Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / جعفر شریف بھی صدارتِ ہند کیلئے موہن بھاگوت کے حامی

جعفر شریف بھی صدارتِ ہند کیلئے موہن بھاگوت کے حامی

شیوسینا کی پیش کردہ تجویز کی تائید اور خود اپنی پارٹی کانگریس کی رائے سے اختلاف۔مسلمانوں کو خائف ہونے کی ضرورت نہیں

بنگلورو ۔ یکم مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر سی کے جعفر شریف نے وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی صدرجمہوریہ ہند کے عہدہ کے لئے تائید کرتے ہوئے کہاکہ اُن کی حب الوطنی اور دستور کے تئیں عہد پر کوئی شبہ نہیں ہے۔ 29 مارچ کو مورخہ اپنے مکتوب میں سابق وزیر ریلوے نے کہا ، ’’میرا شخصی احساس ہے کہ کسی کو بھی شری موہن بھاگوت کے نام پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے جنھیں ہمارے ملک کی صدارت کے لئے ممکنہ امیدوار کے طور پر غور کیا جارہا ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ کسی کو بھی صدرجمہوریہ کے عہدہ کے لئے بھاگوت کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے کیوں کہ وہ محب وطن ہیں اور جمہوریت سے اُن کا ناطہ ہے نیز وہ عوام کی بھلائی کے لئے کام کررہے ہیں۔ شیوسینا نے حال میں تجویز رکھی تھی کہ بھاگوت کو اگلا صدرجمہوریہ بنادیا جائے لیکن کانگریس نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی زعفرانی نظریہ کی مخالفت کرتی ہے اور وہ داخلی صلاح و مشورہ کے بعد اپنا امیدوار ظاہر کرے گی۔

ایک سوال پر کہ بھاگوت کے بارے میں اُن کا موقف کانگریس کی رائے سے مختلف ہے، شریف نے فون پر کہاکہ موہن بھاگوت کے لئے اُن کی حمایت ’’اُصولی‘‘ معاملہ ہے۔ ’’جو کوئی صدرجمہوریہ بنے اُسے دستور کی مطابقت میں کام کرنا پڑے گا۔ اگر بھاگوت صدر بنتے ہیں اور دستور کے مطابق کام کرتے ہیں تو غلط کیا ہے۔‘‘ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کی میعاد اختتام پذیر ہونے والی ہے اور جلیل القدر عہدہ کے لئے بھاگوت کی امیدواری کے تعلق سے قیاس آرائی ہورہی ہے۔ تاہم آر ایس ایس سربراہ نے اس طرح کی رپورٹس کو اپنی طرف سے مسترد کردیا تھا۔ جعفر شریف نے کہاکہ کسی کو بھی بھاگوت کی امیدواری کی مخالفت کرتے ہوئے صدر کے انتخاب کو غیر ضروری متنازعہ نہیں بنانا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ اقلیتوں کو اِس باوقار عہدہ کے لئے بھگوت کے نام پر غور کئے جانے کے پس منظر میں خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے اور نہ اُن کا اعتماد متزلزل ہونا چاہئے۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ ایک مسلمان اور ہندوستان کی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شخص کی حیثیت سے وہ محسوس کرتے ہیں اقلیتوں کو بھگوت کے تعلق سے شاکی نہیں ہونا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT