Sunday , November 19 2017
Home / دنیا / جرمنی میں ہزاروں پناہ گزینوں کا داخلہ، تارکین وطن بحران میں شدت

جرمنی میں ہزاروں پناہ گزینوں کا داخلہ، تارکین وطن بحران میں شدت

مستحکم معیشت ہونے کے باوجود جرمنی پناہ گزینوں کا اکیلے بوجھ اٹھانے کا متحمل نہیں : وائس چانسلر
برلن ۔ 21 (ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ شام سے پناہ گزینوں کی یوروپ آمد کا سلسلہ جاری ہے وہیں جرمنی نے اپنے تمام یوروپی یونین شراکت داروں کو ہدایت کی ہیکہ وہ پناہ گزینوں کی آمد کو کسی ایک ملک پر بوجھ نہ ڈالیں بلکہ انہیں تقسیم کی بنیاد پر پناہ فراہم کریں۔ جرمنی نے اس سلسلہ میں جاری ہفتہ کے دوران ہی دو اہم اجلاس کا انعقاد کیا تھا جبکہ کل برسلز میں 28 ممالک کے وزرائے داخلہ کا اجلاس منعقد ہورہا ہے، جس کے ذریعہ پناہ گزینوں کے مستقل ٹھکانوں کی نشاندہی اور ان کے رجسٹریشن کیلئے مقامات کا تعین بھی عمل میں آئے گا جو ممکنہ طور پر یوروپی یونین کی خارجی سرحدوں کے قریب ہوں گے۔ وائس چانسلر اور وزیر معاشیات کی سگمرگیبرئیل نے یہ بات کہی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور جرمنی اور کچھ دیگر ممالک اکیلے ان کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہیکہ یوروپی یونین کے دیگر ممالک بھی اس ضرورت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے آگے آئیں اور پناہ گزینوں کو ایک بہتر زندگی فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ یہ بات قابل ذکر ہیکہ جرمنی کو یوروپ کا معاشی طور پر مستحکم ترین ملک تصور کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی پناہ گزینوں کی کثیر تعداد کو پناہ دینے کا متحمل نہیں ہوسکتا حالانکہ ملک کی عوام کی ستائش کی جانی چاہئے جنہوں نے پناہ گزینوں کے دکھ کو سمجھتے ہوئے ناقابل یقین حد تک امداد فراہم کرنے رضامندی کا اظہار کیا ہے لیکن یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ اگر پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو یہی عوام حکومت سے سوال پوچھنے پر مجبور ہوجائے گی کہ آخر ایسا کب تک چلے گا لہٰذا یوروپی یونین کی بقاء کیلئے بھی یہ ضروری ہیکہ ہر ملک پناہ گزینوں کی کچھ نہ کچھ تعداد کو پناہ فراہم کرے اور اکیلے کسی ملک پر بوجھ نہ ڈالے۔ یوروپی یونین کے سربراہان مملکت یا وزرائے داخلہ اجلاس میں شرکت کے ذریعہ پناہ گزینوں کے بحران کی اصل وجوہات معلوم کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ مسٹر گیبرئیل نے ترکی کی مزید امداد پر بھی زور دیا جو بلقان کے راستہ سے یوروپ میں داخل ہونے کی کلیدی راہداری بن چکا ہے۔ خارجی سرحدوں پر رجسٹریشن سنٹرس قائم کرنے سے حکام کیلئے یہ کام آسان ہوجائے گا وہ ان حقیقی پناہ گزینوں کی شناخت کریں جو واقعتاً یوروپی یونین میں پناہ کے مستحق ہیں اور جو غیرمستحق ہیں انہیں یوروپی یونین میں داخلہ کے بغیر واپس کردیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT