Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / جموں میں امتناعی احکام ناکام، کرفیو جیسا منظر، پولیس ملازم پر چاقوزنی

جموں میں امتناعی احکام ناکام، کرفیو جیسا منظر، پولیس ملازم پر چاقوزنی

سکھ نوجوان کی ہلاکت پر ایجی ٹیشن کا تیسرا دن ، فوج کا فلیگ مارچ

سکھ نوجوان کی ہلاکت پر ایجی ٹیشن کا تیسرا دن ، فوج کا فلیگ مارچ
جموں، 5 جون (سیاست ڈاٹ کام ) جموں کی صورتحال آج ’’کشیدہ‘‘ ہوگئی جبکہ سکھ نوجوانوں نے امتناعی احکام کی خلاف ورزی کی اور مختلف علاقوں میں احتجاج منعقد کئے۔ یہ تین روز پرانے ایجی ٹیشن کا حصہ ہے جو پھیلتا جارہا ہے اور مزید ایک پولیس ملازم کو چاقو گھونپ کر اس کی اے کے رائفل چھین لی گئی۔ کشمیر میں بھی احتجاج ہوئے۔ خالصتانی عسکریت پسند جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کے متنازعہ پوسٹرس نکال دینے کے خلاف آج تیسرے دن بھی سکھ نوجوان امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ۔ اس تنازعہ پر کل پولیس کے ساتھ تصادم میں ایک نوجوان ہلاک اور دیگر دو زخمی ہوگئے تھے۔ سرکاری حکام نے پورے جموں ضلع میں امتناعی احکامات ( دفعہ 144) نافذ کردیئے ہیں اور تشد سے متاثرہ ستواری، رانی باغ، گاڑی گڑھ، آر ایس پورہ میں کرفیو جیسی صورتحال ہوگئی ہے۔ سکھوں کے ایک گروپ نے جموں ۔ پٹھان کوٹ شاہرہ پر ٹائر جلا کر راستہ روک دیا اور احتجاج مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس اور حکومت کے خلاف نعرے بلند کئے ۔ اسی طرح کا احتجاج پونچھ، کٹھوا اور راجوری اضلاع میں بھی کیا گیا ۔

شہر جموں آج دکانات بند رہنے سے سنسان نظر آرہا تھا جبکہ موبائیل اور انٹرنیٹ سرویس بھی معطل کردیئے گئے ۔ جموں ریجن کے مختلف اضلاع میں اسکولس اور کالجس بند رکھے گئے ۔ شہر جموں کے حساس علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو متعین کردیا گیا ۔ پولیس نے بتایا کہ صورتحال کشیدہ لیکن قابو میں ہے جموں میں تشدد سے متاثرہ آر ایس پورہ سے ستواری کی سڑک پر فوج نے فلیگ مارچ کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے عوام میں اعتماد بحال کرنے کیلئے فوج سے تعاون کی درخواست کی تھی ۔ واضح رہے کہ پولیس اور سکھ نوجوانوں کے ایک احتجاجی گروپ کے درمیان تصادم میںکل ایک نوجوان جگجیت سنگھ ہلاک اور دیگر 7 افراد بشمول 3پولیس ملازمین زخمی ہوئے جبکہ نوجوان عسکریت پسند لیڈر بھنڈراں والے کے تصویری پوسٹرس نکال دینے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہے تھے ۔ اس دوران ڈاکٹروں نے بتایا کہ تین زخمی پولیس ملازمین کی حالت تشویشناک ہے ۔ چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید اور ڈپٹی چیف منسٹر ترمل سنگھ کی جانب سے برقراری امن کی اپیل کے باوجود علاقہ میں پر تشدد واقعات پیش آئے ہیں جبکہ ترمل سنگھ نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ بہت جلد حالات معمول پر آجائیں گے اور سکھ برادری کے قائدین سے بات چیت کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT