Wednesday , December 19 2018

جلسوں میں عوام کی کثیرتعداد دیکھ کر اپوزیشن اور شیوسینا رونے پر مجبور

مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات

مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات
سونی پت (ہریانہ) 8 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن اور بی جے پی کی سابق حلیف جماعت شیوسینا جس نے اُن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہلی میں اپنا کام کاج چھوڑ کر انتخابی ریالیوں میں شرکت پر توجہ دے رہے ہیں، دراصل اِس لئے رو رہے ہیں اور پریشان ہیں کیونکہ اُنھوں نے (مودی) عوام میں مقبولیت کی جو لہر پیدا کی ہے وہ شیوسینا نہیں کرسکتی۔ نریندر مودی نے آئی این ایل ڈی سربراہ اوم پرکاش چوٹالہ پر بھی تنقید کی جہاں اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ تہاڑ جیل میں رہتے ہوئے بھی ہریانہ کی حکومت چلا سکتے ہیں۔ ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ لوک سبھا انتخابات کے دوران جب جب مہم چلائی گئی تو اُس وقت اُنھوں نے عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔ اُنھوں نے عوام کو روتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن اب میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ میرے ہریانہ اور مہاراشٹرا میں عوامی جلسوں میں خطاب کو دیکھ کر لوگ رو رہے ہیں۔ نریندر مودی نے البتہ شیوسینا کا نام نہیں لیا جس نے یہ کہا تھا کہ وزیراعظم اپنی تمام تر توجہ ایک ایسے وقت میں مہاراشٹرا کی جانب مبذول کرچکے ہیں جب جموں و کشمیر میں پاکستانی افواج شلباری میں مصروف ہے۔

یاد رہے کہ مودی نے کہا تھا کہ اپوزیشن اور شیوسینا صرف اس لئے پریشان ہیں کہ بی جے پی کے جلسوں میں عوام کی کثیر تعداد دیکھی جارہی ہے اور پارٹی لہر کانگریس کو بہاکر لے جائے گی۔ شیوسینا نے نریندر مودی سے یہ سوال بھی کیا تھا کہ وزیراعظم بننے کے بعد اُنھوں نے اب تک مہاراشٹرا کی ترقی کے لئے کیا کام کئے۔ یہی نہیں بلکہ شیوسینا نے یہ تک کہا تھا کہ مودی کے بار بار ریالیوں میں شرکت سے مہاراشٹرا حکومت کے خزانے پر بوجھ عائد ہورہا ہے۔ این سی پی سربراہ شردپوار نے بھی مودی کی ریالیوں پر سوالات اُٹھائے تھے۔ نریندر مودی نے اوم پرکاش چوٹالا پر بھی درپردہ چوٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ جیل میں ہیں وہ اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لئے عدالت عالیہ سے رجوع ہورہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جیل میں رہتے ہوئے ہریانہ کی حکومت کا کام کاج سنبھالیں گے۔ مودی کے مطابق گزشتہ 25 سال سے ہریانہ میں عوام کی حکومت نہیں رہی بلکہ بیٹوں، بھتیجوں، بھانجوں اور دامادوں کی حکومت رہی ہے جیسا کہ زمانہ بادشاہت میں ہوا کرتا تھا۔ اگر ہر پانچ سال کے بعد آنے والی نئی حکومت عوام کا بھلا نہیں کرسکتی تو ایسی حکومت کا کیا فائدہ؟ کیا وہ صرف اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے اقتدار حاصل کرتے ہیں؟ لہذا بی جے پی کو ایک موقع دیا جائے تو عوام کو ازخود معلوم ہوجائے گا کہ ہم حکومت کس طرح چلاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT