Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / جرنلسٹ گوری لنکیش قتل کی ایس آئی ٹی تحقیقات کا آغاز

جرنلسٹ گوری لنکیش قتل کی ایس آئی ٹی تحقیقات کا آغاز

MUMBAI, SEP 06 (UNI):- Social activist Protest against Journalist Gauri Lankesh Murder shot at her home in Bengaluru at Amphitheater Bandra,in mumbai on Wednesday.UNI PHOTO-166U

حملہ آور جلد گرفتار ہوں گے : وزیرداخلہ۔ ’’میری بہن کے قتل کو سیاسی رنگ نہ دیں ‘‘۔ اندرجیت لنکیش
بنگلورو 7 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے جرنلسٹ و سماجی کارکن گوری لنکیش کے قتل کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جبکہ حکومت کرناٹک نے آج کہا ہے کہ حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کئے جانے کا امکان ہے۔ ریاستی حکومت نے کل آئی جی پی (انٹلی جنس) آر کے سنگھ کی زیرقیادت 21 رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جو گوری لنکیش قتل کی تحقیقات کرے گی۔ جرنلسٹ کے قتل کے بعد ملک گیر سطح پر احتجاج کی لہر شروع ہوگئی اور سیاسی سطح پر بھی مذمت کی جارہی ہے۔ ریاستی وزیرداخلہ رام لنگا ریڈی نے آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ایس آئی ٹی ارکان نے گوری لنکیش قتل مقدمے کی تحقیقات شروع کردی ہے اور جلد از جلد حملہ آوروں کی گرفتاری کا امکان ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہاکہ تحقیقاتی عہدیدار کو اِس معاملے کو مکمل آزادی دی گئی ہے اور وہ جب بھی ضرورت محسوس کریں، عوام کو معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا پولیس نے حملہ آوروں کی نظریاتی شناخت کے بارے میں کوئی اشارہ دیا یا بادی النظر میں کوئی ثبوت اکٹھا کیا ہے، اُنھوں نے کہاکہ ایس آئی ٹی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیقات کرتے ہوئے حملہ آوروں کو گرفتار کرے۔ ہوسکتا ہے بادی النظر میں کوئی ثبوت دستیاب ہوا ہے لیکن عوام کے سامنے اِسے پیش کرنے کا صرف اُنھیں اختیار ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ پولیس سی سی ٹی وی فٹیج کا جائزہ لے رہی ہے جو جرنلسٹ کو جہاں گولی ماری گئی اُس مقام پر نصب تھے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ قتل کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کے معاملے میں کوئی سیاسی پیچیدگیاں درپیش ہیں، اُنھوں نے کہاکہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ اگر سی بی آئی تحقیقات کی ضرورت محسوس ہو تو ہم یقینا یہ معاملہ سی بی آئی کے حوالے کریں گے۔ اِس دوران گوری لنکیش کے بھائی اندراجیت لنکیش نے میڈیا اور سیاسی قائدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اِس قتل کو سیاسی رنگ نہ دیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر آپ کسی کے نظریے پر نکتہ چینی کرنا چاہتے ہیں تو یہ انفرادی معاملہ ہوسکتا ہے لیکن اِس قتل پر سیاست نہ کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ گوری لنکیش کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی جیسا کہ بعض گوشے الزام عائد کررہے ہیں۔ اُنھوں نے اِس یقین کا اظہار کیاکہ ایس آئی ٹی بہت جلد حملہ آوروں کو گرفتار کرلے گی۔ سوشیل میڈیا پر آج بھی گوری لنکیش قتل کی مذمت کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے اور بالخصوص میڈیا سے وابستہ شخصیتوں نے سخت ریمارکس کئے۔ اُنھوں نے آزادیٔ صحافت کے بارے میں سوالات اُٹھائے۔ دوسری طرف بعض افراد نے گوری لنکیش کے بارے میں نازیبا تبصرے بھی کئے۔ سینئر ٹی وی جرنلسٹ رویش کمار نے کہاکہ گوری لنکیش کا قتل صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اُنھیں بہادری اور بے خوفی سے اظہار خیال پر موت کی نیند سلایا گیا۔ ایک اور جرنلسٹ پرنجوئے گوہا ٹھکرتا نے بھی مفادات حاصلہ کی مذمت کی جو کسی بھی گوشے سے اُٹھنے والی مخالف آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جے این یو اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار نے کہاکہ یہ صحافیوں کیلئے ایک مشکل گھڑی ہے۔

TOPPOPULARRECENT