Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / جمال خشوگی کی استنبول قونصلیٹ کے اندر موت : سعودی عرب

جمال خشوگی کی استنبول قونصلیٹ کے اندر موت : سعودی عرب

ریاض 20 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب نے آج اعتراف کیا کہ اس کے ناقد صحافی جمال خشوگی کی موت استنبول میں سعودی قونصلیٹ کے اندر ہوئی ہے جو وہاں کچھ افراد سے ان کے جھگڑے کا نتیجہ تھی ۔ سعودی عرب کی اس وضاحت سے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ مطمئن نظر آتے ہیں لیکن کچھ امریکی قانون سازوں نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ صحافی جمال خشوگی کی موت کی تحقیقات کے سلسلہ میں 18 سعودی باشندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ولیعہد محمد بن سلمان سے قربت رکھنے والے دو اعلی عہدیداروں کو برطرف بھی کردیا گیا ہے ۔ جمال خشوگی سعودی ولیعہد کے کٹر ناقدین میں شمار کئے جاتے تھے اور وہ واشنگٹن پوسٹ کیلئے کالم لکھا کرتے تھے ۔ انہیں آخری مرتبہ 2 اکٹوبر کو استنبول کے سعودی قونصلیٹ میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا ۔ ان کی اچانک گمشدگی سے کئی سوال پیدا ہوئے تھے اور ایک طرح سے بین الاقوامی بحران پیدا ہوگیا تھا ۔ ترک عہدیداروں نے سعودی عرب پر ان کی ہلاکت میں ملوث رہنے اور ان کی نعش کو ٹھکانے لگادینے کا الزام عائد کیا تھا ۔ سعودی عرب نے ابتداء میں اس معاملہ میں اپنے کسی رول سے شدت سے انکار کردیا تھا تاہم اب اس نے اعتراف کرلیا ہے کہ خشوگی کی موت استنبول کے سعودی قونصل خانہ میں ہوئی ہے ۔ امریکہ نے اس معاملہ میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب پر تحدیدات عائد کرنے کا انتباہ بھی دیدیا تھا ۔ سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب نے کہا کہ جمال خشوگی کی موت قونصلیٹ میں کسی بات پر ہوئے جھگڑے کے نتیجہ میں ہوئی ہے ۔ انہوں نے نعش کے تعلق سے کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ خشوگی اور کچھ افراد کے مابین وہاں بات چیت ہوئی اور پھر وہ جھگڑے میں بدل گئی جس کے نتیجہ میں جمال خشوگی کی موت واقع ہوگئی ۔ اس دوران سعودی عرب نے ڈپٹی انٹلی جنس سربراہ احمد الاسیری اور شاہی میڈیا مشیر سعود القہطانی کو برطرف کردیا ہے جو ولیعہد محمد بن سلمان سے قربت رکھتے تھے ۔ سعودی عرب میں انٹلی جنس نیٹ ورک کو مزید مستحکم بنانے اقدامات شروع کئے گئے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT