Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / جماعت الدعوۃ و حقانی نیٹ ورک پر امتناع

جماعت الدعوۃ و حقانی نیٹ ورک پر امتناع

اسلام آباد 22 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) زبردست عالمی دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے پاکستان نے حافظ سعید کی قیادت والی جماعت الدعوۃ اور خطرناک سمجھے جانے والے حقانی نیٹ ورک پر امتناع عائد کردیا ہے ۔ پاکستان نے دوسری تنظیموں پر بھی امتناع عائد کیا ہے اور ممبئی حملوں کے سرغنہ حافظ سعید پر سفری تحدیدات بھی عائد کردی ہیں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی

اسلام آباد 22 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) زبردست عالمی دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے پاکستان نے حافظ سعید کی قیادت والی جماعت الدعوۃ اور خطرناک سمجھے جانے والے حقانی نیٹ ورک پر امتناع عائد کردیا ہے ۔ پاکستان نے دوسری تنظیموں پر بھی امتناع عائد کیا ہے اور ممبئی حملوں کے سرغنہ حافظ سعید پر سفری تحدیدات بھی عائد کردی ہیں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان پر دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔ اس پر دباؤ تھا کہ پشاور میں فوجی اسکول پر کئے گئے حملے کے بعد وہ اچھے اور برے عسکریت پسندوں میں فرق کرنا چھوڑ دے ۔ اس حملہ میں 136 اسکولی بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اپنے ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں اس امتناع کی توثیق کی ہے ۔ سمجھا جارہا ہے کہ پاکستان نے زبردست امریکی دباؤ کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے تاہم تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے اور کسی اور گوشہ بشمول جان کیری ( سکریٹری آف اسٹیٹ ) کے دباؤ میں یہ فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ممنوعہ گروپس کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کردئے گئے ہیں

اور حافظ سعید پر سفری تحدیدات بھی عائد کردی گئی ہیں۔ ریڈیو پاکستان نے یہ اطلاع دی ہے ۔ صدر امریکہ بارک اوباما کے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے دورہ ہندوستان سے چند دن قبل ہی پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ قبل ازیں پاکستان کے ایک عہدیدار نے کہا کہ جماعت الدعوۃ ‘ حقانی نیٹ ورک اور دوسرے گروپس پر امتناع کا فیصلہ بہت پہلے کردیا گیا تھا اور وزارت داخلہ کو اس پر عمل آوری کے طریقہ کار کو قطعیت دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔ وزارت نے امتناع کی فہرست میں جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن کے نام بھی شامل کئے ہیں کیونکہ یہ دونوں گروپس تخریب کاری اور عسکریت پسندی میں شامل ہیں۔ یہ دونوں گروپس حافظ سعید کے ہیں۔ فلاح انسانیت فاونڈیشن در اصل لشکرطیبہ دہشت گرد گروپ کا امدادی محاذ ہے ۔ حافظ سعید پاکستان میں کھلے عام گھومتے ہیں اور اکثر ریلیوں سے خطاب میں ہندوستان کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہیں۔ پاکستان کا یہ استدلال تھا کہ حافظ سعید کے خلاف کوئی مقدمہ زیر دوران نہیں ہے

اور ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے ملک میں کہیں بھی آنے جانے کا حق رکھتے ہیں۔ ہندوستان نے بارہا پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ممبئی دہشت گرد حملوں میں ان کے رول کے تعلق سے پوچھ تاچھ کرنے حافظ سعید کو حوالے کیا جائے جن دوسرے گروپس پر امتناع عائد کیا گیا ہے ان میں حرکت الجہاد اسلامی ‘ حرکت المجاہدین ‘ امہ تعمیر نو ‘ حاجی خیر اللہ حاجی ستار منی ایکسچینج ‘ راحت لمیٹیڈ ‘ روشن منی ایکسچینج ‘ الخیر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ شامل ہیں۔ لاہور سے موصولہ اطلاع کے بموجب حکومتِ پاکستان کی تحدیدات کی پرواہ کئے بغیر حافظ سعید زیرقیادت جماعت الدعوۃ نے آج اعلان کیا کہ وہ ملک گیر سطح پر اپنی فلاحی خدمات جاری رکھے گی۔

TOPPOPULARRECENT