Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / جمعیۃ العلمائے ہند نے اتحاد کی بہترین و قابل تقلید مثال قائم کی

جمعیۃ العلمائے ہند نے اتحاد کی بہترین و قابل تقلید مثال قائم کی

مسلم تنظیم کے والینٹرس نے سیلاب زدہ گجرات میں 22 مندروں اور 2 مسجدوںکی صفائی کی:مودی

ہندوستانی تہواروں کا تذکرہ
عیدالاضحی کی پیشگی مبارکباد
نئی دہلی ۔ /27 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج ایک سرکردہ مسلم تنظیم جمعیۃ العلمائے ہند کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے کارکنوں نے گجرات میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ 22 مندروں اور دو مساجد کی صفائی کرتے ہوئے فرقہ وارانہ اتحاد و یکجہتی کی ایک بہترین اور قابل تقلید مثال قائم کی ہے ۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کثیر و تنوع کی سرزمین ہے اور اس کی تکثیر محض غذائی لوازمات ، طرز زندگی اور لباس تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کو زندگی کے ہر شعبہ میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ وزیراعظم مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں کہا کہ ’’گجرات حال ہی میں ایک تباہ کن سیلاب سے گزرا ہے ۔ کئی افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے ۔ سیلابی پانی تھمنے کے بعد ہر طرف گندگی تھی ۔ یہ اس وقت کی ہی بات ہے ۔ ضلع بنساس کانٹھا کے دھنیرا گاؤں میں جمعیۃ العلمائے ہند کے والینٹروں نے سیلاب سے متاثرہ 22 مندروں اور دو مسجدوں کی مرحلہ وار اساس پر صفائی کی ‘‘ ۔ وزیراعظم نے کہا کہ جمعیۃ کے کارکنوں نے سب کو ساتھ لیکر اجتماعی طور پر صفائی کا کام کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ’’جمعیۃ العلمائے ہند کے والینٹروں نے صفائی کے لئے اتحاد کی ایک بہترین اور قابل تقلید مثال قائم کی ہے ۔ صفائی کے لئے یہ پرعزم مساعی اگر ہمارا حصہ بن جاتی ہے تو ہمارا ملک یقیناً اپنی قوم کو عظیم ترین بلندیوں پر پہونچاسکتا ہے ‘‘ ۔ انہوں نے اپنے 30 منٹ کے نشریہ میں اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ہندوستان ہزاروں سال کے عظیم تہذیبی ورثہ سے مالا مال ہے

اور اس ضمن میں انہوں نے تکثیریت اور تنوع کی جھلک دکھانے والے تہواروں کا تذکرہ کیا ۔ مودی نے کہا کہ ’’ہم جب اپنی تہذیبی روایات ، سماجی رسوم اور تاریخی واقعات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوگا کہ سال بھر میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں ہوگا جو کسی تہوار سے منسوب و مربوط نہیں ہے ‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی تہواروں کا نظام قدرت و فطرت سے راست تعلق ہوتا ہے ۔ ’’ ہمارے کئی تہوار کسانوں اور ماہی گیروں سے مربوط ہیں ‘‘ ۔ وزیراعظم مودی نے گزشتہ روز جین برادری کی طرف سے منائے گئے تہوار ’’سنوتسری‘‘‘ کے علاوہ آنے والے تہواروں گنیش چتورتھی ، کیرالا میں اونم ، گجرات میں نوراتری ، مغربی بنگال میں درگا پوجا اور ملک بھر میں عیدالاضحی کا تذکرہ کیا اور قوم کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے کہا کہ ہر تہوار اعتقاد کی علامت ہوتا ہے اور اپنی خصوصیت کو اجاگر کرتا ہے ۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’’ان سلسلہ وار تہواروں میں عیدالاضحی بھی ہے جو اب سے چند دن بعد منائی جائے گی ۔ ملک کے تمام عوام کو عیدالاضحی کے موقع پر میں دلی مبارکباد اور اپنی نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں ‘‘ ۔

ڈیرا حامیوں کے تشدد پر
وزیراعظم کا بالواسطہ انتباہ
نئی دہلی ۔ /27 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج انتہائی سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اعتقاد کے نام پر کسی بھی قسم کا تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا اور خاطی کو بہرصورت سخت سزاء دی جائے گی ۔ وہ دراصل خود ساختہ سادھو ’’گرمیت رام رحیم سنگھ کے حامیوں کی طرف سے بھڑکائے گئے دیوانہ وار تشدد کا بالواسطہ حوالہ دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حق حاصل نہیں ہے بلکہ ہر کسی کو قانون کے آگے جھکنا ہوگا ۔ عدم تشدد پر مبنی ملک کی روایات یاد دلانے کے لئے لارڈ بدھا اور مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی طرف سے تیار کردہ دستور نے تمام اقسام کی شکایات کے ازالہ اور سب کیلئے انصاف کی راہ ہموار کی ہے ۔ وزیراعظم نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام’ من کی بات‘ کا اس مسئلہ سے آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایک طرف ملک مختلف تہوار منانے کی تیاریوں میں مصروف ہے تو دوسری طرف ملک کے کسی حصہ سے تشدد کی کوئی اطلاع ملتی ہے تو اس پر تشویش پیدا ہونا فطری بات ہے ‘‘ ۔
مودی نے اگرچہ کسی کا نام نہیں لیا لیکن وہ صاف طور پر ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ رام رحیم سنگھ کو عدالتی فیصلہ میں عصمت ریزی کے جرم کا مرتکب قرار دیئے جانے کے بعد ہریانہ میں اس کے حامیوں کے تشدد کا حوالہ دے رہے تھے ۔

 

TOPPOPULARRECENT