Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / جموں وکشمیر پولیس کی کشمیری جنگجوؤں کو خودسپردگی کی تازہ پیشکش

جموں وکشمیر پولیس کی کشمیری جنگجوؤں کو خودسپردگی کی تازہ پیشکش

سرینگر ، 16 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر رینج کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) منیر احمد خان نے کشمیری جنگجوؤں کو ہتھیار چھوڑ کر دوبارہ عام زندگی گذر بسر کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر میں گذشتہ تین دنوں کے دوران 3 مقامی جنگجوؤں اور ایک بالائی زمین ورکر کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی ایجنسیاں اپنے اس موقف پر ڈٹی ہوئی ہے کہ خودسپردگی اختیار کرنے والے کشمیری جنگجوؤں کی بازآبادکاری کی جائے گی۔وہ چاہیں تو مسلح جھڑپوں کے دوران بھی خودسپردگی اختیار کر سکتے ہیں۔ کشمیر پولیس سربراہ نے ان باتوں کا اظہار پیر کو یہاں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مذکورہ نیوز کانفرنس میں فوج اور سی آر پی ایف کے سینئر عہدیدار بھی موجود تھے ۔ منیر خان نے کہا کہ حالیہ بینک ڈکیتیوں میں حزب المجاہدین ملوث ہے ۔ انہوں نے گرفتاریوں کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا ’14 اکتوبر کو دو جنگجوؤں نے جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ میں پولیس اہلکاروں سے ان کے ہتھیار چھیننے کے لئے ہوائی فائرنگ کی تاکہ پولیس اہلکاروں اور مقامی لوگوں کو ڈرایا جاسکے ۔ لیکن مقامی لوگوں نے شور مچایا جس کی وجہ سے جنگجوؤں کو پیچھے ہٹنا پڑا’۔ آئی جی پی نے کہا ‘یہ اطلاع ملنے پر فوج، پولیس اور سی آر پی ایف نے ایک مشترکہ چیک پوائنٹ قائم کیا۔ اس چیک پوائنٹ پر موٹر سائیکل پر سوار دونوں جنگجوؤں کو گرفتار کیا گیا’۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار شدہ جنگجوؤں کے قبضے سے ایک پستول، گولہ بارود اور ایک گرینیڈ برآمد کیا گیا۔ انہوں نے کہا ‘دونوں کی شناخت لشکر طیبہ کے خورشید احمد ڈار اور ہازق راتھر کے بطور کی گئی’۔ آئی جی پی خان نے کہا کہ ضلع پلوامہ کے نارستان ترال میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر ایس او جی ، فوج اور سی آر پی ایف نے مذکورہ علاقہ میں مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا۔

TOPPOPULARRECENT