Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / جموں و کشمیر اسمبلی کے ارکان کی حلف برداری میں تنازعہ

جموں و کشمیر اسمبلی کے ارکان کی حلف برداری میں تنازعہ

جموں 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید اور سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے دیگر 83 ارکان کے ساتھ آج بارہویں جموں و کشمیر اسمبلی کی رکن کی حیثیت حلف لیا جبکہ اسمبلی کا باقاعدہ اجلاس سے شروع ہوگیا ۔ عبوری اسپیکر محمد شفیع نے 89 رکنی اسمبلی میں 85 ارکان کو حلف دلوایا سکریٹری جموں و کشمیر اسمبلی مسٹر ایم رمضان نے م

جموں 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید اور سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے دیگر 83 ارکان کے ساتھ آج بارہویں جموں و کشمیر اسمبلی کی رکن کی حیثیت حلف لیا جبکہ اسمبلی کا باقاعدہ اجلاس سے شروع ہوگیا ۔ عبوری اسپیکر محمد شفیع نے 89 رکنی اسمبلی میں 85 ارکان کو حلف دلوایا سکریٹری جموں و کشمیر اسمبلی مسٹر ایم رمضان نے میڈیا کو یہ اطلاع دی اور بتایا کہ دیگر 4 ارکان قومی شاہراہ بند ہوجانے اور فضائی خدمات درہم برہم ہوجانے کے باعث کشمیر میں پھنس گئے ہیں جس کے باعث آج وہ حلف نہیں لے سکے ۔ ریاستی وزیر سنیل شرما اور دیگر 5 ارکان جو کہ برفباری سے سڑکیں بند ہوجانے کے باعث مختلف مقامات پر پھنس گئے تھے انہیں سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعہ جموں لایا گیا اگرچہ اسمبلی کی کارکردگی کا آغاز آج ارکان کی حلف برداری کے ساتھ ہوا لیکن اس کی تشکیل ماہ جنوری میں عمل میں آئی تھی جبکہ معلق اسمبلی کے باعث تشکیل حکومت میں تاخیر ہوئی تھی۔ مفتی محمد سعید اور عمر عبداللہ نے انگریزی اور ڈپٹی چیف منسٹر نرمل سنگھ نے ہندی میں حلف لیا ۔ جبکہ وزیر صحت لال سنگھ ‘وزیر فینانس پون کمار گپتا نے ڈوگری زبان میں اور آزاد رکن اسمبلی حکیم یسین نے کشمیری زبان میں راجہ منظور خان نے گوجری زبان میں اور دیگر ارکان نے ہندی ‘اردو اور انگریزی میں حلف لیا ۔ مفتی محمد سعید ‘ضلع اننت ناگ کے بیج بہرہ میں 12 جنوری 1936 کو پیدا ہوئے اور آج بحیثیت رکن اسمبلی پانچویں مرتبہ حلف لیا ۔

وہ بالتریب 2008‘2002‘1967‘1962 میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے اگرچہ عمر عبداللہ نے آج دوسری مرتبہ بحیثیت رکن اسمبلی حلف لیا لیکن وہ سرینگر سے دو مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔ دریں اثناء بی جے پی رکن اسمبلی رویندر رائینا نے آج ایک تنازعہ پیدا کردیا ۔ انہوں نے بحیثیت ایم ایل اے بھگوان کی بجائے ماتا ویشنو دیوی کے نام حلف لیا جس پر اپوزیشن نے شدید اعتراض کیا ۔ مسٹر رائینا جو کہ نوشیرہ اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئے ہیں اور ریاستی بی جے پی یوتھ ونگ کے صدر ہیں ۔ کرسی صدارت کے قریب پہنچے اور ماتا ویشنو دیوی کے نام پر حلف لیا جبکہ انہیں یہ کہنا تھا میں ایشور کے نام پر شپتھ ( حلف ) لیتا ہوں ۔ اس کے بجائے انہو ںنے کہا کہ میں ماتا وشنو دیوی کے نام پر شپتھ لیتا ہوں۔ جس کے ساتھ ہی سی پی ایم کے رکن اسمبلی ایم وائی تریگامی نے اعتراض کیا اور بتایا کہ حلف لینے کیلئے ایک متعینہ طریقہ کار (فارمٹ ) موجود ہے جس کے مطابق صرف ایشور یا گاڈ کے نام پر حلف لیا جاتا ہے اور ماتا ویشنو دیوی کے نام پر حلف کی کوئی گنجائش نہیں ۔ انہیں ایشور کے نام پر ہی حلف لینا ہوگا ۔

اپوزیشن کے دیگر ارکان بشمول نیشنل کانفرنس کانگریس نے تریگا می کے اعتراض کی تائید کی تاہم عبوری اسپیکر محمد شفیع نے مداخلت کرتے ہوئے رائینا سے کہا کہ ایشور کے نام پر دوبارہ حلف لیں جبکہ رائینا نے اپوزیشن کو یہ قائل کروانے کی کوشش کی کہ وہ ماتا وشنو دیوی کے بھکت ہیں اور انہیں ایشور مانتے ہیں۔ بی جے پی ایم ایل اے نے یہ استدلال پیش کیا کہ بعض لوگ یسوع اور اللہ کے نام پر حلف لیتے ہیں تو وہ کیوں نہیں ماتا وشنو دیوی کے نام پر حلف نہیں لے سکتے ۔ اگر میں نے ایسا کیا ہے تو یہ میرے بھگوان کیلئے حقیقی احترام ہوگا ۔ اس بیان پر وزیٹرس گیلری میں بیٹھے ہی ان کے حامیوں نے تھالیاں بجا کر خیر مقدم کیا ۔ جس پر اپوزیشن نیشنل کانفرنس کے بنچوں سے اعتراض کیا گیا اور کہا کہ یہ کوئی سیاسی جماعت کا اجلاس نہیں ہے اور ارکان اسمبلی کو چاہئے کہ اسمبلی کے ضابطوں کی پابندی کرنے اپنے حامیوں کو ہدایت دیں بعدازاں ڈپٹی چیف منسٹر نرمل سنگھ کی مداخلت پر رویندر رائینا نے ہندی میں ایشور کے نام پر حلف لیا ۔ وہ بی جے پی میں شمولیت سے قبل آر ایس ایس کارکن تھے ۔ انہوں نے ہندوستانی بحریہ میں کمشینڈ آفیسر کی حیثیت سے استعفی دیدیا تھا ۔ مسٹر رائینا اسمبلی عمارت سے باہر نکلتے ہی ایک ترنگا لہرایا اور اپنے حامیوں کے ساتھ بھارت ماتا کی جئے نعرے بلند کئے۔

TOPPOPULARRECENT