Friday , July 20 2018
Home / Top Stories / جسٹس چلامیشوار ’میرا ماننا ہے کہ آزاد عدلیہ کے بغیر ‘ جمہوریت برقرار نہیں رکھ سکتی ‘۔

جسٹس چلامیشوار ’میرا ماننا ہے کہ آزاد عدلیہ کے بغیر ‘ جمہوریت برقرار نہیں رکھ سکتی ‘۔

Justice Jasti Chelameswar prepares to leave Delhi days ahead of his retirement, from his residence 4, Tuglak Road, New Delhi , on Monday, June 18, 2018. Express photo by Abhinav Saha

’’اس ملک کی عوام کے لئے خدمات انجام دینا میرا فریضہ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ آزاد عدلیہ کے بغیر ‘ جمہوریت برقرار نہیں رکھ سکتی‘ ہم نے جب محسوس کیاہے کہ آزاد عدلیہ پر خطرے کے بادل منڈلارہے ہیں‘ تب ہم نے پریس کانفرنس منعقد کی‘‘۔
جمعہ کی نصف شب کے وقت جسٹس جاستی چلامیشوار سات سال کے نشیب وفراز والی معیاد کی تکمیل کے بعد سپریم کورٹ سے ریٹائرڈ ہوگئے ‘ آج ہی کے روز چیف جسٹس آف انڈیا( سی جے ائی) کے طور پر دیپک مشرا نے اپنے خدمات کی شروعات کی تھی۔جسٹس چلامیشوار کے فیصلوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے آزاد عدلیہ کو یقینی بنانے کیلئے سخت فیصلے بھی لئے ہیں۔

انہوں نے انڈیا ایکسپریس سے اپنے کام‘ نظریات اور مستقبل کے لائحہ عمل کے متعلق بات کی ۔اس کے کچھ اقتباسات یہاں پر پیش کئے جارہے ہیں
اب تو اپ ریٹائرڈہوگئے ہیںآپ اور آپ کے تین ساتھی ( سپریم کورٹ ) کے جج نے 21جنوری کو غیرمتوقع پریس کانفرنس کی تھی اس کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟۔

ہم نے پریس کانفرنس میں کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ اور میں ایسا سونچ بھی نہیں سکتا۔بصورت دیگر میں پریس کانفرنس میں شریک نہیں ہوتا۔مہربانی فرما کر دیا کریں وہ تنہا پریس کانفرنس نہیں تھی۔ وہاں پر سپریم کورٹ کے تین سینئر جج بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔]

اس پریس کانفرنس کے بعد کئی لوگوں نے آپ کوباغی کہاکہ ‘ دیگر نے آپ کو بدگمانی پھیلانے والی قراردیا۔ آپ اپنا بچاؤ کس طرح کریں گے؟

میں اپنا بچاؤ بطور ڈیموکریٹ کروں گا۔ میں چاہتاہوں یہ ملک جمہوری سماج کے طور پر چلے۔ الفاظ کا انتخاب انفراد ی رائے ہے۔ کچھ لوگوں نے مجھے باغی تو کچھ نے مجھے بدگمانی پھیلانے والا تو کچھ نے کمیونسٹ اور کچھ نے مجھے یہاں تک ملک کاغدار بھی کہا ہے۔’’اس ملک کی عوام کے لئے خدمات انجام دینا میرا فریضہ ہے۔

میرا ماننا ہے کہ آزاد عدلیہ کے بغیر ‘ جمہوریت برقرار نہیں رکھ سکتی‘ ہم نے جب محسوس کیاہے کہ آزاد عدلیہ پر خطرے کے بادل منڈلارہے ہیں‘ تب ہم نے پریس کانفرنس منعقد کی‘ ہم نے سمجھاکہ ملک کو اس بات کی جانکاری دینا ضروری ہے‘‘۔

میں نے اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق کام کیا۔ اب یہ سیول سوسائٹی اور مستقبل کی نسلوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسبات کا فیصلہ کریں کہ میرانظریہ اور اقدام درست تھا یانہیں۔ہم میں سے کسی کا بھی ذاتی مفاد نہیں تھا۔ میں نے بہت سارے لوگوں کا سامنا کیاہے۔ پریس کانفرنس کے بعد میرے اپنے کچھ ساتھیوں نے مجھ سے دوری اختیار کی۔

ایک کروڑ وکیلوں کا ایک روز میں سامنا جیسے صورتحال سے بھی میں گذرا ہوں۔ ہم کو کیاحاصل ہوا ؟پریس کانفرنس کے طور پر جس طرح کی چیزیں پیش ائی وہ ایک وہ میرے لئے حقیقی شعور تھا۔ تاہم میں نے اور میرے ساتھیوں نے پریس کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا‘ کیونکہ ہمارا ماننا تھا کہ ہمارا یقین تھا کہ ہم پر عوا م کی ذمہ داری ہے۔

کیایہ تاثر درست ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں ایکزیکٹیو اور عدلیہ کے درمیان تعلقات خراب ہوئے ہیں؟
میںیہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ خراب ہوئے ہیں یا نہیں کیونکہ میرے پاس اولین جانکاری یہ نہیں ہے کہ اس سے قبل کیاہوا ۔ دوسرے دن ایک معزز وزیر نے کچھ سابق کی حکومتوں میں پیش ائی کچھ باتیں لکھی ‘ اور اسی وجہہ سے موجودہ حکومت عدلیہ سے نمٹنے کے لئے کاروائی کیونکر درست ہوسکتی ہے۔

اسطرح کی منطق میرے لئے چیلنج بن گئی۔اختلاف رائے کو کسی غلط نظریہ یا سونچ کے ساتھ نہیں دیکھنا چاہئے۔
کمیٹی کی متفقہ سفارش کے باوجود جسٹس کے ایم جوزف اب تک سپریم کورٹ کی طرف نہیں بڑھایاگیا ہے اس پر آپ کوکوئی افسوس ہے؟
بدقسمتی کی بات ہے کہ یہ معاملہ اب تک زیرالتوا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ایسا آدمی اگر سپریم کورٹ میںآتا ہے تو ادارے کے لئے یہ کافی بہتر ہوگا۔

مجھے اب بھی امید ہے کہ یہ ضرورہوگا۔

اگلے چیف جسٹس آف انڈیا کے انتخابات میں ہم ایک امتیاز دیکھ رہے ہیں اس کے متعلق کیاخدشہ ظاہر کریں گے؟
یہ تمام قیاس آرائیاں ہیں۔ میں نے سمجھتا کہ کوئی امتیاز ہوگا۔میں پہلے ہی ہاروارڈ تقریب کے دوران کرن تھاپر سے بات چیت کے دوران اس پر تفصیلی بات کی ہے

آپ نے ججوں کے تقررات کے ضمن میں کالجیم نظام کے متعلق سی جی ائی کو لکھا ‘ اس کے متعلق بات کی‘ اور یہاں تک کے این جے اے سی فیصلہ بھی دیا۔ اس سے مطلب یہ تو نہیں کہ کس طرح ججوں کا تقرر عمل میں لایاجائے‘ جو پر ی کالجیم طریقہ کار‘ مذکورہ کالجیم اور مذکورہ این جے اے سی ماڈل؟
اس میں کوئی سنہری مطلب نہیں ہے ‘یہ تمام چیزیں لوگوں پر ضروریا ت پر منحصر ہیں حکومت او رکالجیم دونوں اس میں شامل ہیں۔

اگر حکومت اپنے حق میں جائز کے طور پر کام کرتی ہے تو مذکورہ کالجیم نظام اس کی رسائی میں نہیںآئے گا۔ مذکورہ دوسرا ججوں کاکیس ردعمل تھا جو حکومت نے اس وقت تک کوشش کی تھی۔ جب تک سپریم کورٹ مداخلت کرتا ‘ وہاں پر اتحادی حکومت آگئی تھی جس نے اس کو قبول کرلیا۔یہ تمام نظام کو چلانے والے افراد کے جائز وں کے متعلق ہے۔ یہاں تک کہ بہترین نظام بھی بدعنوانی او راس کا غلط استعمال کیاجاسکتا ہے۔

یہاں پر کالجیم کی طرف سے بھی غلط فیصلے کے مساوی ہے۔ کالجیم کی ناپسندیدہ سفارت پر سنجیدگی کے ساتھ کی گئی شکایتوں پر وقت رہتے یہاں پر سنوائی عمل میں ائی۔انسان یا پھر عدلیہ کی عاملہ سادھو سنت نہیں ہوتے۔ اس حقیقت پر تحریری قانون کا موقف واضح ہے۔دستوری کی رو سے دستوری عدالتوں کے ججوں کے انتخابی عمل کو پورا کرناہے‘ اس کو عمل میں مزید شفافیت لائی جانے چاہئے تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کے ججوں کا انتخاب کس طرح عمل میں آتا ہے۔

کیا ہماری عدلیہ میں کوئی رشوت خوری ہے؟ عدالتی بردار میں فیملی تعلقات کے متعلق کیاہے؟
ہاں یہاں پر ہے۔ کیوں جسٹس قدسی( سابق جج آڑیسہ ہائی کورٹ) کو گرفتارکیاگیا؟ان پر کیاالزامات تھے؟یہاں پر رشوت خوری اس کو ثابت کرنے کے لئے اور کیاچاہئے؟

کسی بھی کورٹ کے کوریڈور میںآپ چلے جائیں وہاں پر یہ بات کھل کر کی جاتی ہے۔یہاں پر بہت سے الزامات ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ تمام الزامات درست ہیں‘مگر جہاں پر سنجیدگی کے ساتھ الزامات لگائے گئے ہیں اس کا کسی ادارے کے ذریعہ جائزہ لینا ضروری ہے۔میری رائے میں اس طرح کے عمل سے عدلیہ پر اعتبار میں اضافہ ہوگا‘مگر بنا تحقیق کے الزامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

کیا انصاف غیر ہندوستانی کے لئے ناقابل برادشت بن گیا ہے؟
نظام میں مسئلہ ہے۔ اگر کسی امیر آدمی کو سیشن کورٹ سے ضمانت نہیں ملتی ہے تو وہ سپریم کورٹ پہنچ جاتا ہے مگر غریب ایسا نہیں کرسکتا۔

ان تمام حالات میں سپریم کو ضمانت کی درخواست پر سنوائی کرنا چاہئے۔ میری رائے میں اس کو ہائی کورٹ سطح پر روک دینا چاہئے۔ اگر خیال کیاجارہا ہے کہ ہائی کورٹ کامعیار بہتر نہیں ہے ‘ اس کے بعد ہی وہاں پر ہر معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے جانچ کی ضرورت پڑے گی۔

اگر ہائی کورٹ کا معیار ٹھیک نہیں ہے تو اسکو بہتر بنانا چاہئے۔ ہائی کورٹ کی غلطیوں میں سپریم کورٹ ہی سدھار لائے یہ مدد گار ثابت نہیں ہوگا۔کئی سینئر وکلا کا ماننا ہے کہ تمام قسم کی درخواست پر غور کرنے کے لئے سپریم کورٹ کو خود مختار بنادیاگیا ہے

آپ کاپس منظر
ہندوستان کے ایک دیہی علاقے سے میراتعلق ہے‘ میں نے اس اسکول میں پڑھائی جہاں پر بارش کے موسم میں تعلیم بند کردی جاتی تھی کیونکہ اس اسکول میں چھت نہیں تھی یا پھر چھت سے پانی گرتاتھا۔ میں نے بہت قریب سے زندگی کو دیکھا ہے۔ میں نے جو حاصل کیاوہ نظریاتی تعلیم نہیں ہے۔

میں ایک کسان ہوں ‘ میں نے کھیتی نہیں کی ہے کہ مگر میرے والد ‘ چچا ‘ رشتہ دار اور دیگر گھروالوں نے ضرورکھیتی کی ہے

آپ کامستقبل کامنصوبہ کیا؟ کیا آپ سرگرم سیاست کا حصہ بنیں گے‘ کتاب لکھیں گے؟

میں سرگرم سیاست میں داخل نہیں ہوں گا‘ اس کودیکھو ں اور اس پر تبصرہ کرونگا‘ ہاں مجھے اس میں دلچسپی ہے۔

آپنی بائیوگرافی لکھنے کا کوئی منصوبہ اب تک نہیں ہے مگر میں اس بات کوتسلیم کرتاہوں کہ کلاسک کتاب ضرور لکھوں گا جو بی کے مکھرجی کی ٹائیگور لکچرسیریز پر مشتمل ہوگی او رمیرے پاس ہندومذہبی انڈومنٹ ہے۔میرے پاس ہندوستان کا دستور‘ مکمل علاج نہیں پر منتخب عنوانات ہیں ۔

میں ا ب بھی اس کے متعلق منصوبہ سازی کررہاہوں

TOPPOPULARRECENT