Tuesday , November 21 2017
Home / جرائم و حادثات / جسم فروشی کے دوران گرفتار خواتین کی ہنگامہ آرائی

جسم فروشی کے دوران گرفتار خواتین کی ہنگامہ آرائی

شراب اور منشیات کی عدم دستیابی پر بے قابو ، اسٹیٹ ہوم میں توڑ پھوڑ
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : مساج سنٹروں میں جسم فروشی کے دوران حراست میں لی گئیں لڑکیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والی ان جسم فروش لڑکیوں کو اسٹیٹ ہوم جگت گیری گٹہ میں رکھا گیا ہے تاکہ ان کی حالت مستحکم ہونے کے بعد انہیں ان کے ملک روانہ کیا جاسکے ۔ تاہم ان لڑکیوں نے منشیات اور شراب نہ ملنے پر ہنگامہ آرائی شروع کردی ہے اور جنریٹر کو توڑ پھوڑ مچانے کے اقدامات کئے ہیں ۔ ان جسم فروش لڑکیوں کی حرکت پر پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں سدھارتھ نے مبینہ منشیات کا عادی کردیا تھا تاکہ وہ اس کے علاوہ دیگر کسی اور کے یہاں خدمات انجام نہ دیں ۔ ذرائع کے مطابق مساج سنٹر کی آڑ میں جسم فروشی کا کاروبار کرنے والے سدھارتھ کی گرفتاری کے بعد یہ حقیقت منظر عام پر آئی ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کاروبار میں نقصان سے سدھارتھ نے جسم فروشی کا کاروبار شروع کیا اور لڑکیوں کو جو مساج کے لیے طلب کیا گیا تھا ان سے جسم فروشی اور گراہکوں کی عیش و عشرت کا سامان فراہم کررہا تھا ۔ یاد رہے کہ 5 روز قبل پولیس نے مادھا پور ، رائے درگم ، گچی باولی کے علاقوں میں مساج سنٹروں پر دھاوے کئے تھے اور تقریبا 12 اسپا سنٹروں کے خلاف سائبر آباد پولیس نے کارروائی انجام دی تھی ۔ اس دوران پولیس نے 19 افراد کو گرفتار کیا تھا ۔ اور تقریبا 65 لڑکیوں کو آزاد کرواتے ہوئے ریسکیو ہوم منتقل کیا تھا اور اہم سرغنہ سدھارتھ کو گرفتار کرلیا تھا ۔ جس سے پوچھ تاچھ جاری ہے ۔ پولیس نے سدھارتھ سے پوچھ گچھ کے دوران اس بات کا پتہ چلایا کہ ملک کے دیگر میٹرو شہروں میں بھی اس کے تعلقات پائے جاتے ہیں اور یہ کوئی اہم سرغنہ نہیں بلکہ اس سے بڑے شکاری بھی پائے جاتے ہیں ۔ اور یہ نٹ ورک ایک حصہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سدھارتھ لڑکیوں کو فی کس 15 تا 20 ہزار روپئے تنخواہ دیتا تھا جب کہ یہ لڑکیاں گراہکوں کو خوش کرتے ہوئے تنخواہ سے زیادہ ٹپس بھی حاصل کرتی تھیں جن سے انہیں ماہانہ 50 ہزار تا 90 ہزار روپئے تک آمدنی ہوتی تھی ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT