Wednesday , January 17 2018
Home / ہندوستان / جموں و کشمیر اسمبلی سے اپوزیشن جماعتوں کا واک آؤٹ

جموں و کشمیر اسمبلی سے اپوزیشن جماعتوں کا واک آؤٹ

سری نگر۔/28اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر اسمبلی سے آج اپوزیشن جماعتوں نے مختلف مسائل پر احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا اور نعرہ بازی کی۔ پی ڈی پی، بی جے پی اور نیشنل پینتھرس پارٹی نے مختلف مسائل بشمول متعلقہ حلقہ جات کیلئے الاٹ کئے گئے فنڈز میں امتیازی سلوک، بڑھتا ہوا افراطِ زر اور مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کی بازآبادکاری کے مسئلہ

سری نگر۔/28اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر اسمبلی سے آج اپوزیشن جماعتوں نے مختلف مسائل پر احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا اور نعرہ بازی کی۔ پی ڈی پی، بی جے پی اور نیشنل پینتھرس پارٹی نے مختلف مسائل بشمول متعلقہ حلقہ جات کیلئے الاٹ کئے گئے فنڈز میں امتیازی سلوک، بڑھتا ہوا افراطِ زر اور مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کی بازآبادکاری کے مسئلہ پر احتجاج کرتے ہوئے جموں کشمیر اسمبلی سے واک آؤٹ کردیا۔ سی پی آئی ایم قائد ایم وائی تریگامی، این پی پی ارکان اسمبلی کی حمایت کے ساتھ اس وقت پہلی بار واک آؤٹ کیا جب اسپیکر اسمبلی مبارک گل نے ریاست میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراطِ زر میں اضافہ کے مسئلہ پر قرارداد کو خارج کردیا۔ اس موقع پر این پی پی ارکان نے افراطِ پر کنٹرول کرو، بڑھتی ہوئی مہنگائی پر لگام لگاؤ، غریبوں کے ساتھ انصاف کرو جیسے نعرے لگارہے تھے۔ قبل ازیں انہوں نے کچھ دیر کیلئے ایوان اسمبلی میں بھی دھرنا منظم کیا جب اسپیکر اسمبلی نے ان کے مطالبات کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ بعد ازاں یہ ارکان اسمبلی سی پی آئی ایم لیڈر تریگامی کے ساتھ شامل ہوگئے اور اسمبلی سے واک آؤٹ کردیا۔

اس طرح پی ڈی پی ارکان اسمبلی سوائے بشیر الدین کے بھی اسمبلی سے اس وقت واک آؤٹ منظم کیا جب مختلف حلقہ جات میں ترقیاتی امور کیلئے الاٹ کئے گئے فنڈس میں ابتدائی سلوک کے سوال پر برسراقتدار جماعت کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔پی ڈی پی رکن اسمبلی چودھری ذوالفقار علی نے الزام عائد کیا کہ 50فیصد الاٹمنٹ کی اجرائی ان حلقوں کیلئے عمل میں آئی ہے جہاں سے وزراء نمائندگی کرتے ہیں۔ جبکہ مابقی حلقوں کو نظر انداز کردیا گیا۔ دوسری طرف وقفہ سوالات کے فوری بعد بی جے پی ارکان نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی جانب سے کی جارہی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی پر ایوان اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور کی جائے۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کی بازآبادکاری سے متعلق قرارداد کو اسپیکر کی جانب سے مسترد کردیئے جانے پر سوال اٹھایا۔ دریں اثناء اسپیکر اسمبلی نے تمام ارکان سے خواہش کی کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزی پر احتجاج ترک کردیں کیونکہ یہ مسئلہ مرکزی حکومت سے تعلق رکھتا ہے اور مرکز اس حوالے سے ضروری اقدامات کررہا ہے۔انہوں نے بی جے پی ارکان اسمبلی سے سوال کیا کہ کیا وہ وزیر اعظم پر بھروسہ نہیں کرتے؟۔ یہ معاملہ مرکز سے تعلق رکھتا ہے اور مرکزی حکومت اس حوالے سے مطلوبہ اقدامات انجام دے رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT