Friday , July 20 2018
Home / Top Stories / جموں فوجی کیمپ پر دہشت گرد حملہ ، دوجونیر کمیشنڈآفیسرس ہلاک

جموں فوجی کیمپ پر دہشت گرد حملہ ، دوجونیر کمیشنڈآفیسرس ہلاک

چھ افراد زخمی ، فوج کی جوابی کارروائی ، علاقہ کی ناکہ بندی ، سخت چوکسی ، تمام قریبی اسکولس بند
جموں ۔ /10 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے وزیر پارلیمانی امور عبدالرحمن ویری نے آج کہا کہ جموں میں آج صبح کی اولین ساعتوں کے دوران ایک فوجی کیمپ پر عسکریت پسندوں کے حملے کے نتیجہ میں کم سے کم دو جونیئرکمیشنڈ آفیسرس ہلاک ہوگئے ۔ کرنل ریتک کے ایک افسر اور ایک فوجی اہلکار کی بیٹی کے بشمول چار افراد زخمی ہوگئے ۔ انہوں نے ریاستی اسمبلی کو مطلع کیا کہ صوبیدار مدن لال چودھری اور صوبیدار محمد اشرف میر عسکریت پسندوں کے اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں ۔ کرنل ریتک کے ایک افسر حوالدار عبدالحمید ، لانس نائک بہادر سنگھ اور صوبیدار چودھری کی بیٹی اور دوسرے بھی زخمیوں میں شامل ہیں ۔ بی جے پی ارکان کے احتجاج اور پاکستان کیخلاف نعرہ بازی کے درمیان وزیر پارلیمانی امور نے اپنے خطاب میں حملہ آور عسکریت پسندوں کی کسی گروپ سے وابستگی کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کیا لیکن عہدیداروں نے کہا ہے کہ جیش محمد اس دہشت گرد حملے میں ملوث ہے ڈی جی پی ایس پی وید نے کہا کہ سنجوان فوجی کیمپ میں حملہ آور دہشت گرد اندر داخل ہونے کے بعد روپوش ہوگئے تھے ۔ آئی جی پی ، ایس ڈی سنگھ باسوال نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ رات کے آخری پہر 4 بجکر 55 منٹ پر سنتری نے مشتبہ نقل و حرکت محسوس کیا اور اس کے بنکر پر فائرنگ کی گئی ۔ اس فائرنگ کا جواب دیا گیا لیکن وہاں داخل ہونے والے عسکریت پسندوں کی صحیح تعداد کا علم نہیں ہوسکا ۔ جوابی فائرنگ کے ذریعہ انہیں فیملی کوارٹرس کے ایک کونہ تک محدود کردیا گیا ۔ سیکورٹی فورسیس اور پولیس نے سنجوان فوجی کیمپ کے اطراف کے علاقہ کی ناکہ بندی کردی ۔ یہ کیمپ جموں و کشمیر لائٹ انفنیٹری کے 36 ویں بریگیڈ میں آتا ہے ۔ ایک سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ اس حملے کے فوری بعد فوج کے خصوصی فورسیس اور اسپیشل آپریشنس کارڈس کی زائد کمک اس مقام پر پہونچ گئی اور گھمسان لڑائی کے درمیان علاقہ کی مکمل ناکہ بندی کرلی گئی ۔ حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام اسکولوں کو بند کردیا ۔جموں میں سخت ترین چوکسی اختیار کرلی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT