جمعیۃ علمائے ہند کی مہاکوٹمی کو تائید، شریعت کے تحفظ کیلئے ہے: حافظ پیر شبیر

تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے مودی کے تمام متنازعہ فیصلوں کی کھل کر یا درپردہ تائید کی ہے

حیدرآباد۔25نومبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے انتخابات میں جمیعۃ علماء ہند نے مہاکوٹمی کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتو ںکے مختلف نظریات رکھتے ہوئے وہ فرقہ پرستی کے خاتمہ اور دستور کی حفاظت کے لئے ایک ہوچکی ہیں اسی لئے تحفظ شریعت کیلئے یہ لازمی ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کی تائید کی جائے جو شریعت میں مداخلت نہ کرنے کا تیقن دے۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمیعۃ علماء ہند آندھرا پردیش و تلنگانہ جو کہ اضلاع کے دورہ کرتے ہوئے مہا کوٹمی امیدوارو ںکی تائید کا اعلان کر رہے ہیں نے واضح کیا کہ جمیعۃ قومی صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرچکی ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کی تائید کی جائے جو شریعت میں مداخلت نہ کرے۔انہو ںنے بتایا کہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن شریعت میں کسی بھی طرح کی مداخلت کو قبول نہیں کرسکتے اور حکومت تلنگانہ بالواسطہ طور پر شریعت میں مداخلت کرنے والی نریندر مودی حکومت کی تائید کر رہی ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستو ںمیں نظریاتی طور پر سخت اختلافات رکھنے والی سیاسی جماعتیں متحد ہو رہی ہیں تاکہ ہندستان کے سیکولر نظام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تو ایسی صورت میں ہندستانی مسلمانوں کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ حالات کس حد تک سنگین نوعیت اختیار کرچکے ہیں اور دستور کس حد تک خطرہ میں ہے۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے کہا کہ جمیعۃ علماء ہند ہندستانی علماء و مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے اور جمیعت نے کافی غور و خوص کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں ان سیاسی جماعتوں کے خلاف بالخصوص تلنگانہ راشٹر سمیتی کے خلاف مہم چلائی جائے جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی مددگار ثابت ہورہی ہے۔انہو ںنے کہا کہ ہندستان کے موجودہ حالات اور فرقہ پرستی کو جس طرح سے بڑھاوا دیا جا رہاہے اسے ختم کرنے کیلئے حکمت عملی اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے ۔صدر جمیعۃ علمائے ہند آندھرا پردیش وتلنگانہ نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کے انتخابات میں مہاکوٹمی کی کامیابی اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ یہی محاذ آئندہ مرکز میں حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے تلنگانہ ارشٹر سمیتی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی آلۂ کار کے طور پر کام کرنے والی سیاسی جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 4برسوں کے دوران جو کچھ بھی مودی حکومت نے متنازعہ فیصلے کئے ہیں ان کی کھل کر اور درپردہ تائید تلنگانہ راشٹر سمیتی نے کی ہے اور طلاق ثلاثہ مسئلہ پر ٹی آر ایس کا موقف واضح ہچکا ہے اسی لئے اسے مسلمانوں کی خیر خواہ نہیں کہا جاسکتا۔انہو ںنے بتایا کہ جمیعۃ علمائے ہند کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں مہاکوٹمی کی تائید کا فیصلہ اس بات کی ضمانت حاصل کرتے ہوئے کیا گیا ہے کہ وہ شریعت میں مداخلت کے کسی بھی عمل کو برداشت نہیں کریں گے اور کسی بھی طرح سے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT