Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / جموں میں بادل پھٹ پڑے اور سیلاب، 13 ہلاک

جموں میں بادل پھٹ پڑے اور سیلاب، 13 ہلاک

جموں ، 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے اضلاع ڈوڈا، کشٹواڑ اور اُدھم پور میں بادل پھٹ پڑنے، یکایک سیلابی صورتحال اور زمینی تودے کھسکنے کے علحدہ واقعات میں تیرہ افراد ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہوچکے ہیں۔ آفت سماوی نے بڑی تباہی مچائی ہے۔)
٭ اسلام آباد(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے دو یوم میں دوسری بار ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور ایل او سی پر ہندوستانی فوجیوں کی مبینہ خلاف ورزی پر 2 شہری ہلاک ہونے پر احتجاج درج کرایا۔

ملبہ میں پھنسے افراد کو نکالنے جنگی خطوط پر اقدامات، قومی شاہراہ بند کردی گئی، برقی و پانی کی سربراہی مسدود

جموں ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈا کے کھاتری ٹاؤن میں آج اچانک سیلاب اور بادل پھٹ پڑنے کے سبب بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس میں 6 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے۔ سیلاب کے سبب بتوٹے۔ کشتوار قومی شاہراہ کے اطراف کئی علاقے زیرآب آ گئے اور بے شمار مکانات بہہ گئے۔ پولیس نے بتایا کہ 11 افراد کو ملبہ سے بچا لیا گیا ہے جبکہ مزید کئی افراد کے پھنسنے کا اندیشہ ہے۔ بادل پھٹ پڑنے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 6 مکانات، دو دکانات اور ایک اسکول کو نقصان پہنچا۔ پولیس عہدیدار نے بتایا کہ ٹاؤن کے جامع مسجد علاقہ میں اچانک سیلاب اور بادل پھٹ پڑنے کی وجہ سے نالوں میں پانی کا بہاؤ کافی بڑھ گیا۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ہیڈکوارٹرس) ڈوڈا افتخار احمد نے بتایاکہ بادل پھٹ پڑنے کی وجہ سے پانی کی سطح اور بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوگیا اور کئی عمارتیں اس کی زد میں آ گئی۔ مارکٹ میں فٹ پاتھ پر کئی دکانات منہدم ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 6 افراد بشمول 5 خواتین کی نعشیں ملبہ سے نکالی گئی ہیں۔ 11 افراد جو زخمی ہوگئے تھے انہیں بحفاظت نکال لیا گیا اور ہاسپٹل منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ نگنی دیہات کا ایک شخص دیوراج اپنی 40 سالہ بیوی نارو دیوی اور تین بچوں سے محروم ہوگیا اور ان کی نعشیں برآمد کرلی گئیں۔

اس کے علاوہ دیگر دو مہلوکین کی 45 سالہ پٹنہ دیوی اور 15 سالہ شریشتا دیوی کی حیثیت سے شناخت کی گئی۔ ترجمان نے بتایا کہ زخمیوں کو تھاٹری کے پرائمری ہیلت سنٹر میں شریک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملبہ میں مزید کئی افراد پھنسے ہوئے ہیں اور مہلوکین کی تعداد میں اضافہ کا اندیشہ ہے۔ نقصانات اور تباہی کا فوری طور پر اندازہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ راحت کاری کام جاری ہے۔ ضلع انتظامیہ، پولیس اور فوج نے جنگی خطوط پر راحت کاری اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ بتوٹے ۔ ڈوڈا ۔ کشتوار قومی شاہراہ کو بند کردیا گیا ہے کیونکہ بادل پھٹ پڑنے کی وجہ سے تھاٹری مارکٹ میں عمارتیں منہدم ہوگئیں اور سڑک پر رکاوٹیں پیدا ہوگئی۔ سارے علاقہ میں پانی اور برقی سربراہی منقطع ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راحت کاری اقدامات ابھی جاری ہے۔ نقصانات کے بارے میں فوری طو رپر تفصیلات نہیں بتائی جاسکی۔ عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور ملبہ کی صفائی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی آمد و رفت پر بھی کافی اثر پڑا۔ انہوں نے کہاکہ مہلوکین کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ کئی افراد ملبہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT