Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / جماعت الدعوۃ اور دیگر دہشت گروپس پر مستقل امتناع کا منصوبہ

جماعت الدعوۃ اور دیگر دہشت گروپس پر مستقل امتناع کا منصوبہ

اقوام متحدہ کی قرارداد میںشامل دہشت گرد گروپس اور افراد بھی شامل ‘ حافظ سعید نے مسودہ قانون کو ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

اسلام آباد ۔ 8اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان ایک مسودہ قانون تیارک ررہا ہے تاکہ ممبئی دہشت گرد حملوں کے کلیدی سازشی حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور دیگر دہشت گرد گروپس اور افراد کو جو وزارت داخلہ کی زیر نگرانی فہرست میں شامل ہیں مستقل طور پر امتناع عائد کردیا جائے ۔ حکومت پاکستان کے اس اقدام کو پاکستان کی طاقتور فوج کی تائید بھی حاصل ہے ۔ یہ مسودہ قانون صدارتی آرڈیننس کی جگہ لے گا جس کے تحت مختلف تنظیموں اور عوام کو وزارت داخلہ کی زیرنگرانی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ وزارت قانون کے ذرائع کے حوالے سے پاکستان کے ایک نامور روزنامہ نے خبر شائع کی ہے کہ مجوزہ مسودہ قانون انسداد دہشت گردی آرڈیننس کی ترمیم کرے گا اور امکان ہے کہ اس کو قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں جس کا آغاز کل سے ہونے والا ہے منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا ۔ وزارت قانون اس کارروائی میں شامل ہے جس کا مقصد مجوزہ مسودہ قانون کی منظوری ہے ۔ ذرائع کے بموجب فوجی انتظامیہ بھی اس کی تائید کررہا ہے ۔ طاقتور پاکستانی فوج قابل لحاظ عوامی اثر و رسوخ رکھتی ہے اور پاکستان میں پالیسی فیصلوں میں اس کا دخل ہوتا ہے ۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک مسودہ قانون تیار کیا جائے جو انسداد دہشت گردی قانون میں جزوی ترمیم کرے گا اور اس کی منظوری امریکہ ‘ برطانیہ ‘ فرانس ‘ جرمنی کے بین الاقوامی نگرانکار مالیہ کی غیرقانونی منتقلی اور دہشت گردوں کو مالیہ کی فراہمی کے سلسلہ میں زیرنگرانی فہرست میں گذشتہ فبروری سے شامل کئے گئے ہیں ۔

قبل ازیں صدر ممنون حسین نے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس میں انسداد دہشت گردی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے مختلف دہشت گرد گروپس کو زیرنگرانی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جس کی 120دن کی مدت مقرر ہے ۔ اس کے بعد یہ فہرست غیرکارکرد ہوجائے گی ۔ قومی اسمبلی اس کی مدت میں اضافہ کر کے اسے چار ماہ کرسکتی ہے ۔ اس کیلئے اسے قومی اسمبلی کے دونوں اجلاسوں میں توسیع سے قبل منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا ‘ حالانکہ آرڈیننس اور انسداد دہشت گردی قانون کی دفعہ 11B میں ترمیم دہشت گرد گروپ کیلئے مقرر معیاروں کے مطابق نہیں ہیں تاہم اس میں دہشت گرد گروپس اور افراد کو جو زیرنگرانی فہرست میںشامل ہیں ‘ شامل کیا جارہا ہے ۔ذیلی دفعہ بھی موجودہ قانون کی دفعات میں شامل کیا جائے گا جس کے تحت ایسے گروپس اور افراد جنہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ممنوعہ قرار دیا ہے ‘ پاکستان میں بھی ان پر مستقل طور پر امتناع عائد کیا جائے گا ۔ صدر پاکستان کے آرڈیننس کو پہلے ہی حافظ سعید اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرچکے ہیں ۔ حافظ سعید بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 بابتہ ڈسمبر 2008ء میں شامل ہیں ۔ ان کی جماعت ‘ جماعت الدعوۃ سمجھا جاتا ہے کہ ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ کی ہراول تنظیم ہے‘ ربط پیدا کرنے پر بیرسٹر ظفر اللہ خان اسپیشل اسسٹنٹ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ اس موضوع پر ترمیم وزارت داخلہ کی فہرست کو ممنوعہ گروپس میں شامل کرنے کیلئے کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قانون کوئی نئی چیز متعارف نہیں کروا رہا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT