Saturday , August 18 2018
Home / آپ کے سوال / جمعہ کے خطبہ کے دوران تحیۃ المسجد پڑھنا

جمعہ کے خطبہ کے دوران تحیۃ المسجد پڑھنا

سوال : جمعہ کی نماز کے لئے بسا اوقات جب ہم داخل ہوتے ہیں تو خطبہ جمعہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس وقت ہم تحیۃ المسجد ادا کرسکتے ہیں یا نہیں، میں نے عرب ممالک میں دیکھا ہے کہ عرب حضرات مسجد میں داخل ہوتے ہی دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھتے ہیں۔ اگر خطبہ شروع ہوجائے تو بھی وہ ترک نہیں کرتے لیکن ہندوستان میں ہم عموماً خطبہ شروع ہونے کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھتے۔ کیا ہمارا عمل صحیح ہے ؟ کیا اس کا حد یث میں کوئی ثبوت ہے ۔ نیز بہتر عمل دونوں میں کیا ہے۔ واضح کیجئے۔
محمد عبداللہ ، بارکس
جواب : احناف کے نزدیک خطبہ کے دوران گفتگو کرنا ، قرآن کی تلاوت کرنا اسی طرح نماز پڑھنا منع ہے ۔ امام شافعی کے نزدیک اگر کوئی شخص مسجد میں ایسے وقت داخل ہو جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اس کو ہلکی دو رکعتیں پڑھ لینی چاہئے ۔ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ حضرت سلیک غطفانی جمعہ کے دن داخل ہوئے جبکہ نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے نماز پڑھ لی۔ انہوں نے کہا: نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو رکعت نماز پڑھ لو۔ روی عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ انہ قال ’’دخل سلیک الغطفانی یوم الجمعہ ۔ والنبی صلی اللہ علیہ وسلم یخطب فقال لہ اصلیت قال لا قال : فصل رکعتیں فقد امرہ بتحیۃ المسجد حالۃ الخطبۃ۔
احناف کی دلیل ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فاستمعوا لہ وانصتوا (سورۃ الاعراف 204 ) جب قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تو تم اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو۔ اس آیت کے نزول کے بعد مذکورہ حدیث شریف منسوخ ہوگئی ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلیک غطفانی کو دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا تھا، بعد ازاں امام کے خطبہ کے دوران نماز پڑھنے سے منع کردیا ۔ روی عن ابن عمر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم امر سلیکا ان یرکع رکعتین ثم نھی الناس ان یصلوا والامام یخطب۔ (بدائع صنائع جلد اول ص : 593 ) مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمرؓ سے منقول ہے کہ وہ دونوں جمعہ کے دن امام کے خطبہ کیلئے نکلنے کے بعد نماز اور کلام دونوں کو ناپسند کیا کرتے تھے۔ عن ابن عباس وابن عمر انھماکانا یکرھان الکلام و الصلاۃ بعد الجمعۃ بعد خروج الامام۔ بنایۃ 1012/2 ۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب امام نکلے (خطبہ کیلئے) تو نہ کوئی نماز ہے اور نہ ہی گفتگو ہے۔ (موطا امام مالک) پس جب کوئی جمعہ کے دن مسجد میں ایسے وقت داخل ہو جبکہ امام خطبۂ جمعہ شروع کردیا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ بیٹھ جائے اور توجہ سے خطبہ سنے۔
قعدۂ اُولیٰ بھول گیا
سوال : حال میں میں ظہر کی نماز ادا کر رہا تھا لیکن دوسری رکعت پر بیٹھا نہیں کھڑا ہوگیا ۔ بعد میں تیسری چوتھی رکعت مکمل کیا اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرلیا ۔ ا یک عالم صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ آپ کی نماز ہی نہیں ہوئی ، دو رکعت کے قعدہ میں بیٹھنا ضروری تھا اور آپ نے اس کو ترک کردیا۔ ایسی صورت میں کیا حکم ہے ؟ کیا میری نماز ہوئی یا نہیں ؟
عبدالقادر ، ورنگل
جواب : کوئی شخص ظہر کی سنت ادا کر رہا ہو اور دو رکعت پر بیٹھنا بھول جائے اور تیسری رکعت کیلئے کھڑے ہوجائے اور اخیر میں سجدہ سہو کرلے تو شرعاً اس کی نماز مکمل ہوگئی ۔ عالمگیری جلد اول ص : 112 میں ہے : ولو صلی الاربع قبل الظھر ولم یقعد علی رأس الرکعتین جاز استحسانا کذا فی المحیط۔
اور ص : 113 میں ہے : رجل صلی أربع رکعات تطوعا ولم یقعد علی رأس الرکعتین عامدا لاتفسد صلاتہ استحسانا وھو قولھما و فی القیاس تفسد صلاتہ۔
فرض نماز میں خلاف ترتیب سورتیں پڑھنا
سوال : مجھے ایک مرتبہ اتفاق سے ایک مسجد میں نماز پڑھنے کا موقع ملا جہاں پر امام صاحب نے پہلی رکعت میں سورہ فیل اور دوسری رکعت میں سورہ ماعون کی تلاوت کی اور ایک مرتبہ انہوں نے پہلی رکعت میں سورہ الناس اور دوسری رکعت میں سورہ الاخلاص کی تلاوت کی۔ اس طرح نماز میں تلاوت کی جائے تو نماز کا کیا حکم ہے ؟
محمد صلاح الدین ، کالا پتھر
جواب : نماز میں خلاف ترتیب آیتیں پڑھنا یعنی بعد والی سورۃ کو پہلے اور پہلی سورۃ کو بعد میں پڑھنا اور اسی طرح کسی آیت کو آگے پیچھے پڑھنا یا ایک ہی رکعت میں دو ایسی آیتوں کو جمع کرنا جن کے درمیان ایک آیت یا کئی آیتیں رہ گئی ہوں یا دو رکعتوں میں ایسا عمل کرنا جیسا کہ سائل نے استفسار کیا ہے مکروہ ہے ۔ فتاوی عالمگیری ج : 1 ص: 78 میں ہے : و اذا قرأ فی رکعۃ سورۃ و فی الرکعۃ الاخری او فی تلک الرکعۃ سورۃ فوق تلک السورۃ یکرہ و کذا اذا قرأ فی رکعۃ آیۃ ثم قرأ فی الرکعۃ الاخری او فی تلک الرکعۃ آیۃ اخری فوق تلک الآیۃ و اذا جمع بین آیتین بینھما آیات او آیۃ واحدۃ فی رکعۃ واحدۃ او فی رکعتین فھو علی ما ذکرنا فی السور کذا فی المحیط۔
لیکن یہ کراہت صرف فرض نماز میں ہے، سنت یا نوافل میں اگر ایسا ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ اسی مقام میں ہے : ھذا کلہ فی الفرائض و اما فی السنن فلا یکرہ ھکذا فی المحیط ۔
وضو میں پا ؤں دھونے کی ابتداء
سوال : ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے ، جواب دیں گے تو مہربانی ہوگی کیونکہ میں نے یہ سوال بہت سے لوگوں سے کیا لیکن کسی نے بھی اطمینان بخش جواب نہیں دیا۔
سوال یہ ہے کہ جب ہم وضو کرتے ہیں تو ہاتھ اور پاؤں کو دھوتے وقت کہاں سے ابتداء کرنا چاہئے ، ہم سیدھا نل کے نیچے پاؤں رکھ دیتے ہیں، ایڑی وغیرہ دھونے کے بعد پاؤں کی انگلیاں دھوکر اس کا خلال کرتے ہیں۔ ازروئے شرع شریف کیا حکم ہے ؟
محمد ابراہیم ، آصف نگر
جواب : ہاتھ اور پاؤں دھوتے وقت ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں سے آغاز کرنا مسنون ہے ۔ عالمگیری جلد اول ص : 8 میں ہے : ومن السنن البداء ۃ من رؤوس الاصابع فی الیدین والرجلین کذا فی فتح القدیر۔
بیمار کیلئے قبلہ کا حکم
سوال : میرے والد کا گزشتہ مہینے آپریشن ہوا ، وہ ہاسپٹل میں آٹھ دن ایسی حالت میں ہے کہ اٹھنا بیٹھنا اور پلٹنا ممکن نہ تھا ، وہ ہوش و حو اس میں تھے ، گفتگو وغیرہ کرتے ، تیمم کرلیتے اور اسی طرح نماز پڑھ لیتے، ان کا چہرہ قبلہ کی طرف نہیں تھا ۔ غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے انہوں نے چار دن نمازیں پڑھی ہیں۔ کیا ان کی نماز ادا ہوگئی، قبلہ کا رخ ترک کرنے کی وجہ سے کیا ان کی قضاء کرنا ہوگا ؟
محمد برہان ، مادنا پیٹ
جواب : اگر کوئی شخص بیمار ہو اور اس کا قبلہ کی طرف رخ کرنا ممکن نہ ہو اور کوئی اس کے ساتھ موجود نہ ہو جو اس کو روبہ قبلہ کرسکے یا کوئی موجود ہو لیکن رخ کرنا دشوار ہو تو اس کا کسی بھی سمت میں رخ کرنا ادائیگی نماز کیلئے کافی ہے ۔ عالمگیری جلد اول ص : 63 میں ہے: مریض صاحب فراش لا یمکنہ أن یحول وجھہ ولیس بحضرتہ احد یوجھہ یجزیہ صلوتہ الی حیثما شاء کذا فی الخلاصۃ۔
پس آپ کے والد کو دواخانہ میں قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا ممکن نہ تھا تو مجبوری میں غیر قبلہ کی طرف ادا کی گئی نماز ادائیگی فریضہ کیلئے کافی ہے ۔
جمائی کو روکنے کا مجرب طریقہ
سوال : میں نے کچھ دن قبل ایک خطیب صاحب سے سنا کہ اگر کسی کو جمائی آئے اور وہ اس وقت انبیاء کا تصور کرے تو اس کی جمائی رک جاتی ہے۔ کیا اس کی کوئی دلیل ہے یا صرف یہ ایک مقولہ ہے؟ نیز اگر کسی کو نماز میں جمائی آئے تو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔
عبدالمنان ، چارمینار
جواب : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ہر بھلائی اور خیر کی تعلیم دی اور آپ نے ہر ممکنہ حد تک شر و برائی اور نقصان دہ امور سے بھی باخبر کیا ۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت چھوٹی باتوں کی بھی اپنی امت کو تعلیم دی۔ بالعموم لوگ جس کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ انہی میں سے ایک قابل ذکر مسئلہ جمائی کا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمائی اور چھینک سے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے۔ ( ان اللہ یحب العطاس) اور اس روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اس کو حتی المقدور روکے کیونکہ وہ شیطان کی جانب سے ہے اور جب وہ (جمائی لیتے ہوئے) ’’ھا‘‘ کہتا ہے تو اس سے شیطان خوش ہوتا ہے (بخاری کتاب الادب ، باب ما یستحب من العطاس و مایکرہ من التثاء ب بروایت ابو ھریرہ) ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ جب تم سے کسی کو جمائی آئے تو اس کو حتی المقدور روکے ’’ ھا ھا‘‘ نہ کہے کیونکہ وہ شیطان کی جانب سے ہے وہ اس سے خوش ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ مسلمان کو ہر وقت اللہ کا ذکر کرنا چاہئے اور چھینک جسم میں نشاط اور چستی پیدا کرتی ہے اور جمائی سستی اور تھکاوٹ کی علامت ہے۔ جمائی کی ناپسندیدگی کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان امور سے پرہیز کریں جو جمائی کا سبب ہوتے ہیں۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے : اذا تثاء ب احد کم فلیمسک بیدہ علی فیہ (جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنے ہاتھ منہ پر رکھ کر اس کو روکے) امام ابن ابی شیبہ نے یزید بن الاصم سے مرسل حدیث نقل کی ہے : ماتثا ء ب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قط
یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی جمائی نہیں آئی ۔ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب فتح الباری میں نقل کرتے ہیں۔ جمائی کا نہ آنا نبوت کی خصوصیات میں سے ہے اور خطابی نے سلیمہ بن عبدالملک بن مروان کی سند سے تخریج کی ہے ۔ ’’ما تثاء ب نبی قط‘‘ یعنی کسی نبی کو جمائی نہیں آئی۔ بناء بریں کتب فقہ میں منقول ہے کہ اگر کوئی یہ خیال کرے کہ انبیاء علیھم الصلاۃ والسلام کو جمائی نہیں آتی تھی تو اس کی جمائی روک جائیگی اور امام قدوری نے فرمایا کہ یہ مجرب ہے ۔ ہم نے کئی مرتبہ اس کا تجربہ کیا ہے ۔ ردالمحتار جلد اول کتاب الصلاۃ صفحہ 516 میں ہے : فائدۃ :رأیت فی شرح تحفۃ الملوک المسمی بھدیۃ الصعلوک مانصہ: قال الزاھدی ، الطریق فی دفع التثاء ب : ان یخطر ببالہ ان الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام ماتثاء بوا قط ۔ قال القدوری جربناہ مرارا فوجد ناہ کذلک اھ قلت : و قد جربتہ ایضا فوجدتہ کذلک۔
اس کتاب کے 695 میں ہے : (والانبیاء محفوظون منہ) قدمنافی آداب الصلاۃ ان اخطر ذلک ببالہ مجرب فی دفع التثاء ب
نماز میں حرکت مخل خشوع ہے اس لئے دورانِ نماز کسی کو جمائی آئے تو وہ ا پنے ہونٹوں کو دانت میں لیکر روکے اور اگر نہ رکے تو اپنے بائیں ہاتھ کی پشت کو اپنے منہ پر رکھے اور اگر وہ قیام کی حالت میں ہو تو کہا گیا کہ سیدھا ہاتھ منہ پر رکھے۔ درمختار برحاشیہ رد المحتار جلد اول کذب الصلاۃ صفحہ 515 میں ہے: (وامساک فمہ عندالتثاء ب) فائدۃ لدفاع التثاء ب مجرب ولو بأخذ شفتیہ بسنہ (فان لم یقدر غطاہ) ظھر (یدہ) الیسری و قیل بالیمنی لوقائماً والا فیسراہ

TOPPOPULARRECENT