Saturday , December 15 2018

جمائی کو روکنے کا مجرب طریقہ

سوال : میں نے کچھ دن قبل ایک خطیب صاحب سے سنا کہ اگر کسی کو جمائی آئے اور وہ اس وقت انبیاء کا تصور کرے تو اس کی جمائی رک جاتی ہے۔ کیا اس کی کوئی دلیل ہے یا صرف یہ ایک مقولہ ہے؟ نیز اگر کسی کو نماز میں جمائی آئے تو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ محمد عبدالمنان سکندر، نواب صاحب کنٹہ

سوال : میں نے کچھ دن قبل ایک خطیب صاحب سے سنا کہ اگر کسی کو جمائی آئے اور وہ اس وقت انبیاء کا تصور کرے تو اس کی جمائی رک جاتی ہے۔ کیا اس کی کوئی دلیل ہے یا صرف یہ ایک مقولہ ہے؟ نیز اگر کسی کو نماز میں جمائی آئے تو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔
محمد عبدالمنان سکندر، نواب صاحب کنٹہ
جواب : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ہر بھلائی اور خیر کی تعلیم دی اور آپ نے ہر ممکنہ حد تک شر و برائی اور نقصان دہ امور سے بھی باخبر کیا ۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت چھوٹی باتوں کی بھی اپنی امت کو تعلیم دی۔ بالعموم لوگ جس کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ انہی میں سے ایک قابل ذکر مسئلہ جمائی کا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمائی اور چھینک سے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے۔ ( ان اللہ یحب العطاس) اور اس روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اس کو حتی المقدور روکے کیونکہ وہ شیطان کی جانب سے ہے اور جب وہ (جمائی لیتے ہوئے) ’’ھا‘‘ کہتا ہے تو اس سے شیطان خوش ہوتا ہے (بخاری کتاب الادب ، باب ما یستحب من العطاس و مایکرہ من التثاء ب بروایت ابو ھریرہ) ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ جب تم سے کسی کو جمائی آئے تو اس کو حتی المقدور روکے ’’ ھا ھا‘‘ نہ کہے کیونکہ وہ شیطان کی جانب سے ہے وہ اس سے خوش ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ مسلمان کو ہر وقت اللہ کا ذکر کرنا چاہئے اور چھینک جسم میں نشاط اور چستی پیدا کرتی ہے اور جمائی سستی اور تھکاوٹ کی علامت ہے۔ جمائی کی ناپسندیدگی کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان امور سے پرہیز کریں جو جمائی کا سبب ہوتے ہیں۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے : اذا تثاء ب احد کم فلیمسک بیدہ علی فیہ (جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنے ہاتھ منہ پر رکھ کر اس کو روکے) امام ابن ابی شیبہ نے یزید بن الاصم سے مرسل حدیث نقل کی ہے : ماتثا ء ب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قط
یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی جمائی نہیں آئی ۔ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب فتح الباری میں نقل کرتے ہیں۔ جمائی کا نہ آنا نبوت کی خصوصیات میں سے ہے اور خطابی نے سلیمہ بن عبدالملک بن مروان کی سند سے تخریج کی ہے ۔ ’’ما تثاء ب نبی قط‘‘ یعنی کسی نبی کو جمائی نہیں آئی۔
بناء بریں کتب فقہ میں منقول ہے کہ اگر کوئی یہ خیال کرے کہ انبیاء علیھم الصلاۃ والسلام کو جمائی نہیں آتی تھی تو اس کی جمائی روک جائیگی اور امام قدوری نے فرمایا کہ یہ مجرب ہے ۔ ہم نے کئی مرتبہ اس کا تجربہ کیا ہے ۔ ردالمحتار جلد اول کتاب الصلاۃ صفحہ 516 میں ہے : فائدۃ :رأیت فی شرح تحفۃ الملوک المسمی بھدیۃ الصعلوک مانصہ: قال الزاھدی ، الطریق فی دفع التثاء ب : ان یخطر ببالہ ان الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام ماتثاء بوا قط ۔ قال القدوری جربناہ مرارا فوجد ناہ کذلک اھ قلت : و قد جربتہ ایضا فوجدتہ کذلک۔
اس کتاب کے 695 میں ہے : (والانبیاء محفوظون منہ) قدمنافی آداب الصلاۃ ان اخطر ذلک ببالہ مجرب فی دفع التثاء ب
نماز میں حرکت مخل خشوع ہے اس لئے دورانِ نماز کسی کو جمائی آئے تو وہ ا پنے ہونٹوں کو دانت میں لیکر روکے اور اگر نہ رکے تو اپنے بائیں ہاتھ کی پشت کو اپنے منہ پر رکھے اور اگر وہ قیام کی حالت میں ہو تو کہا گیا کہ سیدھا ہاتھ منہ پر رکھے۔ درمختار برحاشیہ رد المحتار جلد اول کذب الصلاۃ صفحہ 515 میں ہے: (وامساک فمہ عندالتثاء ب) فائدۃ لدفاع التثاء ب مجرب ولو بأخذ شفتیہ بسنہ (فان لم یقدر غطاہ) ظھر (یدہ) الیسری و قیل بالیمنی لوقائماً والا فیسراہ

بیوی کا زائد نفقہ کا مطالبہ کرنا
سوال : میری لڑکی کو ایک لڑکا ہے، داماد کام نہ کرنے کی وجہ سے میاں بیوی میں اختلافات ہوگئے اور بات بڑھ گئی تو میں لڑکی کو اپنے گھر لالیا، چھ ماہ تک لڑکی اور نواسے کو گزارہ کیلئے کچھ بھی پیسے نہیں دیئے ۔ جب لڑکے کے والد سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بالآخر دو ہزار روپئے ماہانہ دینے کا وعدہ کیا اور چھ ماہ سے ادا کر رہے ہیں۔ اب لڑکے کو نوکری مل گئی ہے ۔ اس کی تنخواہ معقول ہے ۔ وہ لڑکی کو اپنے گھر واپس لیجانا نہیں چاہتا ہے اور ماہانہ پیسے زیادہ ادا کرنے کیلئے کہا جائے تو بھی اس کو قبول نہیں کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جتنی رقم دی جائے اسی میں گزارہ کرے کیونکہ دو ہزار روپئے تمہارے ہی کہنے پر دیئے جارہے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس وقت کی نوعیت الگ تھی اور اب کی نوعیت الگ ہے ۔ کیا لڑکا کمانے کی صورت میں بیوی کو زائد رقم طلب کرنے کا حق ہے یا نہیں ؟ وہ بچہ کے ضروری اشیاء خود پہنچادیتا ہے ۔
نام مخفی
جواب : اگر بیوی شوہر سے ایک متعینہ نفقہ پر مصالحت کی تھی اور وہ نفقہ اس کے خرچ کیلئے ناکافی ہو تو وہ شوہر سے زائد نفقہ کا مطالبہ کرسکتی ہے جو اس کے خرچ کے لئے کافی ہوسکے۔ رد المحتار جلد 3 کتاب الطلاق مطلب فی الصلح عن النفقۃ میں ہے : صالحت المرأۃ زوجھا علی نفقۃ لا تکفیھا فلھا ان ترجع عنہ و تطالب بالکفایۃ
پس صورت مسئول عنہا میں مقررہ نفقہ بیوی کیلئے ناکافی ہو تو وہ شوہر سے مزید اضافہ کا مطالبہ کرسکتی ہے جو اس کے مصارف کیلئے کافی ہو اور اگر شوہر گنجائش کے باوجود اس کا ضروری نفقہ ادا نہ کرے تو وہ عند اللہ ماخوذ ہوگا۔
متعدد اذانوں کا جواب
سوال : حیدرآباد کو مساجد کا شہر کہا جاسکتا ہے۔ بالخصوص پرانے شہر کے ایک محلہ میں کئی مساجد ہوتے ہیں، ہمارے گھر کے قریب بھی چار پانچ مساجد ہیں اور کئی مساجد کی اذان کی آواز ہمارے گھر میں آتی ہے ۔ بسا اوقات ہم کسی دوسرے مقام پرہوتے ہیں۔ وہاں بھی ایک سے زائد کئی مساجد سے اذان کی آواز سنائی دیتی ہے ۔ اذان کا جواب دینا ہے لیکن کیا ہر اذان کا جواب دینا لازم ہے۔ ایک وقت کی اذان کئی مساجد سے سنائی دیتی ہے تو کیا ہر مسجد کی اذان کا الگ الگ جواب دینا ضروری ہے یا اس کے کچھ علحدہ احکامات ہیں۔
محمد عبدالقدوس قادری، بورا بنڈہ
جواب : شرعاً اذان کا جواب دینا واجب ہے اور اگر ایک ہی وقت میں متعدد مساجد سے اذان کی آواز آئے تو پہلے جس اذان کو سنے اس کا جواب دینا کافی ہے، بقیہ اذانوں کا جواب دینا لازم نہیں۔ اس کی مسجد کی اذان تک انتظار کرنا ضروری نہیں، پہلی اذان کے جواب سے وجوب اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا ۔ درمختار برحاشیہ رد المحتار جلد اول کتاب الصلوۃ باب الاذان صفحہ 426 میں ہے : (و یجیب) وجوبا وقال الحلوانی ندبا والواجب الاجابۃ بالقدم (من سمع الاذان) اور رد المحتار مطلب فی کراھۃ تکرار الجماعہ فی المسجد صفحہ 428 میں ہے : قولہ (ولو تکرر) ای بأن اذن واحد بعد واحد، امالو سمعھم فی آن واحد من جھات فسیاتی قولہ (اجاب الاول) سوائً کان مؤذن مسجدہ أو غیرہ … فالحرمۃ للاول ۔
پس صورت مسئول عنہا میں وقتی نماز کے لئے متعدد مساجد سے دی جانے والی ایک اذان کا جواب دینا کافی ہے اور سب سے پہلی اذان کا جواب دے ۔ اگرچہ وہ مسجد اس سے کافی فاصلہ پر ہی ہو اور جس مسجد میں وہ نماز ادا کرتا ہے اس مسجد کی اذان کا انتظار کرنا یا اسی مسجد کی اذان کا جواب دینا ضروری نہیں۔

قیدی کی بیوی کا نفقہ
سوال : میرے داماد کو ایک کیس میں تین سال کی سزا ہوئی ہے، تقریباً چھ ماہ سے لڑکی میرے پاس ہے، ہماری گزر بسر ہی مشکل سے ہورہی ہے ۔ لڑکے کا کاروبار ہے اور ان کے والد بھی کاروباری ہے ، چھ ماہ سے لڑکی کے خرچ کیلئے کچھ بھی نہیں دیا گیا ۔ لڑکے کے والد سے بار بار خواہش کی گئی کہ لڑکی کیلئے کچھ ماہانہ رقم مقرر کی جائے تو ان کا کہنا ہے کہ اس کا خرچ لڑکے پر لازم ہے، مجھ پر نہیں ہے اور وہ اب جیل میں ہے تو وہ کس طرح نفقہ ادا کرے گا۔ لڑکے کا ذاتی کاروبار تھا، قید کی وجہ سے اس کا کاروبار بند کردیا گیا ہے ۔ آپ سے دریافت کرنا یہ ہے کہ ازروئے شرع کیا میری لڑکی کا خرچ اس کے شوہر یا اس کے خسر کے ذمہ ہے یا نہیں ؟ لڑکے کے کاروبار کا سارا سامان والد کے قبضے میں ہے۔
ایک اسلامی بھائی
جواب : شرعاً بیوی کا نفقہ شوہر پر لازم ہے۔ شوہر اگر غائب ہوجائے یا قید ہوجائے اور بیوی کیلئے نفقہ کا کچھ انتظام نہ کرے اور اس کا سامان تجارت والد کے پاس موجود ہو اور وہ خود بہو پر خرچ کرنے کے موقف میں ہے تو خسر پر بہو کے نفقہ کی ذمہ داری ازروئے شرع لازم رہے گی ۔ خواہ وہ اپنے لڑکے کا سامان تجارت فروخت کر کے نفقہ ادا کرے یا بطور قرض خرچ کرے اور لڑکے کی واپسی کے بعد اس سے وہ رقم وصول کرلے۔ در مختار برحاشیہ رد المحتار جلد 3 کتاب الطلاق صفحہ 677 میں ہے : وفی واقعات المفتین لقدری آفندی: و یجبرالاب علی نفقۃ امرأۃ ابنہ الغائب و ولد ھا و کذا الام علی نفقۃ الولد لترجع بھا علی الأب ۔ اور ردالمحتار میں قولہ (و یجبرالأب الخ) کے تحت ہے: ھذہ العبارۃ فی القنیۃ والمجتبی وقد علمت ان المذھب عدم وجوب النفقۃ لزوجۃ انہ ولو صغیرا فقیرا فلو کان کبیرا غائبا بالاولی الا ان یحمل علی ان الوجوب ھنا بمعنی أن الأب یو مربا لانفاق علیھا لیرجع بھا علی الابن اذا حضر لکن تقدم ان زوجۃ الغائب یفرض القاضی لھا النفقۃ علی زوجھا۔ویامرھا بالاستدانۃ وانہ تجب الادانۃ علی من تجب علیہ نفقتھا۔

مفلس والد کے تجہیز و تکفین کے مصارف
سوال : ایک شخص کا انتقال ہوا، بڑی کسمپرسی میں اس کی گزر بسر ہوئی ، وہ کرایہ کے مکان میں رہا کرتا تھا ، اس کے دو لڑکے ہیں، دونوں بھی اس کو چھوڑ کر چلے گئے تھے ، وہ اپنی بیوی کے ساتھ بڑی مفلوک الحالی میں زندگی گزارا، اس کے بیٹے کچھ خرچہ دیدیا کرتے تھے اور بعض ہمدرد حضرات ان کی مدد کر دیتے تھے۔ کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد اس کا انتقال ہوا۔ اس کی بیوی کچھ عرصہ قبل فوت ہوئی، اس کے دو لڑکوں کے درمیان کفن دفن کے خرچ پر تکرار ہوگئی جبکہ میت گھر ہی میں تھی ، دونوں نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں پھر ایک ہمدرد انسان نے فی الفور ان کیلئے کفن دفن کا انتظام کیا اور ان کے دونوں لڑکوں نے ان کی رقم واپس کرنے کا اقرار کیا۔ بعد تدفین دونوں لڑکے ایک دوسرے پر اس رقم کو ادا کرنے پر زور دے رہے ہیں، بڑے بیٹے کا دعویٰ ہے کہ آخری عمر میں بیماری پر اس نے تقریباً آٹھ دس ہزار روپئے خرچ کئے اس لئے کفن دفن کے سلسلہ میں چھوٹا بھائی وہ رقم ادا کرے ۔ چھوٹا بھائی اپنی مفلسی اور محتاجی کا اظہار کر رہا ہے ۔ ایسی صورت میں اس رقم کی ادائیگی کس پر اور کتنی لازم ہے ؟
نام ندارد
جواب : کوئی شخص ایسی حالت میں انتقال کرجائے کہ اس کے پاس کچھ سرمایہ نہ ہو تو اس کے کفن دفن کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگی جو اس کے وارث ہوتے اتنی ہی مقدار میں جس قدر ان کو وراثت میں حصہ ملتا (اگر وہ کچھ سرمایہ چھوڑتا) جس طرح مرحوم کی زندگی میں اس کا نفقہ ’’علی قدر المیراث‘‘ میراث میں حصہ کے بقدر واجب ہوتا ہے۔ درمختار برحاشیہ ردالمحتار جلد دوم کتاب الصلواۃ مطلب فی الکفن میں ہے : (و کفن من لا مال لہ علی من تجب علیہ نفقتہ) فان تعد دوا فعلی قدر میراثھم اور ردالمحتار میں ہے : کما کانت النفقۃ واجبۃ علیھم فتح : ای فانھا علی قدر المیراث۔
پس مرحوم کے دونوں لڑکوں پر مرحوم کی تجہیز و تکفین پر ان کی مرضی و اجازت سے خرچ کی گئی رقم کی ادائیگی لازم ہے۔ مساوی طور پر دونوں میں سے کوئی بری نہیں ہوسکتا۔

TOPPOPULARRECENT