Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / جرمنی میں نفسیاتی بیمار شہری نے وین راہگیروں پر چڑھا دی، 3 ہلاک

جرمنی میں نفسیاتی بیمار شہری نے وین راہگیروں پر چڑھا دی، 3 ہلاک

متعدد دیگر زخمی، چھ کو شدید زخم آئے ، واقعہ کو دہشت گرد حملہ کہنا قبل از وقت ، جرمن پولیس کا بیان

برلن ، 7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جرمن شہر میونسٹر میں آج کم از کم تین افراد ہلاک ہوگئے جب ایک گاڑی مصروف کیفے اور رسٹورنٹ والے علاقے میں راہگیروں پر چڑھا دی گئی اور پھر ڈرائیور نے خود کو گولی مار کر وہیں پر خودکشی کرلی۔ سوشل میڈیا پر دستیاب تصاویر میں قرونِ وسطیٰ کے خوبصورت شہر کے قلبی علاقے میں واقع رستوران کے باہر پوری گلی میں ٹوٹے پھوٹے میزیں اور کرسیاں دیکھے جاسکتے ہیں۔ پولیس کے مطابق 50 دیگر افراد زخمی ہوئے، جن میں سے چھ کو شدید زخم آئے ہیں۔ جرمنی کے اس مغربی شہر میں پولیس کی ترجمان ونیزا آرلت نے نیوز ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ جو گاڑی استعمال ہوئی وہ وین ہے جس کے ڈرائیور نے ’’خود کو گولی مارلی‘‘۔ اُس نے میونسٹر کے قلبی علاقے میں بڑے چوراہے پر واقع کئی کیفے اور رستوران کو گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا۔ پولیس کے دیگر ترجمان اینڈریاس بوڈ نے کہا کہ اس واقعہ کو دانستہ حملہ قرار دینا ’’ابھی قبل ازوقت‘‘ ہے۔ پولیس کے مطابق یہ بظاہر حملہ ہوا اور وین ڈرائیور نے خود کو گولی مار کر موقع پر ہی خود کشی کر لی۔ وفاقی جرمن دارالحکومت برلن اور جرمنی کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبہ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر میونسٹر سے نیوز ایجنسی ’روئٹرز‘ کی اطلاعات کے بموجب یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق سہ پہر کیا گیا اور اس واقعے میں ایک شخص نے اپنی مال بردار گاڑی شہر کے وسط میں راہگیروں کے ہجوم پر چڑھا دی۔ صوبائی پولیس کے ابتدائی بیانات کے مطابق اس واقعے میں متعدد افراد ہلاک یا زخمی ہوگئے۔ میونسٹر کی پولیس نے آخری خبریں آنے تک زخمیوں کی تعداد 50 تک بتائی ہے۔ جرمنی کے کثیر الاشاعت روزنامہ ’بِلڈ‘ نے لکھا ہے کہ اس ’حملے میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے اور پولیس نے میونسٹر شہر کے اندرونی حصے کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے۔‘‘ پولیس کے مطابق اس واقعے کے فوری بعد اس کے محرکات اور موقع سے دستیاب ابتدائی شواہد کی روشنی میں صورت حال قطعی غیر واضح ہے ۔ تاہم حملہ آور کی جرمن شہری کی حیثیت سے شناخت ہوئی، جو نفسیاتی مسائل سے دوچار تھا۔ نیوز ایجنسی ’ڈی پی اے‘ نے کہا کہ حملہ آور تقریباً 50 سال کا تھا۔ وہ نفسیاتی عارضے کا شکار ضرور تھا لیکن اُس کے ’’دہشت گردی‘‘ سے روابط معلوم نہیں ہوئے۔ روئٹرز کے مطابق اس تازہ حملے نے ڈسمبر 2016ء میں برلن میں پیش آئے اُس حملے کی یاد تازہ کر دی ہے، جب ایک پناہ گزین کے طور پر جرمنی میں داخل ہونے والے تیونس کے شہری نے ایک ٹرک ایک کرسمس مارکیٹ کے شرکاء پر چڑھا دیا تھا۔ اُس حملے میں تب 12 افراد مارے گئے تھے۔ اس حملے کے ملزم انیس عامری نے کرسمس مارکیٹ پر حملے کیلئے یہ ٹرک 19 ڈسمبر 2016ء کو اس کے ڈرائیور کو قتل کرنے کے بعد اپنے قبضے میں لیا تھا اور پھر اسے برلن کی کرسمس مارکیٹ میں موجود سینکڑوں افراد پر حملے کیلئے استعمال کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT