Wednesday , December 19 2018

جسونت سنگھ کا بحیثیت آزاد امیدوار مقابلہ

جودھپور ۔23مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی سینئر لیڈر جسونت سنگھ نے ٹکٹ نہ دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے لوک سبھا حلقہ بارمر سے بحیثیت آزاد امیدوارمقابلے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وہ کل پرچہ نامزدگی داخل کریں گے ۔ تاہم جسونت سنگھ ابھی پارٹی سے مستعفی نہیں ہوں گے اور کہا کہ اس بارے میں کوئی قدم اٹھانے سے پہل

جودھپور ۔23مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی سینئر لیڈر جسونت سنگھ نے ٹکٹ نہ دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے لوک سبھا حلقہ بارمر سے بحیثیت آزاد امیدوارمقابلے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وہ کل پرچہ نامزدگی داخل کریں گے ۔ تاہم جسونت سنگھ ابھی پارٹی سے مستعفی نہیں ہوں گے اور کہا کہ اس بارے میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے وہ رفقاء سے مشاورت کریں گے ۔ انہوں نے کل حلقہ بارمر سے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی توثیق کی اور کہا کہ پارٹی سے استعفیٰ کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا ۔

76سالہ بی جے پی لیڈر اس وقت لوک سبھا میں دارجلنگ کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ انہوں نے لوک سبھا نشست بارمر حال ہی میں کانگریس سے نکل کر پارٹی میں شامل ہونے والے سونارام چودھری کو دینے پر برہمی ظاہر کی ۔ بی جے پی کو انہوں نے 48گھنٹوں کی مہلت دی تھی ۔ یہ وقت گذر جانے کے بعد استعفی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ رفقاء اور دیگر سے مشاورت کے بعد وہ کوئی فیصلہ کریں گے ۔

جسونت سنگھ نے کہا کہ پارٹی چھوڑنے کیلئے 48گھنٹوں کی مہلت دینے کے بعد پارٹی کے لیڈر نے ان سے ربط قائم نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب میں اپنے آبائی مقام اورپارٹی کے بارے میں جذباتی نہ ہوں تو پھر مجھے کسی اور بات پر جذباتی کیوں ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر پارٹی اُن سے بات کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو میرا نمبر ان کے پاس ہے اور وہ مجھ سے ربط قائم کرسکتی ہے لیکن اب تک کسی نے مجھ سے ربط قائم کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ کے اس بیان پر کہ ان کی خدمات سے پارٹی میں مؤثر استفادہ کیا جائے گا

انہوں نے کہا کہ وہ کوئی فرنیچر کا ٹکڑا نہیں ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ میں کوئی ایسی شئے نہیں ہوں کسی نہ کسی جگہ مناسب سمجھ کر رکھ دیا جائے ۔ آپ کسی کو اصولوں کی بنیاد پر نشانہ نہیں بناسکتے اور نہ ہی کسی کی توہین کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے صدر بی جے پی کے اس ریمارک پر بھی تنقید کی کہ انتخابات کے بعد جسونت سنگھ کو ہونے والے نقصان کی پابجائی کردی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسی سوچ اور اس کے پس پردہ ذہنیت کو مسترد کرتے ہیں ۔ ان کا یہ تصور ہے کہ وہ حکومت قائم کریں گے اور انہیں کچھ نہ کچھ پیشکش کردی جائے گی لیکن وہ اس کیلئے تیار نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سوچ کے پس پردہ ہٹ دھرمی اور بے عزتی چھپی ہوئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT