Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / جعلسازی کے مقدمہ میں وزیراعظم اسرائیل سے تفتیش

جعلسازی کے مقدمہ میں وزیراعظم اسرائیل سے تفتیش

جرمن آبدوزوں کی خریداری میں رشوت خوری کا شبہ ‘ نتن یاہو کے قریبی ساتھیوں نے تردید کردی
یروشلم ۔19نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو سے پولیس نے آج دوسری بار تفتیش کی ۔ ایک ماہ کے اندر ان سے بدعنوانی اور جعلسازی کے دو مقدمات کے سلسلہ میں تفتیش کی گئی ۔ نتن یاہو پر شبہ ہے کہ انہوں نے پُرتعیش تحفے اپنے دولت مند مداحوں ‘ اسرائیلی تاجروں اور ہالی ووڈ کے پروڈیوسر آرنن ملچان سے حاصل کئے ہیں ۔ ملچان نتن یاہو نے پرانے دوست ہیں اور مبینہ طور پر انہوں نے قیمتی سگاروں اور دیگر اشیاء کے ڈبے جن کی قیمت لاکھوں ڈالر تھی بطور تحفہ نتن یاہو کو روانہ کئے ہیں ۔ نتن یاہو سے ستمبر میں ہی تفتیش کی گئی تھی ‘ آج کی تفتیش نتن یاہو سے چھٹی تفتیش ہیں جو تحقیقات کرنے والے پولیس عہدیداروں نے حالیہ مہینوں میں کی ہے ۔

تحقیقات کرنے والوں نے وزیراعظم سے جن پر شبہ ہے کہ انہوں نے کثیر الاشاعت روزنامہ ’’ ادی یوت ہارنوت ‘‘ شائع کرنے والے سے اپنی تائید میں بیانات شائع کرنے کے سلسلہ میں ایک خفیہ معاہدہ کیا تھا ۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ معاہدہ قطعیت پاچکا ہے اور نتن یاہو سمجھا جاتا ہے کہ اس معاہدہ کے تحت روزنامہ کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے نتیجہ میں انہوں نے حکومت اسرائیل میں وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ نتن یاہو نے اس الزام کی مسلسل تردید کی ہے اور انہوں نے الزام عائدکیا ہے کہ ان کے سیاسی حریفوں نے اُن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے ۔ پولیس نے تازہ ترین تفتیش کی اطلاعات کی توثیق نہیںکی ‘ جب کہ آج اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اس خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے ۔ جاریہ ماہ کے اوئل میں نتن یاہو نے بااعتماد ساتھی اتزاک مولچو اور ڈیوڈ شمرون نے جو ایک قانونی کمپنی کے شراکت دار اور باہم رشتہ دار ہیں ۔ وزیراعظم کے بارے میں کہا کہ پولیس کی جانب سے ان سے تفتیش بدعنوانی کے مشتبہ مقدمہ کے سلسلہ میں معمولی کی کارروائی تھی ۔ یہ ملازمین پولیس جرمن آبدوزوں کی خریداری میں رشوت خوری کی تفتیش کررہے ہیں ۔ نتن یاہو کو شخصی طور پر اس مقدمہ میں نامزد نہیں کیا گیا ہے اور نہ انہیں مشکوک افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ اطلاعات ملی ہیں کہ وہ امکان ہے کہ آج اس بارے میں اپنا بیان جاری کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT