Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / جذبہ قربانی کے بجائے نمود و نمائش اور ریاکاری کا افسوسناک رجحان

جذبہ قربانی کے بجائے نمود و نمائش اور ریاکاری کا افسوسناک رجحان

قیمتی بکروں اور مینڈھوں کی خریداری کا دکھاوا ، احکام شریعت کے مغائر
حیدرآباد ۔ 22 ؍ستمبر ( سیاست نیوز) قربانی کے سلسلہ میں احکام شریعت واضح طور پر موجود ہیں اور قربانی کے مسائل متعدد مرتبہ بیان کئے جاتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی عید الاضحی کے موقع پر کچھ ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اللہ رب العزت کے احکامات کو فراموش کرتے ہوئے قربانی کے ذریعہ اپنی بڑائی دکھانے اور ریاکاری کی کوشش کرتے ہیں ۔ ماہ ذی الحجہ کے آغاز کے ساتھ ہی بعض مخصوص تاجرین اپنے قیمتی بکروں اور مینڈھوں کی نمائش شروع کر دیتے ہیں اور چند لوگ ان بکروں کی خریدی میں ایک دوسرے پر سبقت لینے جانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے خریدار صرف قربانی کے لئے بکرا نہیں خرید رہے ہیں بلکہ قربانی کے ساتھ انہیں نمائش بھی مقصود ہے ۔ جبکہ سورہ حج میں ارشاد باری تعالی ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کو نہ تو قربانی گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اسے تمہارا تقوی ٰ پہنچتا ہے ‘‘ ۔ واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے احکام موجودگی کے باوجود لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہوئے قربانی کے جانور خریدنا کس حد تک درست ہے اس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ اکثر لوگ جو قیمتی بکرے خریدتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ بہتر قربانی دینے کے خواہشمند ہوتے ہیں لیکن بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو نمائش اور نمود کے لئے قیمتی جانور خریدتے ہیں تاکہ اخباروں میں ان کے جانور اور قیمت شائع ہو جبکہ قربانی کے جانور کے متعلق احکامات میں واضح طور پر یہ بات موجود ہے کہ قربانی کے لئے کس طرح کے جانور کا انتخاب کیا جانا چاہئے ۔ اسی طرح گذشتہ چند برسوں کے دوران یہ دیکھا جا رہا ہیکہ قربانی کے گوشت کی تقسیم کے متعلق کوتاہی سے کام لیا جانے لگا ہے ۔ عموماً یہ روایت رہی کہ قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ اس عمل کا تعلق سماجی مساوات کا حصہ ہے ناکہ قربانی کے احکام میں یہ عمل شامل ہے ۔ قربانی دینے والی کی جانب سے جانور کے گلے پر چھری چلائی جاتی ہے اور جیسی خون زمین پر گرتا ہے تو قربانی کا عمل مکمل ہوجاتا ہے اور معاشرتی ذمہ داریوں اور عزیز و اقرباء کے علاوہ غرباء و مستحقین کو بھی گوشت پہنچے اسی لئے قربانی کے گوشت کی تین حصوں کی روایت شروع کی گئی تھی لیکن بیشتر جگہوں پر یہ روایت اب بھی برقرار ہے ۔ لیکن شہری علاقوں میں بتدریج یہ روایات گھٹتی جا رہی ہے اور لوگ قربانی کے گوشت کو جمع کرنے کے لئے ڈیپ فریزر حاصل کر رہے ہیں تاکہ لمبے وقفہ تک گوشت کو خراب ہونے سے محفوظ رکھا جاسکے ۔ قربانی کے گوشت کے استعمال کے متعلق شرعیت مطہرہ میں کھلی اجازت فراہم کی ہے اس کا استعمال کرے اور ایام نحر اور ایام تشریق  کے علاوہ بھی قربانی کا گوشت استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ ابتداء میں قربانی کے گوشت کو تین سے زائد استعمال کرنے سے منع کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس کی اجازت دے دی گئی ۔ حالیہ عرصہ میں ڈیپ فریزر کے کاروبار میں اضافہ دیکھا جارہا ہے چونکہ وہ غرباء و مساکین کے علاوہ مستحقین کو تقسیم کے متعلق کوتاہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور عید الاضحی کے قریب اخبارات میں ڈیپ فریزر کی فروخت کے اشتہارات شائع ہونے لگے ہیں جس طرح موسم گرما کے آغاز سے قبل ایر کولر اور ریفریجٹر کے اشتہارات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں اس بات کا احساس شدت کے ساتھ پیدا کرے کہ ان کی قربانی صرف اور صرف رضائے الٰہی کے خاطر ہو چونکہ اللہ رب العزت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف تقوی دیکھتا ہے اسی لیئے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ قربانی انجام دی جائے تاکہ سنت ابراہیمی اور ہر صاحب نصاب کے لئے واجب علی العین امر کی تکمیل ہو ‘ جسے بارگاہ ایزدی میں شرف قبولیت حاصل ہوسکے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT