Thursday , December 14 2017
Home / مضامین / جس کی لاٹھی اس کی بھینس ڈاکو آزاد… غریب قید

جس کی لاٹھی اس کی بھینس ڈاکو آزاد… غریب قید

محمد ریاض احمد
ہندوستان میں جمہوریت ہے اور ہمارے ملک کو جمہوریت پر کامیابی سے عمل آوری کے معاملہ میں امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں کی صف میں شامل کیا جاتا ہے، لیکن دنیا کی اس عظیم جمہوریت میں انگریزوں سے آزادی کے بعد بھی اُسی دور کے قانون پر عمل کیا جارہا ہے۔ ہندوستان میں اکثر دیکھا جائے تو ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ والا معاملہ ہے جس کے پاس دولت، شہرت اور طاقت ہو اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اگر کوئی وجئے مالیا ملک اور قوم کو 9000 کروڑ روپیوں کا دھوکہ دیتا ہے تو اس کی گرفتاری عمل میں نہیں آتی بلکہ اسے بڑی عزت کے ساتھ بیرون ملک فرار کرادیا جاتا ہے۔ جھوٹے الزامات میں بے قصور مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے مقدمات اور غریب قبائیلیوں کا نکسلائٹس کے نام پر انکاؤنٹر کرنے والی ہماری پولیس اور نفاذ قانون کی دوسری ایجنسیاں وجئے مالیہ جیسے مجرمین کی ملک سے فراری پر اپنی تمام چیزیں بشمول آنکھیں بند کرسکتے ہیں کچھ دن تک ان کی زبانیں بھی نہیں کھولتی اور جب میڈیا میں یا کسی گوشہ سے کچھ چیخ و پکار شروع ہوتی ہے تو حکومت سے لے کر نفاذ قانون کی ایجنسیاں حرکت میں آنے کی غیر معمولی اداکاری کرتی ہیں۔ حکومت کے وزراء پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں بیانات دے کر اپنی جمہوری ذمہ داری پوری کرلیتے ہیں اس کے برعکس ہمارے ملک میں ایسا غریب بھی ہے جو صرف 5 ساڑیوں کے سرقہ کے الزام میں جیل میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ بعض غریبوں کو بھوک کی شدت کی مار سے بچنے کے لئے صرف چند روٹیاں سرقہ کرنے پر زدکوب کرتے ہوئے پیٹ پیٹ کر موت کی نیند سلادیا جاتا ہے۔ ہندوستانی جیلوں میں آج بھی ہزاروں کی تعداد میں ایسے مسلم نوجوان ہیں جو کسی جرم کے بناء صرف اور صرف متعصب پولیس عہدہ داروں کے باعث برسوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں جبکہ ملک کے خزانے اور ان کی دولت لوٹ کر ملک و بیرون ملک پر تعیش زندگی گذارنے والے آزاد ہیں۔ انہیں گرفتار کرنے کی کسی میں ہمت نہیں۔ حکومت پولیس اور نفاذ قانون کی ایجنسیاں سب کی سب ان لٹیروں کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں صرف غریبوں، دلتوں اورمسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کو یقینی بنانے کے لئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی۔ مودی جی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت میں تو ایسا ہو رہا ہے۔ تحفظ گاؤ کے نام پر ہونے والے انسانوں کے قتل اور نام نہاد قوم پرستی کے زعم میں انصاف کے حامی معقولیت پسندوں کی ہوئیں ہلاکتیں اس رجحان کی مثالیں ہیں۔

اگرچہ فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے بے شمار مجرمین آزاد گھوم رہے ہیں قانون نے انہیں اپنی گرفت میں نہیں لیا ہے اس کے باوجود گزشتہ ہفتہ سپریم کورٹ نے سرقہ کے ایک مقدمہ میں جو کچھ کہا ہے اس سے جہاں عام اور غریب ہندوستانیوں میں عدالتوں کے تئیں اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ وہیں مرکزی و ریاستی حکومتوں سے لے کر نفاذ قانون کی ایجنسیوں کی کارکردگی ، غیر جانبداری اور فرض شناسی پر ایک سوالیہ نشان بھی لگ گیا۔ واقعہ دراصل یہ ہے کہ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی زیر قیادت جسٹس ڈی وائی چندرا چور اور جسٹس کشن کول پر مشتمل سپریم کورٹ کا سہ رکنی بنچ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے اُس شحص کے مقدمہ کی سماعت کررہا تھا جسے صرف 5 ساڑیوں کے سرقہ کے الزام میں گرفتار کرکے ایک سال سے جیل میں رکھا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس بنچ نے ایک معمولی سرقہ کے الزام میں گرفتار شخص کو ایک سال سے قید میں رکھے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کچھ یوں کیا ’’ایک ایسا شخص جو بینکوں سے کروڑہا روپیوں کا قرض لے کر پرتعیش زندگی گذاررہا ہے وہ تو آزاد گھوم رہا ہے لیکن ایک ایسے شخص کو جس نے 5 ساڑیاں سرقہ کی ہیں احتیاطی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ بنچ بظاہر شراب کے عیاش تاجر و صنعت کار وجئے مالیا کا حوالہ دے رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہزاروں کروڑوں روپے لے کر رفو چکر ہونے والا شخص آزاد گھوم رہا ہے اور 5 ساڑی کا سرقہ کرنے والے کو ایک سال سے جیل میں قید رکھا گیا ہے‘‘۔ سپریم کورٹ کا یہ طنز یا ریمارکس صرف حکومت تلنگانہ اور پولیس کے لئے ہی تازیانہ عبرت نہیں بلکہ حکومت ہند، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کسٹمر و پولیس اور نفاذ قانون کی دوسری ایجنسیوں پر بھی عدالت کا ایک طمانچہ ہے۔ سپریم کورٹ کے اس بنچ نے ہمارے وطن عزیز میں غریبوں، کمزوروں اور اقلیتوں، محروم طبقات سے روا رکھی جانے والے سلوک کا بالکل صحیح تجزیہ کیا ہے۔ کتنی افسوس کی بات ہے کہ وجئے مالیا نے بینکوں سے ایک نہیں دو نہیں 9000 کروڑ روپیوں کا قرض حاصل کرتے ہوئے عیاشی کے تمام ریکارڈس توڑ دیئے اس نے دولت کے بل بوتے پر راجیہ سبھا کی رکنیت بھی حاصل کی، ملک کے رئیسوں کی صف میں شامل بھی ہوا لیکن ایک دن ایسا آیا کہ وہ بڑی آسانی کے ساتھ ملک سے فرار ہوگیا۔ اب لندن میں وہ داد عیش دے رہا ہے۔ سپریم کورٹ بنچ کا ریمارک صرف ایک ریمارک ہی نہیں بلکہ عام ہندوستانی کی آواز ہے۔ مثال کے طورپر کانگریس کی زیر قیادت یوپی اے حکومت ہو یا موجودہ بی جے پی حکومت دونوں نے ہندوستانی سیاست دانوں، اعلیٰ عہدہ داروں، فلم اداکاروں، تاجرین و صنعت کاروں کی جانب سے بیرون ملک کی بینکوں میں جمع کروائے گئے 462 ارب ڈالرس بلیک منی واپس لانے اور ملک کی دولت لوٹنے والے لٹیروں کو سزائیں دلانے پر کبھی توجہ نہیں دی ہاں ہماری پولیس کسی غریب چور کو پکڑتی تو اسے مار مار کرہاتھ اور پیر کی ہڈیاں توڑ دیتی ہے۔ مودی جی نے تو بلیک منی واپس لاکر ہر ہندوستانی کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کرانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وعدہ آج تک وفا نہ ہوسکا۔ کاش ہندوستان میں وعدہ خلافی کرنے والے سیاستدانوں کو سزا دینے کا کوئی قانون ہوتا تو کتنا بہتر ہوتا۔ سپریم کورٹ کے ججس نے معمولی مجرمین اور سرکاری خزانہ لوٹنے والے لٹیروں اور ڈاکوؤں کے بارے میں جو ریمارکس کئے ہیں ان سے ہندوستان میں امیر ، غریب کے درمیان پائے جانے والے امتیاز کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ وجئے مالیا کی طرح آرمی ڈیلر سنجے بھنڈاری سدھیر چودھری، روی شنکرن ابھیشیک ورما اور  للت مودی بھی ہزاروں کروڑ روپیوں کے اسکینڈلس و اسکامس میں ملوث ہونے کے باوجود ہندوستان سے فرار ہوکر بیرون ملک پر تعیش زندگی گذاررہے ہیں۔

ان میں سے ایک یا دو فی الوقت ہندوستان میں آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ سنجے بھنڈاری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے حکومت ہند کو 4000 کروڑ کا چونا لگایا جبکہ دوسرے مجرمین بھی ہندوستان کو ہزاروں کروڑ روپیوں کا دھوکہ دے کر بڑی آسانی سے فرار ہوگئے۔ سپریم کورٹ کے ریمارکس سارے ہندوستانیوں کے لئے اس لئے بھی لمحہ فکر یہ ہیں کہ ہمارے ملک میں سیل فون سرقہ کرنے کے شبہ میں ایک غریب کا قتل کردیا جاتا ہے۔ سلم بستیوں میں 5 سال سے کم عمر کے 20 لاکھ بچے ناقص غذا کا شکار ہوکر ہر سال مرجاتے ہیں۔ ہر 15 سکنڈ میں ایک نومولود کی موت ہو جاتی ہے۔ اگر بڑے چوروں لٹیروں کو ملک کا خزانہ لوٹنے سے روکا جاتا تو اس قدر کثیر تعداد میں بچوں کی موت نہیں ہوتی، ملک بھر میں حفظان صحت کے بہترین انتظامات ہوتے آج ہمارے ملک میں روٹی چُرانے پر زوکوب کرکے بھوکے انسان کو مار دیا جاتا ہے لیکن حکومت اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں یہ جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی کہ بابا رام دیو کے قریبی ساتھی اور ایورویدا کے نام پر خزانے بھرنے والے اچاریہ بالا کرشنا چند برسوں میں 25 ہزار کروڑ روپے مالیتی اثاثوں کا مالک کیسے بنگیا حالانکہ اس کے ماں باپ نیپال سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ سال قبل اس کی ہندوستانی شہریت پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے ریمارکس اس لئے بھی حقیقت پسندانہ ہے کہ 6 دسمبر 1992ء کو ایودھیا میں 16 ویں صدی کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کردیا گیا لیکن 25 سال کے عرصہ میں بابری مسجد کے کسی مجرم کو سزائے قید نہیں سنائی گئی۔ ان مجرمین میں سیاستدانوں بالخصوص سنگھ پریوار کے لئے نشان عبرت بنے ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ، ونئے کٹیار، نتیش پردھان، سی آر بنسل، گری راج کشور، سادھوی رتمبرا، وی ایچ ڈالمیا، مہنت اویدھی ناتھ، آر وی ویداش، پرم ہنس رام چندر داس، جگدیش منی مہاراج، بی ایل شرما، نرتیہ گوپال داس، دھرم داس، شیش ناگ اور مورشور ساوے شامل ہیں۔ اشوک سنگھل اور بال ٹھاکرے تاریخ کا عبرت ناک حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے برعکس دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں ماخوذ کرکے کئی مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ و برباد کردی گئیں۔ گرفتاری کے 15 تا 20 سال بعد عدالتوں نے انہیں بے قصور قرار دے کر بری کردیا۔ آج بھی ہندوستانی جیلوں میں 81 ہزار سے زائد مسلم قیدی ہیں، ہمیں یقین ہے کہ  ان میں 95 فیصد سے زیادہ بے قصور ہیں۔ یہ یقینا افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں بڑے ڈاکوؤں، چوروں اور لٹیروں کو آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے، لیکن حکومت اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں کا سارا نزلہ غریب اور محروم طبقات پر گرتا ہے۔ مثال کے طور پر 2-3 دسمبر 1984 کو بھوپال میں یونین کاربائیڈ انڈیا لمیٹیڈ میں متھائل اکسپو سائنائیڈ گیس اور دوسرے کیمیکلس کے اخراج سے صرف دو ہفتوں میں 8 ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔ 558125 مردو خواتین زخمی ہوئے، لیکن لو سی سی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وارن اینڈرسن کو بڑی آسانی کے ساتھ ملک سے فرار کرادیا گیا اس کے علاوہ 18600 ہزار کروڑ مالیتی کوئلہ بلاک  اسکام، 176000 کروڑ کا 2G اسپکٹرم اسکام، 150000 کروڑ کا وقف بورڈ لینڈ اسکام (کرناٹک)، 70000 کروڑ کا کامن ویلتھ گیمس اسکام، 20000 کروڑ کا تیلگی اسٹامپ پیپر اسکام، 14000 کروڑ روپے کا ستیم اسکام، 100 تا 200 کروڑ روپیوں کا بوفورس اسکام، 1000 کروڑ روپیوں کا چارہ اسکام، 100 کروڑ روپے کا حوالہ اسکام (اس اسکام میں بھی لال کرشن اڈوانی، مدن لال کھرانہ، شردیادو، بلرام جھاکر، وی سی شکلا وغیرہ کو ملزم بتایا گیا) 4000 کروڑ روپیوں کا اسٹاک مارکٹ اسکام (ہرشد مہتا  ملزم) 1000 کروڑ کا کیتن پاریکھ اسکام اور ہزاروں کروڑ روپے کے چاپر اسکام پیش آچکے ہیں جس کے نتیجہ میں ملک کی معیشت شدید متاثر ہوئی لیکن ان اسکامس اور اسکینڈلس میں ملوث کتنے مجرمین کو سزاء دی گئی سب جانتے ہیں۔ان اسکامس میں ملوث مجرمین کو اس لئے آزاد چھوڑ دیا گیا ک یونکہ ان کے سرپر سیاسی آقاؤں کا ہاتھ تھا، ان کے ساتھ قانون کے رکھوالوں کی ہمدردیاں تھیں جو انہیں چند سکوں کے عوض خریدی تھیں جبکہ غریب جیلوں میں اس لئے سڑ رہے ہیں کیونکہ ان کی سننے والا کوئی نہیں۔ مودی، اڈوانی، امبانی، گاندھی سے ان کے قریبی تعلقات نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT