جشن ریختہ : بیت بازی اور غزل سرائی مقابلہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ملی کامیابی

جشن ریختہ اردو کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جس نے نئی نسل میں اردوکے تئیں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ خاص طورپرغیراردو داں طبقے میں اردوکے تئیں دلچسپی پیدا  ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی کالجزاوریونیورسٹی میں آنے والے طلبا کو بہترین پلیٹ فارم ملا ہے۔ جشن ریختہ میں نوارد طلبا کوبھیاپنی صلاحیت کومنظرعام پرلاکرخود کو ثابت کرنے کا بہترین موقع ملا ہے۔ ساتھ ہی عوام میں بھی زبردست دلچسپی دیکھنے کوملتی ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا اردوکا پروگرام ہو، جہاں اس قدرلوگ جمع ہوتے ہوں۔

اسی ضمن میں دارالحکومت دہلی کے دھیان چند اسٹیڈیم میں منعقدہ ‘جشن ریختہ’میں مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ آج پروگرام کے تیسرے دن بیت بازی کا انعقاد کیا گیا، جس میں دہلی کے مختلف یونیورسٹیوں اورکالجزکے طلبا نے شرکت کی۔ مجموعی طورپربیت بازی کے مقابلے میں اس بارکل 8 ٹیمیں شریک ہوئیں۔ تین راؤنڈ کے ان مقابلوں میں دوٹیمیں (جامعہ ملیہ اسلامیہ اوردہلی یونیورسٹی) فائنل میں پہنچیں۔ جس میں فائنل خطاب شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام رہا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ٹیم (احمد فراز) جس میں اہتمام الحق،عبدالرحمن اورعافیہ خانم نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کا نام روشن کیا۔  بیت بازی مقابلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اوردہلی یونیورسٹی کی ٹیم کے درمیان سخت مقابلہ ہوا، جس میں بازی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ٹیم نے ماری۔ دونوں ٹیموں کے شرکاء کومومنٹواورسرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اس مقابلے میں ججزکے فرائض شعبہ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاد ڈاکٹرخالد مبشراورذاکرحسین دہلی کالج کے استاد ظہیررحتمی نے انجام دیئے۔ اس کے علاوہ غزل سرائی مقابلے میں بھی شعبہ اردو کے دو طلبا نے پہلی اوردوسری پوزیشن حاصل کی۔ پہلی پوزیشن فیض الرحمن اوردوسری پورزیشن نوراللہ نے حاصل کی۔

واضح رہے کہ ‘جشن ریختہ’ کا افتتاح 14 دسمبرکو عمل میں آیا تھا اورآج جشن کا آخری روز تھا۔  اس پروگرام میں  کلاسیکی اورنو کلاسیکی ہرشعبے کے فنکار ادباء اورماہرین میں شریک ہوئے۔ اس موقع پروارثی برادرس کے ذریعہ قوالی کا پروگرام بھی پیش کیا گیا۔ ریختہ کے روح رواں سنجیو صراف کی ہرطرف پذیرائی کی جارہی ہے، کیونکہ انہوں نے اردو والوں کے لئے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے، جس پراردو دنیا رشک کرسکتی ہے۔

ہرسال کی طرح اس سال بھی غزل سرائی، خطاطی، فلم اسکریننگ، داستان گوئی، ادبی مذاکرے اورنوجوان شاعروں کی محفل، خواتین کا مشاعرہ سمیت مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ پورے اسٹیڈیم میں جشن کا ماحول دیکھنے کوملا۔ ساتھ ہی کھانے پینے کے شوقین لوگوں کے لئے فوڈ کورٹ میں حیدرآبادی، کشمیری، گجراتی، بنگالی اورلکھنوی کےعلاوہ دہلی کے روایتی کھانوں کا بہاردیکھنےکوملا۔ اس پروگرام میں شرکت کے لئے دہلی کے علاوہ باہرسے بھی لوگ تشریف لائے۔

TOPPOPULARRECENT