Wednesday , July 18 2018
Home / ہندوستان / جموں وکشمیر اسمبلی میں سرحدی کشیدگی پر ہنگامہ آرائی

جموں وکشمیر اسمبلی میں سرحدی کشیدگی پر ہنگامہ آرائی

سری نگر، 5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جموں صوبہ میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد پر مسلسل گولہ باری اور راجوری میں اتوار کی شام پاکستانی فائرنگ میں ایک کیپٹن سمیت 4 فوجیوں کی ہلاکت پر پیر کو جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جس کے دوران بی جے پی اراکین کی جانب سے ‘پاکستان مردہ باد’ جبکہ اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی جانب سے حکومت مخالف نعرے بازی کی گئی۔ شدید ہنگامہ آرائی کے پیش نظر اسپیکر کویندر گپتا کو ایوان کی کاروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کرنا پڑی۔ پیر کی صبح جوں ہی ایوان کی کاروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے سرحدی کشیدگی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کی۔ نیشنل کانفرنس کے رکن میاں الطاف احمد نے سرحدی کشیدگی پر بولتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس تشویشناک مسئلے پر بیان دینا چاہیے ۔ حکومت کا کہنا تھا کہ مسئلے پر وقفہ سوالات کے اختتام پر بیان دیا جائے گا۔ اس دوران بی جے پی کے شعلہ بیان ایم ایل اے رویندر رینا اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور مطالبہ کرنے لگے کہ سرحدوں پر مسلسل گولہ باری کے تناظر میں پاکستان کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کی جانی چاہیے ۔ تاہم اپوزیشن اراکین نے سرحدی کشیدگی کے لئے ریاستی اور مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ نیشنل کانفرنس رکن دیویندر سنگھ رانا احتجاج کرتے ہوئے ایوان چاہ میں داخل ہوئے ۔

TOPPOPULARRECENT