری صدیقی کا خیرمقدم عارف قریشی کو وزیر موصوف کا انٹرویو

عارف قریشی
ہندوستان ہمارا ملک تھا ہمارا ملک ہے اور قیامت تک ہمارا ملک ہی رہے گا۔ ہندوستان ایک آزاد ملک ہے جس میں مختلف مذاہب اور مختلف تہذیبوں کے لوگ رہتے ہیں ۔ مسلمانوں کو اپنے ملک میں حب الوطنی کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے ۔ جنگ آزادی میں مسلمانوں نے علماء کرام کی قیادت میں اپنی جان و مال کی قربانی دے کر ملک کو آزادی دلوائی جو لوگ ہم سے حب الوطنی کا ثبوت مانگتے ہیں دراصل ان لوگوں کا ہمارے ملک کی جنگ آزادی کی لڑائی میں دور دور تک نام و نشان تک نہ تھا ۔ بہار کے وزیر فینانس عبدالباری صدیقی کا جدہ کے معروف و ممتاز سماجی کارکن شارخ علی کی رہائش گاہ پر خیرمقدم کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے سیاست نیوز کے عارف قریشی کو ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔
وزیر موصوف عبدالباری صدیقی سے عارف قریشی نے سوال کیا کہ چند دن قبل ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ میرے سوال کے جواب میں وزیر صاحب نے فرمایا ہم ہندوستانی مسلمانوں کو سب سے پہلے اپنے اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور پھر ہمارے ملک کی عدالت کا قانون ہر ایک کیلئے ایک جیسا ہے اور جب عدالت نے کہہ دیا ہے کہ شہید بابری مسجد کے مقام پر عدالت کے فیصلہ کے بغیرکچھ بھی تعمیر نہیں ہوگا تو سارے ہندوستانیوں کو عدالت کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے ۔
وزیر موصوف عبدالباری صدیقی صاحب کو عارف قریشی نے بتایا کہ حیدرآباد دکن میں مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات (ریزرویشن) کیلئے جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست اورجناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست نے تحریک کا آغاز کیا جس سے تلنگانہ کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے ۔ کیا بہار میں بھی مسلمانوں کو تحفظات دیاجاتا ہے ۔ میرے سوال کے جواب میں وزیر موصوف نے فرمایا بہار میں مسلمانوں کو (ریزرویشن) نہیں دیاجاتا بلکہ یو پی اے سرکار کی جانب سے جسٹس راجندر سنگھ سچر کے زیر قیادت ایک کمیشن تکمیل دیا گیا تھا جس نے سارے ہندوستان کا سروے کر کے اپنی رپورٹ حکومت کو دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان تعلیمی ، سماجی ، سائنسی طور پر پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کو (ریزرویشن) دیا جاسکتا ہے، اس رپورٹ پربہار میں مسلمان کو تحفظات دیئے جاتے ہیں۔وزیرفینانس عبدالباری صدیقی صاحب سے سوال کیا گیا کہ چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے چیف منسٹر بننے کے بعد مسلمانوں کے لئے کیا کیا۔ جواب میں وزیر موصوف نے فرمایا بہار میں مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کی جاتی ہے ، ان کے روٹی کپڑا اور مکان کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جاتی ہے اور مسلمانوں کی ترقی و کامرانی کیلئے ہماری حکومت کام کرتی ہے۔
عبدالباری صدیقی وزیر فینانس جو بہار کے ایک تجربہ کار اور سینئر لیڈر ہیں، ان سے پوچھا گیا کہ آپ نتیش کمار چیف منسٹر بہار کی حکومت میں ڈپٹی چیف منسٹر بننے والے تھے مگر لالو پرساد یادو کے لڑکے کو ڈپٹی چیف منسٹر بنادیا گیا۔اس سوال پر وزیر موصوف نے کہا کہ یہ وقت پوزیشن یا کرسی کیلئے بحث کرنے کا نہیں ہے ۔ یہ وقت سارے سیاسی جماعتوں کو مل کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے عظیم ملک ہندوستان کی ترقی کیلئے کام کرنا ہے ۔ ویسے میرے لیڈر لالو پرساد یادو یا نتیش کمار کا جو بھی فیصلہ میرے حق میں ہوگا مجھے منظور ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کیلئے انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے ملک کے وزیراعظم میں ان کو ہمارے ملک کے عوام نے وزیراعظم بنایا ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بہار کی عوام کی ترقی اور خوش حال کیلئے 125 کروڑ روپئے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم یہ رقم بہار کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے جلد سے جلد دے کر اپنا وعدہ پورا کریں گے۔
عبدالباری صدیقی وزیر فینانس سے سوال کیا گیا کہ اب یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ عرب ممالک کے این آر آئیز کی واپسی شروع ہوچکی ہے ۔ آپ کی حکومت ان واپس آنے والے این آر آئیز کیلئے کیا سہولتیں فراہم کر رہی ہے ۔ وزیر صاحب نے فرمایا کہ جو این آر  آئیز واپس آچکے ہیں یا واپس آنے والے ہیں، ان این آر آئیز کا تعلق چاہے ہندوستان کے کسی بھی شہر سے ہو ان سب سے میری گزارش ہے کہ وہ بہار میں چھوٹے یا بڑے انڈسٹریز میں سرمایہ کاری کریں کیونکہ بہار میں تجارت کے بڑے اچھے موقع حاصل ہیںاور ہماری حکومت این آر آئیز کو ہر طرح کی مدد کیلئے ہر وقت تیار ہے ۔ اگر کوئی این آر آئی مجھ سے راست ملاقات کرنا چاہتا ہے تو وہ کسی بھی وقت مجھ سے ملاقات کرسکتا ہے ۔ میں ہر ایک این آر آئی کو ہر طرح سے مدد کرنے تیار ہوں۔
وزیر موصوف نے آخری سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت صرف اور صرف عمرہ کی ادائیگی کیلئے آیا ہوں ۔ آپ لوگوںکی محبت کی خاطر آج کی محفل میں شرکت کیا ہوں ۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی خوبصورتی اور وسیع پیمانے پر تعمیر دیکھ کر کہا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کی حکومت کے شکریہ کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ہمیشہ صحت و تندرستی سے رکھے اور ہر قدم پر اللہ ان کی اور ان کی حکومت کی مدد فرمائے (آمین)
اس خیرمقدمی تقریب میں ہندوستان کے کئی شہروں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیتوں نے شرکت کی ہے ۔ شاندار ڈنر اور شاہ رخ علی صاحب خانہ کے شکریہ پر یہ خیرمقدمی تقریب رات دیر گئے اختتام پذیر ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT