Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / جدید و عصری علوم کے حصول میں نیک مقاصد کی اہمیت

جدید و عصری علوم کے حصول میں نیک مقاصد کی اہمیت

اذاں انٹرنیشنل اسکول میں حفاظ کی دستاربندی، مولانا سلمان حسینی ندوی کا خطاب

اذاں انٹرنیشنل اسکول میں حفاظ کی دستاربندی، مولانا سلمان حسینی ندوی کا خطاب

حیدرآباد ۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) مفکراسلام فضیلۃ الشیخ حضرت سید سلمان حسینی ندوی نے آج کہا کہ کے ایک بڑے طبقہ کا یہ تصور ہے کہ نبی آخر الزماں محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا مقصد صرف یہ ہے کہ رب کائنات سے اس کے بندوں کا تعلق جوڑنے، ان کے اخلاق سنواریں جائیں، عبادات و ریاضت کا طریقہ سکھلایا جائے، جنت کا راستہ ہموار کیا جائے اور ان کی عاقبت سنواری جائے مگر یہ تصور ناقص و ادھورا ہے۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت دنیا و آخرت میں انسان کی رہنمائی کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انقلابی پیغام کا مقصد ساری دنیا میں ایک عظیم تبدیلی لانا ہے۔ ظلم و استبداد کے نظام کا خاتمہ کرنا ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے پیغمبر کو ہدایت دے کر اور صحیح و درست نظام جات دے کر دنیا میں اس لئے بھیجا کہ جتنے بھی نظام آئے تھے افکار نظریات ابھرے تھے ان پر نظریہ اسلام کو غالب کردیا جائے جو مادی و روحانی دونوں اعتبار سے انسانیت کی کامل رہنمائی کا حامل ہے۔ حضرت سید سلمان حسینی ندوی یہاں اذان انٹرنیشنل اسکول (گنبدان قطب شاہی روڈ) میں انوارالنساء میموریل آڈیٹوریم کے افتتاح اور تکمیل حفظ کرنے والے طلبہ کی دستاربندی کے بعد مخاطب تھے۔ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا

اس وقت آج کی دنیا کا ترقی یافتہ کہلانے والا یورپ بدترین تاریکی، جہالت، انارکی، ظلم و استبداد کے دور سے گذر رہا تھا۔ آج پھر سے انسانیت اسی دور میں مزید شدت کے ساتھ داخل ہورہی ہے۔ ایسے میں خیرالامت، وارث الانبیاء پر عظیم تر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گنہگاریوں، فحاشی، فساد، کرپشن اور دنیا جہاں کی برائیوں کو مٹاتے ہوئے ایک صالح معاشرہ کی اساس قائم کریں اور علم کو صحیح معنوں میں نسلوں تک منتقل کرنے اٹھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خالق کائنات نے علم کی تخصیص دینی و دنیاوی تفریق کے ساتھ نہیں کی ہے بلکہ اسلام میں علم کی تفریق نافع و غیر نافع کی اساس پر ہے۔ اسلام کی رو سے ہر جدید و عصری علم اسلامی ہے جس کے حصول کا مقصد نیک ہو اور جس کا فائدہ انسانیت کے لئے ہو مگر آج علم کی راہیں منحرف ہوگئی ہیں۔ علم کے ذریعہ انسانیت کو فروغ نہیں دیا جارہا ہے۔ مقاصد کے بدل جانے کے نتیجہ میں کرپشن غالب آ چکا ہے، عقائد و اخلاق میں بگاڑ آ چکا ہے، خواتین کا استحصال ہونے لگا ہے، نوجوانوں میں آوارگی و بے حیائی بڑھنے لگی ہے، حکمراں ظلم و استبداد کے ذریعہ انسانوں پر راج کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ رب العزت نے نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہلی وحی کی پہلی آیت کے نزول کے ذریعہ علم کی وسعتوں کو بے کنار کردیا ہے۔ اس آیت میں کسی بھی شعبہ کے علم کو نہیں چھوڑا گیا ہے۔ جب ہم نے اقراء کی تحریک شروع کی تھی اس وقت دنیا ہمارے ہاتھ میں تھی۔ لازمی تعلیم کا تصور دیا۔

اس اپنی تحریک نے سائنس کے علوم کو وسعت دی۔ بہترین تہذیب و تمدن کی داغ بیل ڈالی، نئی کالونیاں بسائی گئیں۔ اس دور کے مسلمانوں کا مقصد دولت کے ذریعہ کرسی ہتھیانا تھا نہ دولت کے لئے کرسی حاصل کرنا تھا۔ حکمراں خود کو خدمتگار تصور کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا کے جس خطہ میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور ان کے شاگرد پہنچے لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ آج مسلمانوں کو پھر سے یہ مشن انجام دینا ہے۔ اسکول کے طلبہ نے متاثرکن انداز میں تعلیمی مظاہرہ کیا۔ پروفیسر مولانا راشد نسیم ندوی نے مہمان خصوصی کا تعارف پیش کیا۔ پرنسپل ڈاکٹر نیر اقبال نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کے تعلیمی نظام کا تعارف پیش کیا۔ انور چیاریٹیبل ٹرسٹ اور اذان انٹرنیشنل اسکول کے صدرنشین ڈاکٹر محمد یوسف اعظم نے مہمانوںکا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر اعظم نے کی۔

TOPPOPULARRECENT