Wednesday , December 12 2018

جسٹس باشاہ نواز خاں ‘ جان جوکھم میں ڈال کر ایک خاندان کو بچالیا

بریک فیل ہونے سے دوڑنے والی کار کو اپنے بل پر روکنے کا کارنامہ ‘ ہر گوشہ کی جانب سے ستائش

بریک فیل ہونے سے دوڑنے والی کار کو اپنے بل پر روکنے کا کارنامہ ‘ ہر گوشہ کی جانب سے ستائش

حیدرآباد ۔ 20 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : عام طور پر ججس کے تعلق سے یہ رجحان پایاجاتا ہے کہ جج سماج کا ایک منفرد اور جداگانہ طبقہ ہے جو محتاط رہتے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جاسکے ۔ لیکن انصاف کے تقاضوں کے علاوہ ایک جج کے یہاں انسانیت کا تقاضہ کافی اہمیت رکھتا ہے جو انہوں نے ایک واقعہ میں ثابت کردیا ۔ تاخیر سے منظر عام پر آنے والے اس واقعہ کے بعد اس جج کا ذکر ہر گوشہ میں ہونے لگا ہے ۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ اسپیشل میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نامپلی کورٹس جسٹس باشاہ نواز خاں ہیں جنہوں نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر ایک خاندان کو محفوظ کیا ۔ ان کے انسانی ہمدردی کے واقعہ نے سماج میں ججس کے رتبہ کو اور بلند کردیا ۔ باشاہ نواز خاں انسانی ہمدردی کے کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں ۔ تاہم اس واقعہ کے بعد ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا بلکہ ایک خاندان کی جان بچائی جو ان کیلئے کافی مشکل تھا ۔ باشاہ نواز خاں کا کہنا ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ اللہ نے ان کے ذریعہ ایک خاندان کو بچالیا ۔ گذشتہ روز ہوا یوں کہ ایک کار میں ایک خاندان موسیٰ رام باغ علاقہ سے گذر رہا تھا اور اسی وقت جسٹس باشاہ نواز خاں اپنے مکان پہونچے اور لب سڑک کار سے اترنے کے بعد انہوں نے ایک کار کو سامنے گذرتے ہوئے دیکھا اور اس کار سے چیخ و پکار سنی جس کے بعد وہ سوچ میں پڑ گئے ۔پہلے انہوں نے اغواء کا معاملہ سمجھا لیکن پھر بعد میں وہ انہیں بچانے شہریوں کو آواز دینے لگے ۔

سڑک پر کافی افراد جمع تھے اور وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے جسٹس باشاہ نے فوری کار کے پیچھے دوڑ لگائی جب انہوں نے دیکھا کہ ایک خاتون اپنے بچہ کو گود میں لیے ہوئے ہے اور دیگر 4 افراد بشمول بچے کار میں موجود ہیں ۔ لیکن کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی نہیں ہے پھر بھی کار چل رہی ہے ۔ جسٹس باشاہ خاں کو دیکھ کر بچے اور خاتون بچانے کی درخواست کررہے تھے اور کار موسیٰ ندی سے کافی قریب تھی ۔ جسٹس خاں نے کار کا تعاقب کیا اور اپنے بازوں کے بل پر کار کو روکنے کی کوشش کررہے تھے ۔ تاہم سڑک پر موجود عوام کی بھیڑ تماشائی بنی ہوئی تھی ۔ کسی نے جسٹس خاں اور نہ ہی اس بے بس خاندان کی مدد کی جو اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے ۔ جسٹس خاں نے پوری کوشش کی جبکہ کار انہیں بھی ڈھکیل کر موسیٰ ندی میں لے جارہی تھی کہ کسی طرح انہوں نے ایک گڑھے میں اپنا قدم رکھ کر کار کو روک لیا اور دوسرے شہری آگئے اور اس خاندان کو بچالیا گیا ۔ جو موسیٰ ندی سے بالکل قریب تھا ۔ یہ کار جو ماروتی سوفٹ کار تھی ۔ ڈرائیو کرنے والا شخص ہینڈ بریک لگا کر دوکان سے خریداری کرنے گیا تھا لیکن ہینڈ بریک فیل ہونے سے کار آگے نکل گئی تھی ۔ سزا دینے والے کی جانب سے جان بچانے کے اس واقعہ کے بعد شہریوں نے مسرت کا اظہار کیا اور جسٹس باشاہ نواز خاں کو مبارکباد پیش کی ۔

TOPPOPULARRECENT