Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / جلال الدین اکبر کے تبادلہ کے بعد حکومت الجھن کا شکار

جلال الدین اکبر کے تبادلہ کے بعد حکومت الجھن کا شکار

فائل دوبارہ محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کو واپس ، رکن پارلیمنٹ کی مداخلت پر کئی سوال
حیدرآباد۔/8مارچ، ( سیاست نیوز) ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ سے جلال الدین اکبر کے تبادلہ کے مسئلہ پر مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی نے حکومت کو اُلجھن میں مبتلاء کردیا ہے اور دوسری طرف محکمہ میں ان کا مخالف گروہ جلد سے جلد انہیں عہدہ سے سبکدوش کرنے کیلئے مساعی جاری رکھے ہوئے ہے۔ جلال الدین اکبر کے تبادلہ کے احکامات 3مارچ کو جاری کئے گئے اور انہیں کنزرویٹر آف فاریسٹ ورنگل مقرر کیا گیا لیکن چار دن گزرنے کے باوجود آج تک انہیں اس ذمہ داری سے ریلیو نہیں کیا گیا۔ مسلمانوں اور مسلم تنظیموں کی جانب سے تبادلہ کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے اقلیتی بہبود میں موجود کوئی بھی عہدیدار اس ذمہ داری کو قبول کرنے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فائیل دوبارہ محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کو روانہ کردی گئی اور خواہش کی گئی کہ عہدہ کی ذمہ داری کس کو دی جائے اس کی صراحت کی جائے یا پھر نئے ڈائرکٹر کا باقاعدہ تقرر کیا جائے۔ واضح رہے کہ 3مارچ کے تبادلہ سے متعلق احکام میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ اس عہدہ کی ذمہ داری کس کو دی جائے گی۔ عام طور پر عہدیداروں کے تبادلہ میں اس کی صراحت کی جاتی ہے لیکن ایم جے اکبر کے معاملہ میں ایسا نہیں ہوا۔ محکمہ جات میں اکثر یہ دیکھا گیا کہ تبادلہ کے بعد مذکورہ عہدیدار اپنی زائد ذمہ داری اپنے اعلیٰ عہدیدار کو سپرد کردیتے ہیں اور اعلیٰ عہدیدار انہیں ریلیو سے متعلق احکامات حوالے کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی نئی ذمہ داری سنبھال سکیں۔ ایم جے اکبر جیسے فرض شناس عہدیدار کے ساتھ کئے گئے سلوک کے خلاف میڈیا اور سوشیل میڈیا میں عوامی برہمی اور ناراضگی کو دیکھتے ہوئے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے ڈائرکٹر کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا اور ایم جے اکبر کی فائیل کو دوبارہ محکمہ جی اے ڈی روانہ کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری نہیں چاہتے کہ ایم جے اکبر کو ریلیو کرتے ہوئے تبادلہ کی ذمہ داری اپنے سر لیں۔ وہ اگرچہ ایم جے اکبر کے تبادلہ کے حق میں ہیں لیکن جی اے ڈی سے باقاعدہ احکامات کے بعد ہی اسے قبول کرنا چاہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جلال الدین اکبر گزشتہ دو دن سے ذمہ داری سے سبکدوش کرنے کیلئے سکریٹری کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں کے تبادلے سے متعلق محکمہ جی اے ڈی آج شام تک ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گا اور ایم جے اکبر چہارشنبہ کو مذکورہ عہدیدار کو چارج حوالے کردیں گے۔ جی اے ڈی کے ذرائع نے بتایا کہ ایم جے اکبر کے عہدہ پر مستقل عہدیدار کے تقرر کیلئے وقت لگ سکتا ہے۔ اسی دوران باوثوق ذرائع کے مطابق ایم جے اکبر کے حق میں عوامی مہم اور چیف منسٹر کے دفتر کو نمائندگیوں نے حکومت کو اپنے فیصلہ پر از سر نو غور کرنے کیلئے مجبور کردیا تھا لیکن مقامی سیاسی جماعت کے دباؤ کے آگے حکومت بے بس نظر آرہی ہے۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کی جانب سے ایم جے اکبر کے تبادلہ کیلئے چیف سکریٹری کو روانہ کردہ مکتوب کے منظر عام پر آنے کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود میں کافی ہلچل دیکھی گئی۔ مختلف اداروں کے عہدیداروں نے ایم جے اکبر کے تبادلہ کے سلسلہ میں مکتوب اور اس میں عائد کردہ الزامات پر افسوس کا اظہار کیا۔ اقلیتی اسکیمات سے استفادہ کیلئے حج ہاوز پہنچنے والے افراد بھی مقامی سیاسی جماعت کے رول پر ناراضگی کا اظہار کررہے تھے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایم جے اکبر واحد عہدیدار ہیں جو راست عوام کیلئے دستیاب تھے، انہوں نے مختلف اسکیمات میں اہم رول ادا کیا۔ اقلیتی بہبود کے ملازمین کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ رکن پارلیمنٹ نے ایم جے اکبر کی جانب سے ایک ماہ میں 40لیٹر زائد ڈیزل کے استعمال کا بہانہ بناکر انہیں برطرف کرنے اور تحقیقات کی مانگ کی ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ 2200روپئے مالیتی 40لیٹر ڈیزل کیلئے رکن پارلیمنٹ کو ایک دیانتدار عہدیدار کا تبادلہ مقصود ہے لیکن انہیں دیگر اداروں میں جاری لاکھوں روپئے کی بدعنوانیوں کی کوئی فکر نہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے 40لیٹر زائد ڈیزل کا استعمال کوئی جرم نہیں ہے خود اسی کارپوریشن میں سکریٹری سے قربت رکھنے والے ایک عہدیدار نے اپنے برتھ سرٹیفکیٹ میں تاریخ تبدیل کرتے ہوئے 5سال زائد خدمات انجام دی اور اس طرح لاکھوں روپئے کی تنخواہ اور مراعات غیر مجاز طور پر حاصل کئے ہیں جبکہ سی بی سی آئی ڈی نے برتھ سرٹیفکیٹ میں اُلٹ پھیر کی تحقیقات کی اور معاملہ ہائی کورٹ میں ہے۔ اتنا ہی نہیں مذکورہ عہدیدار کو جنوری میں ریٹائرمنٹ کے باوجود مکمل مراعات کے ساتھ کارپوریشن میں برقرار رکھا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ کو کارپوریشن کی ان سنگین بدعنوانیوں کی فکر کیوں نہیں۔ انہیں اقلیتی فینانس کارپوریشن کے 57کروڑ روپئے کے اسکام اور رقم کی بازیابی پر توجہ دینی چاہیئے تاکہ یہ رقم اقلیتوں کی ترقی پر خرچ کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT