Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / جماعت اسلامی میں پھوٹ کی اطلاعات بے بنیاد

جماعت اسلامی میں پھوٹ کی اطلاعات بے بنیاد

استعفوں کا اعتراف ، قیم جماعت اسلامی ہند محمد سلیم انجینئر کا بیان
حیدرآباد ۔ 25۔ اکتوبر (سیاست نیوز) جماعت اسلامی میں بڑے پیمانہ پر ارکان کے استعفیٰ سے متعلق سوشیل میڈیا اور بعض اخبارات میں گزشتہ چند دنوں سے خبروں اور مباحث کے دوران قیم جماعت اسلامی ہند محمد سلیم انجنیئر نے مغربی یو پی کے تقریباً 34 اراکین کے اجتماعی استعفے کے وصولی کا اعتراف کیا ۔ تاہم انہوں نے جماعت میں کسی طرح کی پھوٹ یا علحدہ جماعت کے قیام جیسی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا۔ گزشتہ چند دن سے نئی دہلی کے اخبارات اور سوشیل میڈیا میں جماعت اسلامی کے داخلی اختلافات پر خبروں کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ سوشیل میڈیا میں جماعت کے ارکان اور ذمہ دار بھی اس مسئلہ پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ مغربی یو پی سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر قائد سمیت 34 اراکین نے اپنا استعفیٰ مرکزی قیادت کو روانہ کیا ہے۔ ان میں ایک مرکزی نمائندگان کے رکن ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مرحلہ وار طور پر ایک ہی پروفارما میں استعفے نئی دہلی روانہ کئے گئے۔ استعفوں کی اطلاع عام ہوتے ہی میڈیا میں جماعتِ اسلامی میں پھوٹ جیسی خبروں کو پھیلادیا گیا جس کی مرکزی قیادت نے تردید کی ہے۔ اس مسئلہ پر پارٹی میں داخلی بے چینی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے قائدین اور اراکین اس صورتحال سے فکرمند ہیں اور وہ چاہتے ہیںکہ مرکزی شوریٰ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے دو قائدین جو مرکزی شوریٰ کے رکن ہیں، انہوں نے بھی سوشیل میڈیا پر اسی طرح کی رائے ظاہر کی تاکہ موجودہ صورتحال کو بہ حسن و خوبی نمٹا جاسکے ۔ جماعت کے ذمہ دار اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ پہلی مرتبہ اس قدر بڑی تعداد میں استعفے پیش کئے گئے۔ ان معاملات پر مرکزی شوریٰ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ یو پی کے علاوہ دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے ذمہ داروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جا ئے جو اس معاملہ پر تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ مغربی یو پی کے ارکان کو شکایت ہے کہ جماعت کی موجودہ کارکردگی اس کے قیام کا مقصد کے برعکس ہے۔ موجودہ ذمہ داروں نے جماعت کے قیام کے فکری تقاضوں کو فراموش کردیا ہے۔ استعفے کے مکتوب کی نقل ملک بھر کے تمام ارکان کو روانہ کی گئی جس میں کئی ایسے امور ہیں جن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اسی دوران قیم جماعت محمد سلیم انجنیئر نے کہا کہ منصوبہ بند انداز میں بعض افراد اس طرح کی مہم چلا رہے ہیں۔ ایک پروفارما کے تحت مختلف نام اور ان کی دستخطیں حاصل کی گئی۔ مرکزی قیادت اس بات کی جانچ کرے گی کہ آیا یہ دستخطیں حقیقی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد کے نام استعفیٰ کے ای میل کے ذریعہ روانہ کئے گئے ان سے ربط قائم کیا جائے گا اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جماعت اسلامی اپنے داخلہ کے مسئلہ کو بحسن و خوبی حل کرلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ارکان کو کسی مسئلہ پر اعتراض ہے تو انہیں قیادت سے بات کرنی چاہئے تھی ۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی میں رکن کے مقام تک پہنچنے کیلئے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ارکان کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ لہذا پہلی مرتبہ 30 سے زائد ارکان کے استعفے نے جماعت کے حلقوں میں نئی بحث چھیڑدی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی قیادت اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے ریاستی یونٹس کی رائے حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT