Saturday , February 24 2018
Home / ہندوستان / جموں وکشمیر کی صورتحال ابتر ، مرکز و ریاست ذمہ دار

جموں وکشمیر کی صورتحال ابتر ، مرکز و ریاست ذمہ دار

گرفتارشدہ پاکستانی عسکریت پسند کا جیل حکام کی تحویل سے فرار ہونا تشویشناک:کانگریس
نئی دہلی ۔ 7 فبروری ۔( سیاست ڈاٹ کام ) سرینگر کے ایک اسپتال سے لشکر طیبہ کے گرفتار شدہ عسکریت پسند کی دلیرانہ فراری کا مسئلہ آج راجیہ سبھا میں اُٹھایا گیا جس میں کانگریس نے کہاکہ جموں و کشمیر کی صورتحال ابتر ہوچکی ہے ۔ وقفۂ صفر کے دوران یہ مسئلہ اُٹھاتے ہوئے اپوزیشن کے لیڈر اور سینئر کانگریس رکن غلام نبی آزاد نے کہاکہ نہ صرف سرینگر بلکہ جموںخطہ کی صورتحال بھی ابتر ہوگئی ہے ۔ اگرچہ حکومت ریاست میں صورتحال گزشتہ دہے کے مقابل بہتر ہونے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن حقیقت حال مختلف ہے ۔ گزشتہ روز 22 سالہ محمد نوید جھٹ عرف ابوحنظلہ جیل والوں کی تحویل سے فرار ہوگیا۔ اُسے میڈیکل چیک اپ کیلئے سرینگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہاسپٹل لایا گیا تھا ، جہاں اُس کی حفاظت کرنے والے جیل ملازمین پر اُس کے ساتھیوں نے فائرنگ کرکے اُسے فرار ہونے میں مدد کی ۔ غلام نبی آزاد نے یہ سوال بھی کیا کہ محمد نوید جو ایک پاکستانی ہے اور جسے 2014 ء میں گرفتار کیاگیا تھا اُسے سیویلین ہاسپٹل کیوں لے جایا گیا؟ حالانکہ اُسے آرمی ہاسپٹل سے رجوع کرنا چاہئے تھا ۔ انھوں نے کہاکہ یہ واقعہ ریاستی حکومت ، مرکز اور ملک کے بارے میں کوئی اچھی تصویر نہیں پیش کرتا ہے ۔ حکومت کو چوکس رہنا چاہئے تاکہ اس طرح کی صورتحال کا اعادہ نہ ہونے پائے ۔ کانگریس لیڈر نے جموں و کشمیر کی ابتر سکیورٹی صورتحال کے بارے میں جاریہ یا آئندہ پارلیمانی سیشن میں مباحث کا مطالبہ کیا۔ویویک تنکھا (کانگریس) نے کہاکہ کشمیری پنڈتوں کی وادی کو واپسی کو یقینی بنانے کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہئے جس کے لئے مذاکرات ضروری ہیں۔

یوپی اقلیتی کمیشن میں مطلقہ کی شمولیت
لکھنو۔ 7 فبروری ۔( سیاست ڈاٹ کام ) یوگی ادتیہ ناتھ کی حکومت نے منگل کو اترپردیش اقلیتی کمیشن تشکیل دیا جس میں 9 ممبران میں ایک تین طلاق یافتہ صوفیہ احمد شامل ہے۔کانپور سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے ایک سینئر لیڈراور پارٹی کی اقلیتی ونگ کے سابق صدر تنویر احمد عثمانی کو صوبہ کے اقلیتی کمیشن کا چیئرمین منتخب کیا گیاہے ۔صوفیہ جو کہ تین طلاق سے متاثرہ ہے ، بی جے پی میں ایک سال قبلشامل ہوئی تھیں اور وہ سپریم کورٹ میں داخل عرضی کی درخواست دہندگان میں سے ایک ہیں جو ایک ساتھ تین طلاق کو چیلنج کرنے کیلئے داخل کی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT