Saturday , December 15 2018

جرمنی کی روس ۔ یوکرین تنازعہ میں ثالثی کی پیشکش

برلن ۔ 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ اْن کا ملک روس اور یوکرین کے درمیان بْحیرہ آزوف میں جاری حالیہ بحران ختم کرنے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور اْن کی کابینہ کے چند ارکان نے یوکرین اور روس سے اپیل کی ہے کہ دونوں ممالک اس حالیہ تنازعہ کو ختم کریں۔ یہ اپیل یوکرین کی جانب سے جرمنی اور نیٹو اتحاد سے مزید ملٹری امداد کے مطالبے کے بعد کی گئی ہے۔روس اور یوکرین کے درمیان گزشتہ روز اْس وقت ایک بڑا تنازعہ شروع ہو گیا جب اتوار کے روز کریمیا کے نزدیک آبنائے کیرچ سے روس نے یوکرین نیوی کے تین بحری جہازوں پر فائرنگ کے بعد انہیں پکڑ لیا تھا۔روس نے بحری جہازوں کے عملے پر سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ علاوہ ازیں روسی خفیہ ایجنسی ایف ایس بی نے کہا کہ جہاز پر انٹیلیجنس افسران کی موجودگی، جسے یوکرین نے تسلیم کیا، اشتعال انگیزی کا باعث ہے۔جرمن حکومت کے ترجمان اشٹیفان زائبرٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چانسلر میرکل نے آج روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ٹیلیفون پر گفتگو میں تنازعہ کو ختم کرنے اور اس حوالے سے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جواب میں جرمنی سے یوکرین کے ’اشتعال انگیز‘ رویے کی مذمت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ برلن حکومت اس سلسلے میں یوکرین پر مستقبل میں ایسے اقدامات سے باز رکھنے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کر سکتی ہے۔ صدر پوٹن نے یوکرینی صدر پیٹرو پوروشینکو کی جانب سے 30 دنوں کیلئے مارشل لاء لگانے کے احکامات پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔اسی دوران اطلاعات ہیں کہ جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فرانس اور جرمنی نے دونوں ممالک کو تنازعہ کے حل کے لیے ثالثی کردار کی پیشکش کی ہے۔دوسری جانب جرمنی کی وزیر دفاع ارزولا فان ڈیئر لائن نے بھی اس حوالے سے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یوکرینی نیوی کے سیلرز کو رہا کرے۔ جرمن وزیر دفاع نے روس اور یوکرین سے کہا ہے کہ وہ کشیدہ صورتحال میں کمی لانے کیلئے مثبت اقدامات کریں۔روسی بحریہ نے ان سیلرز کو گزشتہ ویک اینڈ پر حراست میں لیا تھا۔ اس کے بعد یوکرین نے پیر 26 نومبر سے اپنے سرحدی علاقوں میں 30 دنوں کیلئے مارشل لا نافذ کرتے ہوئے اپنی افواج کو چوکس کر دیا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر پیٹرو پوروشینکو نے ملکی دفاع کو مزید مضبوط کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

مہاجرین کے حوالے سے اقوام متحدہ کے معاہدے پر جرمن حکومت کا اتفاق
برلن ۔ 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جرمن حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹس اور یونین جماعتیں مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے معاہدے کے حوالے سے ایک مشترکہ قرارداد پر متفق ہو گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مسودے میں زور دیا گیا ہیکہ اس معاہدے میں بنیادی حقوق یا ذمہ داریوں کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ اس طرح ان افواہوں نے دم توڑ دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے معاہدے سے جرمنی کے دائرہ اختیار میں تبدیلی آ جائے گی اور مزید مہاجرین جرمنی کا رخ کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر برلن حکومت نے قانونی اور غیر قانونی مہاجرین میں واضح فرق کرنے کے سلسلے کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT