Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / جموں میں قیام ایمس کے مطالبہ پر بند

جموں میں قیام ایمس کے مطالبہ پر بند

احتجاجیوں کے خلاف پولیس کی غنڈہ گردی کا الزام
جموں ۔ 4 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام) : علاقہ جموں میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے قیام کے مطالبہ پر ایمس رابطہ کمیٹی کا احتجاج آج پانچویں دن میں داخل ہوگیا جس کے دوران مظاہرے اور مکمل بند منایا گیا ۔ ایمس ایکٹ 2012 کے مطابق علاقہ میں میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے لیے نوٹیفیکیشن کی اجرائی کا اصرار کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی نے جاریہ احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا انتباہ دیا ہے ۔ دریں اثنا رابطہ کمیٹی کی زنجیری بھوک ہڑتال آج پندرہویں دن میں داخل ہوگئی اور تقریبا 40 افراد احتجاجی دھرنا پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ احتجاجی تحریک کے سلسلہ میں 30 جولائی سے جاری بند کے دوران آج تو تجارتی ادارے ، بازار ، دکانات عموماً بند رکھے گئے اور عوامی ٹرانسپورٹ کو سڑکوں سے ہٹا دیا گیا تاہم بعض علاقوں میں چند ایک دکانات کھلی رہیں احتجاجیوں نے شہر کے مختلف مقامات کی سڑکوں پر ٹائر جلاکر ڈال دینے سے ٹریفک منقطع ہوگئی ۔ پولیس نے بتایا کہ تحدیدات کی خلاف ورزی پر بند کے دوران تقریبا 50 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ۔ جس میں 30 کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ۔ ایس پی جموں مسٹر راجیوپانڈے نے بتایا کہ آج بند کے دوران صورتحال پرامن رہی اور کسی بھی مقام سے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے ۔ بعض مقامات پر احتجاجیوں کو حراست میں لے لیا گیا جب کہ بعض علاقوں میں دکانات کو کھول دیا گیا ۔ بھوک ہڑتال کیمپ سے مخاطب کرتے ہوئے صدر نشین رابطہ کمیٹی اور صدر جموں بار اسوسی ایشن ابھنیو شرما نے الزام عائد کیا کہ احتجاجی تحریک کو کچل دینے کے لیے بی جے پی پولیس فورس کا استعمال کررہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس احتجاجیوں کے ساتھ ظالمانہ طریقہ سے پیش آرہی ہے ۔ احتجاجیوں پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل داغے جارہے ہیں حتی کہ ہماری گاڑیوں کے شیشوں کو سلاخوں سے توڑ دیا جارہا ہے ۔ یہ کارروائی بی جے پی وزراء کی ہدایت پر کی جارہی ہے ۔ مسٹر شرما نے خبردار کیا کہ اگر حکومت عوام کے جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایمس کے قیام کیلئے نوٹیفیکیشن کی اجرائی میں ٹال مٹول کرے گی تو احتجاج میں شدت پیدا کردی جائے گی جس کے عواقب و نتائج بی جے پی کو بھگتنے پڑینگے ۔۔

TOPPOPULARRECENT