Wednesday , December 12 2018

جدید ٹکنالوجی نے مطالعہ سے دور کردیا

جدید ٹکنالوجی سے تعلق رکھنے والی اس قدر ترغیبات موجود ہیں کہ ان میں کتابیں پرھنے کا رجحان بہت کم ہے۔ بچے تو بچے، اب تو بڑوں کو بھی کتابیں پڑھنے کی فرصت اور شوق نہیں رہا۔ بیشتر گھرو ںمیں کتابیں، اور کتابیں پڑھنے کا ماحول ہی نہیں رہا۔

جدید ٹکنالوجی سے تعلق رکھنے والی اس قدر ترغیبات موجود ہیں کہ ان میں کتابیں پرھنے کا رجحان بہت کم ہے۔ بچے تو بچے، اب تو بڑوں کو بھی کتابیں پڑھنے کی فرصت اور شوق نہیں رہا۔ بیشتر گھرو ںمیں کتابیں، اور کتابیں پڑھنے کا ماحول ہی نہیں رہا۔
یہی وجہ ہے کہ بچوں میں یہ رجحان نہیں بننے پاتا۔ گوکہ ہم سب جانتے ہیں کہ کتابیں پڑھنا بچوں کیلئے اہمیت رکھتا ہے لیکن کیا آپ اس بات سے واقف ہیں کہ اسکول جانے کی عمر سے پہلے بچوں میں کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کرنا آگے چل کر ان کیلئے کس قدر سود مند ثابت ہوتا ہے۔ بچوں میں یہ شوق پروان چڑھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں کہانیوں کی کتابیں پڑھ کر سنائی جائیں۔ کتابیں پڑھنا کام نہیں بلکہ تفریح ہے، بچوں کو شروع ہی سے کتابوں میں دلچسپی پیدا ہوجائے تو آگے چل کر پڑھنا اور مطالعہ کرنا انہیں بوجھ یا بیزار کن کام محسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ کتابیں پڑھنے میں لطف محسوس کرتے ہیں۔ ایسے بچے ٹی وی، ویڈیو گیمس اور دیگر دلچسپیوں پر مطالعے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ تو چند مثالیں تھیں جو آپ کے سامنے پیش کی گئیں، لیکن سچ یہ ہے کہ کتابیں پڑھنے اور بچوں میں کتب بینی کا رجحان پیدا کرنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ ماں کی حیثیت سے آپ کا فرض ہے کہ اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر بچوں کو کہانیوں کی کتابیں پڑھ کر سنائیں تاکہ ان میں ایک اچھی عادت کی بنیاد مضبوط ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT