Wednesday , December 12 2018

جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو فائدہ نہیں ہوگا

حیدرآباد۔10۔ڈسمبر (سیاست نیوز) جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں رائے دہی کے فیصد میں اضافہ سے بی جے پی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کشمیر کے عوام ریاست میں پھر ایک مرتبہ سیکولر جماعت کے برسر اقتدار آنے کے حق میں ہیں۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے کشمیر میں پارٹی کی انتخابی مہم میں مصروف سینئر قائد محمد علی شبیر نے آج سیاست کو بتایا کہ صدر کان

حیدرآباد۔10۔ڈسمبر (سیاست نیوز) جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں رائے دہی کے فیصد میں اضافہ سے بی جے پی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کشمیر کے عوام ریاست میں پھر ایک مرتبہ سیکولر جماعت کے برسر اقتدار آنے کے حق میں ہیں۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے کشمیر میں پارٹی کی انتخابی مہم میں مصروف سینئر قائد محمد علی شبیر نے آج سیاست کو بتایا کہ صدر کانگریس سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی کے انتخابی دوروں کا عوام پر مثبت اثر پڑا ہے۔ توقع ہے کہ اس مرتبہ کانگریس پارٹی گزشتہ اسمبلی انتخابات سے بہتر مظاہرہ کرے گی۔ موجودہ اسمبلی میں کانگریس ارکان کی تعداد 16 ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ وہ بڑی پارٹی کے طور پر ابھرے گی اور تشکیل حکومت میں کانگریس کا اہم رول رہے گا۔ محمد علی شبیر جو پارٹی مہم کے انچارج غلام نبی آزاد کے ساتھ انتخابی مہم میں مصروف ہیں، بتایا کہ وادی کشمیر اور جموں میں کانگریس کا مظاہرہ بہتر رہے گا۔

ان کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے دیگر قا ئدین کی انتخابی مہم سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ صرف جموں میں بی جے پی اثر انداز ہوسکتی ہے جبکہ وادی کشمیر اور لداخ میں رائے دہندے بی جے پی سے خوش نہیں۔مرکز نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران نریندر مودی حکومت کی کارکردگی سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ کشمیر کے عوام اچھی طرح جانتے ہیںکہ صرف انتخابی فائدہ کے لئے بی جے پی نے کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دفعہ 370 کے مسئلہ کو پس پشت ڈال دیا ہے جبکہ پارٹی کے قومی ایجنڈہ میں یہ مسئلہ موجود ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کشمیر کے عوام فرقہ پرست ایجنڈہ پر کارفرما بی جے پی کو ہرگز اقتدار حوالے نہیں کریں گے۔ ریاست میں آئندہ جو بھی حکومت ہوگی ،

وہ سیکولر جماعتوں پر مبنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کو بی جے پی اپنے حق میں عوامی رجحان تصور کر رہی ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی کثیر تعداد نے رائے دہی میں حصہ لینا فرقہ پرستوں کو اقتدار سے روکنے ، ان کے عزم کا اظہار ہے۔ راجوری سیکٹر کے انتخابی حلقوں میں کانگریس کی مہم میں مصروف محمد علی شبیر نے بتایا کہ حالیہ سیلاب کے سبب جو تباہی ہوئی ہے، اس کے متاثرین کو مرکز کی جانب سے ابھی تک امداد فراہم نہیں کی گئی۔ بازآبادکاری سے متعلق حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ کشمیر میں کوئی بھی سیکولر جماعت یا سیکولر جماعتوں کا اتحاد حکومت تشکیل دے لیکن فرقہ پرستوں کو برسر اقتدار آنے کا موقع نہ دیا جائے ۔ محمد علی شبیر گزشتہ ایک ہفتہ سے کشمیر میں اے آئی سی سی کی جانب سے انتخابی مبصر کی حیثیت سے سرگرم ہیں۔ وہ 18 ڈسمبر تک انتخابی مہم جاری رکھیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے غلام نبی آزاد انتخابی مہم کے نگران ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین اور پارٹی امیدوار جہاں بھی انتخابی مہم کے لئے پہنچ رہے ہیں، وہاں عوام کی جانب سے شاندار استقبال کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT