Wednesday , November 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / جس دنیا پر ہم مرمٹے وہ تو اک خواب تھا

جس دنیا پر ہم مرمٹے وہ تو اک خواب تھا

آج مادیت کا دور ہے ، ہر شخص زندگی پر مرا جارہا ہے ، زندگی میں مرنا کسی کو یاد ہی نہیں، عرصۂ حیات میں معیار کی ریس ہورہی ہے ۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اپنی دیوار ہمسائے کی دیوار سے اونچی بنے ۔ معیار زندگی کی اس ریس نے انسان کے اندر تکاثر(بہتات) کی ہوس پیدا کردی ہے اور اسی تکاثر نے انسان کو خدا و رسولؐ اور آخرت سے غافل کردیا ہے۔
’’تکاثر نے تم کو غافل کردیا ہے ۔ یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ جاؤ گے ‘‘۔
دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے تب تمہیں یقین آئے گا ۔ پھر تم سے نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ جب تم قبروں میں پہنچ جاؤ گے تو پھر تمہاری آنکھیں کھلیں گی اور پتہ چلے گا کہ ارے جس دنیا پر ہم مرمٹے وہ تو اک خواب تھا ، وہ اک سراب تھی جس کے پیچھے ہم دوڑ رہے تھے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ’’لوگ سورہے ہیں ، مریں گے تو جاگیں گے ‘‘۔
آسائشِ دنیا جو ہوا دیتی ہے
گہوارۂ غفلت میں سلادیتی ہے
جب آنکھ نہیں کھلتی کسی بھی صورت
تب موت کسی روز جگادیتی ہے
امانت کی یہ واپسی ، یہ بے صفاتی فنائیت تامہ ہے جو طریقت کی مشکل ترین منزل ہے ، اس کے تین درجے ہیں ۔ پہلے درجے میں صفات ذاتیہ واپس کرنے والا ایسا ہوتا ہے جیسے دایہ کے ہاتھوں میں طفل شیرخوار کہ بھوک لگی یا تکلیف پہنچی تو رو دیا اور بس ۔ دوسرے درجے میں یہ شخص ایسا ہوتا جیسے غسال کے ہاتھوں میں میت کہ ساری صفات ختم ہوچکی ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے کہ کچھ دیر پہلے یہ صاحب صفات تھا ، اب بے صفات ہوا ہے اور تیسرے درجے میں یہ شخص ایسا ہوتا ہے جیسے چوگان باز کے سامنے گیند، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا صفات نہ پہلے تھیں نہ اب ہیں۔ نہ اس کی حیات اپنی حیات ہوتی ہے ، نہ علم اس کا اپنا علم ہوتا ہے ۔ نہ ارادہ اپنا ارادہ ۔ نہ اس قدرت اپنی قدرت ہوتی ہے۔ نہ سماعت اپنی سماعت ، نہ بصارت اپنی بصارت ، نہ کلام اپنا کلام ۔ سب کچھ حق تعالیٰ کا ہوتا ہے۔
پیرانِ پیر ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : ’’یہ اپنے طورپر کوئی حرکت نہیں کرسکتا ، نہ ہی کسی دوسری چیز کو حرکت میں لاسکتا ہے بلکہ اسے تو خود ایک حالت سے دوسری حالت میں ، ایک صفت سے دوسری صفت میں ، ایک وضع سے دوسری وضع میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے مالک حقیقی کے حکم کاتابع اور اپنے آپ سے بے خبر ہوتا ہے اور اس کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ اپنے رب کے حکم اور ذات کے سوا نہ کچھ اور دیکھتا ہے نہ سمجھتا ہے ، وہ دیکھتا ہے تو اسی کی نگاہ قدرت سے اور جو کچھ بھی سنتا یا جانتا ہے وہ اسی کا کلام اور علم ہوتا ہے ۔ وہ اس کی نعمت سے سرفراز ، اس کی قربت سے سعادت مند ، اس کی نزدیکی سے آراستہ و مشرف ، اس کے وعدے پر شاداں ، اس سے مطمئن ، اس کی گفتگو سے مانوس اور غیر کی باتوں سے بیزار ہوتا ہے ۔ وہ اس کے ذکر کا طالب ، اس کی پناہ کا چاہنے والا ، اس سے استحکام پانے والا ، اس پر توکل کرنے والا ، اس کے نور معرفت سے ہدایت یافتہ ، اس کے جامۂ نور میں ملبوس ، اس کے عجیب و غریب علوم کا جاننے والا اور اس کی قدرت کے اسرار و رموز سے باخبر ہوتا ہے ۔ بندہ ذات حق ہی سے سنتا اور یاد رکھتا ہے یہاں تک کہ اپنے رب کی ان عطا کردہ نعمتوں پر اس کی حمد و ثنا کرتا ہے اور شکر بجالاتے ہوئے دعا میں مشغول رہتا ہے ۔ (فتح الغیب مقالہ نمبر ۳)

روزہ کے فرائض
روزے کے تین فرض ہیں :
(۱)  صبح صادق کے طلوع سے غروب آفتاب تک کچھ نہ کھانا ۔
(۲)  صبح صادق کے طلوع سے غروب آفتاب تک کچھ نہ پینا ۔
(۳)  صبح صادق کے طلوع سے غروب آفتاب تک جماع نہ کرنا ۔
٭    روزہ کے مسنونات و مستحبات حسب ذیل ہیں :
(۱) سحری کھانا ۔
(۲) سحری کھانے میں تاخیر کرنا ۔
(۳) رات سے روزہ کی نیت کرنا ۔
(۴) افطار میں جلدی کرنا (جبکہ غروب آفتاب کا پورا یقین ہوجائے) ۔
(۵) کھجور سے افطار کرنا ۔
(۶) افطار سے پہلے یہ دعا پڑھنا :  اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَ بِکَ اٰمَنْتُ وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَ عَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ۔  وَ بِصَوْمِ الْغَدِ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ نَوَیْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَ مَا اَخَّرْتُ‘‘۔
مرسل: عبدالودودسیدسُدیس ھاشمی

TOPPOPULARRECENT