جرمنی میں مخالف اسلام مظاہرے ، حکومت کیلئے مشکلات

برلن ۔ 15 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) جرمنی میں چانسلر انجیلا میرکل کو اپنے اتحادیوں اور مخالفین دونوں کی جانب سے اس حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے کہ وہ ملک میں تارکین وطن کے خلاف جذبات کو ہوا دینے والے اسلام مخالف مظاہروں کی موجودہ لہر پر قابو پائیں۔ انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین کی طرف سے یہ احتجاجی مظاہرے گزشتہ کئی ہفتوں سے ہر دوشنبہ کو

برلن ۔ 15 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) جرمنی میں چانسلر انجیلا میرکل کو اپنے اتحادیوں اور مخالفین دونوں کی جانب سے اس حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے کہ وہ ملک میں تارکین وطن کے خلاف جذبات کو ہوا دینے والے اسلام مخالف مظاہروں کی موجودہ لہر پر قابو پائیں۔ انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین کی طرف سے یہ احتجاجی مظاہرے گزشتہ کئی ہفتوں سے ہر دوشنبہ کو مشرقی شہر ڈریسڈن میں کئے جا رہے ہیں۔ ان کا اہتمام مغربی ملکوں کی مبینہ اسلامائزیشن کے خلاف خود کو محب وطن یورپی باشندوں کے اتحاد کا نام دینے والی تنظیم ’پیگیڈا ‘کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ مظاہرے مغربی یورپی ملکوں میں مسلم انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف کئے جاتے ہیں اور ان کا مقصد اُن مسلم جہادیوں کی مذمت ہے، جن کی مغربی معاشروں میں مجموعی تعداد میں حالیہ اضافے کے بارے میں بار بار ذرائع ابلاغ میں رپورٹیں بھی سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔ دوسری طرف دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر کا یہ احتجاج مسلم عسکریت پسندی کی مخالفت کے بجائے اسلام مخالف رنگ بھی اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پیگیڈا کی طرف سے ملک میں تارکین وطن کے خلاف جذبات کو ہوا دیے جانے کا احساس بھی شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT