Wednesday , December 12 2018

جموں میںیوتھ کانگریس کے احتجاجی کارکن گرفتار

جموں۔13مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے آج جموں میں ریاستی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں پولیس نے 40کارکنوں کو احتیاطی اقدام کے طور پر حراست میں لے لیا ۔ یوتھ کانگریس کے ورکرس کشمیر پہنچ کر مفتی محمد سعید کے دور حکومت میں پیش آئے موافق پاکستان اور ہندوستان مخالفت واقعات کے خلاف احتجاج اور قومی ترنگا لہرانا چ

جموں۔13مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے آج جموں میں ریاستی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں پولیس نے 40کارکنوں کو احتیاطی اقدام کے طور پر حراست میں لے لیا ۔ یوتھ کانگریس کے ورکرس کشمیر پہنچ کر مفتی محمد سعید کے دور حکومت میں پیش آئے موافق پاکستان اور ہندوستان مخالفت واقعات کے خلاف احتجاج اور قومی ترنگا لہرانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے ’مارچ ٹو کشمیر ‘کو ناکام بنادیا ۔ پولیس کی زیر حراست کارکنوں میں انڈین یوتھ کانگریس صدر امریندر سنگھ بھی شامل تھے ۔اس موقع پر امریندر سنگھ نے مطالبہ کیا کہ عسکریت لیڈروں کو قابو میں رکھنے میں ناکامی پر چیف منسٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ۔ جنہوں نے کشمیر میں پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے ہند مخالف نعرے بلند کئے تھے ۔ قبل ازیں امریندر سنگھ اور صدر جموں و کشمیر کانگریس کمیٹی غلام احمد میر کی زیر قیادت تقریباً 300کارکن اور قائدین جموں شہر سے کشمیر کی سمت روانہ ہوئے اور جب یہاں ہری نواس کراسنگ پہنچے تو سینئر عہدیداروں کی نگرانی میں پولیس کی بھاری جمعیت نے قومی شاہراہ پر ٹریفک تحدیدات کے پیش نظر بیرکیڈس نصب کر کے انہیں روک دیا ۔

تاہم کارکنوں کی کثیر تعداد بشمول راجہ ریاستی یوتھ کانگریس صدر پرنو شاہ گوترہ صدر جنوبی کشمیر نصیر میر دھرنا پر بیٹھ گئے اور بی جے پی ۔ پی ڈی پی حکومت کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے قومی ترنگا لہرا دیا اور جب ایس پی ساؤتھ شیوکمار چوہان اور ایس پی پی او سٹی پربیت سنگھ کی جانب سے یاترا ختم کرنے کی ترغیب ناکام ہوگئی اور پولیس احتیاطی اقدام کے طور پر 40کارکنوں اور لیڈروں کو حراست میں لے لیا ۔ پربیت سنگھ نے بتایا کہ جموں و کشمیر شاہراہ پر ٹریفک تحدیدات کے پیش نظر احتجاجیوں کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔بعدازاں محروسین کو پولیس لائن منتقل کردیا گیا جہاں پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے راجہ نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی ۔ پی ڈی پی حکومت نے کشمیر مارچ کو ناکام بنادیا اور پولیس کا بیجا استعمال کر کے مفتی سعید حکومت کے خلاف احتجاج اور قومی ترنگا لہرانے سے روک دیا گیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایک عام آدمی کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو مفتی سعید کے خلاف کیوں نہیں اور جو لوگ موافق بیانات دے رہے ہیں چاہے وہ امریندر سنگھ ہو یا مفتی سعید ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیئے ۔

TOPPOPULARRECENT