Saturday , December 15 2018

جرمن سرمایہ کاروں و تاجروں کی مدد کیلئے میکانزم کی تیاری: مودی

برلن 14 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) ومیر اعظم نریندر مودی نے آج اعلان کیا کہ جرمنی سے آنے والے سرمایہ اور تجارت کی مدد کرنے کیلئے ہندوستان میں ایک میکانزم تیار کیا جائیگا ۔ دونوں ملکوں نے باہمی معاشی تعاون کو وسیع تر کرنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ نریندر مودی نے جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکیل کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ اعلان کیا ۔ دونوں قائدین نے گذ

برلن 14 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) ومیر اعظم نریندر مودی نے آج اعلان کیا کہ جرمنی سے آنے والے سرمایہ اور تجارت کی مدد کرنے کیلئے ہندوستان میں ایک میکانزم تیار کیا جائیگا ۔ دونوں ملکوں نے باہمی معاشی تعاون کو وسیع تر کرنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ نریندر مودی نے جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکیل کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ اعلان کیا ۔ دونوں قائدین نے گذشتہ دو دن کے دوران بات چیت کی ہے ۔ یہاں پہلے ہنوور صنعتی میلہ کا افتتاح کیا گیا پھر انڈین پویلین کا افتتاح عمل میں آیا ۔ مودی نے کہا کہ انجیلا مرکیل اور جرمنی میں انہوں نے جو دلچسپی اور جوش و جذبہ کا مشاہدہ کیا ہے اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ انہیں جو اطلاعات ملی ہیں ان سے بھی ہندوستان کو اپنی پالیسیوں کی تیاری میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے انجیلا مرکیل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جرمنی کی کمپنیوں کیلئے ایک میکانزم تیار کیا جائے تاکہ ان کی سرمایہ کاری اور ہندوستان میں تجارت کو فروغ دیا جاسکے ۔ مودی نے کہا کہ ان کے دورہ جرمنی کا مقصد صرف جرمنی کے صنعتکاروں کو ہندوستان آنے کی دعوت دینا نہیں ہے بلکہ وہ صنعتی حلقہ کو یہ تیقن دینا چاہتے ہیں کہ انہیں ایک کھلا اور مستحکم ماحول دستیاب ہوگا جس میں کاروبار کرنا آسان اور سہل ہوگا ۔ اس ماحول میں صنعتکاروں کو ہندوستان میں سرمایہ کاری اور تجارت کرنے میں ان کی مکمل مدد بھی حاصل رہے گی ۔

اپنے ریمارکس میں انجیلا مرکیل نے کہا کہ دونوں ملکوں نے وسیع تر شراکت کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ماہ اکٹوبر میں ہندوستان کا دورہ کرنے والی ہیں اور دونوں ملکوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس وقت باہمی معاشی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس دورہ کے موقع پر وہ کئی کابینی ارکان کو اپنے ساتھ لائیں گی اور سیاسی سطح پر دونوں ملکوں کے تعلقات کی سطح کا جائزہ لیا جائیگا۔ مودی کے سہ روزہ دورہ جرمنی کے اختتام پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے اپنے ہمہ جہتی باہمی مفادات کے حامل تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے ایک منصوبہ تیار کرنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ نریندر مودی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بین الاقوامی برادری سے کہا کہ وہ دہشت گردی کو نیوکلئیر پھیلاؤ جیسے حساس مسئلہ کی طرح سمجھیں اور دنیا کو چاہئے کہ وہ اجتماعی طور پر ان ممال پر دباؤ ڈالیں جو دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں۔

ان کا اشارہ پاکستان کی سمت تھا ۔ وزیر اعظم نے بین الاقوامی دہشت گردی پر زیر التوا جامع کنونشن پر بھی جاریہ سال اقوام متحدہ اجلاس میں منظوری کیلئے زور دیا ۔ اس کنونشن کا مقصد بین الاقوامی دہشت گردی سے نمٹنے تعاون کو مستحکم کرنا ہے ۔ مودی نے دہشت گردی کو انسانیت کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ جو لوگ انسانیت میں یقین رکھتے ہیں انہیں دہشت گردی سے نمٹنے ایک آواز ہونے اور اجتماعی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ساری دنیا کیلئے ایک چیلنج ہے اور اس مسئلہ سے اسی حساسیت کے ساتھ نمٹا جانا چاہئے جس طرح نیوکلئیر پھیلاؤ سے نمٹا جاتا ہے ۔ مودی نے کہا کہ ہمیں یہ جائزہ لینا چاہئے کہ م کس طرح سے ان ذرائع کو روک سکتے ہیں جہاں سے ہتھیار سپلائی کئے جاتے ہیں۔ ہمیں ان ممالک پر دباؤ ڈالنا چاہئے جہاں حکومتیں دہشت گردوں کو پناہ دے رہی ہیں۔ ہمیں اس طرح کے ممالک اور حکومتوں کو یکا و تنہا کرنے کی ضرورت ہے ۔ مودی نے کہا کہ دہشت گردی کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے انداز بدل رہے ہیں۔ دنیا کے ہر علاقہ تک اس کے خطرات پھیلتے جا رہے ہیں۔ ہمیں ایک جامع عالمی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس عالمی چیلنج سے نمٹا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ہندوستان اور جرمنی مل کر کام کرسکتے ہیں۔ جرمن چانسلر نے بھی کہا کہ دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اجتماعی جدوجہد کرینگے کیونکہ یہ ایک عالمی چیلنج ہے ۔

سلامتی کونسل میں ہندوستان کو مستقل نشست کا مطالبہ
برلن 14 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج سوال کیا کہ ہندوستان کو ‘ جس کے ڈی این اے میں امن ہے اور جو گاندھی جی اور گوتم بدھ کی سرزمین ہے ‘ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مستقل نشست کیلئے کیوں 70 سال سے انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کے 70 سال کی تکمیل جاریہ سال ہونے والی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہندوستان کو سلامتی کونسل میں مستقل نشست دے کر انصاف کیا جائے ۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان ان ممالک میں ہے جنہوں نے عالمی سطح پر امن فوج میں ہمیشہ اپنا رول ادا کیا ہے ۔ ہندوستان کی تاریخ رہی ہے کہ وہ کبھی بھی جارحیت پسندی میں ملوث نہیں رہا ہے اس کے باوجود اسے سلامتی کونسل میں مستقل نشست کیلئے 70 سال سے انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT